← Raz e HayatRaz e Hayat
اُلٹا نتیجہ
Urdu · 5 min read
سبھاش ایک ڈاکو تھا جو ڈاکہ زنی کے 20 واقعات میں ماخوذ تھا۔ پولیس نے اس کو زندہ یا مردہ پکڑنے پر پندرہ ہزار روپیہ نقد انعام کا اعلان کیا تھا۔
13 دسمبر 1983 کا واقعہ ہے۔ دہلی کی ایک پولیس پارٹی اپنے میٹا ڈورپر انکم ٹیکس آفس کے پاس سڑک پر تھی۔ اس نے دیکھا کہ سامنے سے ایک سفید فیٹ کارآرہی ہے۔ پولیس کی گاڑی کے قریب آکر اچانک اس نے یوٹرن (U.Turn) لیا۔ یعنی گھوم کر پیچھے کی طرف واپس ہو گئی۔ پولیس والوں کو شبہ ہوا اور انھوں نے کار کا پیچھا کیا۔ پولیس کی گاڑی جب بالکل قریب پہنچ گئی تو کارکے مسافروں نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ شروع کر دی۔
اب پولیس پارٹی کو یقین ہو گیاکہ اس کے اند رکوئی مجرم بیٹھا ہوا ہے۔ چنانچہ پولیس والوں نے بھی جواب میں کار کے اوپر فائر کیے۔ مگر کار آگے کی طرف بھاگتی رہی اور بالآخر نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ تاہم اسی شام کو شاہدرہ اسپتال کے قریب ایک لاش سڑک پر پڑی ہوئی ملی۔یہ مذکورہ ڈاکو سبھاش کی لاش تھی۔ پولیس کی گولیوں سے زخمی ہو کر وہ جلد ہی مر گیا تو اس کے بقیہ چار ساتھیوںنے اس کو کار سے نکال کر باہر سڑک پر پھینک دیا اور خود آگے کی طرف روانہ ہو گئے۔ (ٹائمس آف انڈیا؛ ہندوستان ٹائمس ، 14 دسمبر 1983)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کبھی بچائو کا اقدام الٹا پڑتا ہے۔ سفید کا روالے اگر معمول کے مطابق اپنے راستہ سے گزر گئےہوتے تو ممکن تھا کہ وہ پولیس کی زد سے بچ جاتے۔ مگر جب انھوں نے اپنے بچائو کے لیے جارحانہ اقدام کیا تو وہ ہلاکت کے منہ میں جا پڑے۔
اس دنیا میں ہرآدمی کی سوجھ بوجھ کا امتحان لیا جا رہا ہے۔ جن لوگوں کا حال یہ ہو کہ وہ جس مخالف چیز کو دیکھیں اس سے لڑنے کے لیے آمادہ ہو جائیں وہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اس دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے کبھی مقابلہ کرنا ہوتا ہے اور کبھی اعراض کرنا پڑتا ہے۔ کبھی سامنے کی سڑک سے چلناہوتا ہے اور کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ آدمی دائیں یا بائیں سے کترا کر آگے بڑھ جائے۔ یہ دنیا ہوش مندی کا امتحان ہے،یہاں وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جو اس نازک امتحان میں پورا اترے۔
کامیابی کا راز یہاں ہے
یہ مدراس کا واقعہ ہے۔ سمندر کے ساحل پر دو نوجوان نہا رہے تھے۔ دونوں دوست تھے اور تیراکی اچھی جانتے تھے۔ وہ پانی کے اوپر اوپر بھی تیرتے تھے اور ڈبکی لگا کرپانی کے اندر اندربھی دور تک نکل جاتے تھے۔ دونوں تیرتے ہوئے دور تک چلے گئے۔ اس کے بعد موجوں کا ایک تھپیڑا آیا۔ دونوں اس کی زد میں آگئے۔ ایک نوجوان زیادہ ماہر تھا— ’’میں موجوں سے لڑ کر پار ہو جائوں گا‘‘۔اس نے کہا اور موجوں کے مقابلہ میں اپنی تیراکی کا کمال دکھانے لگا۔ مگر موجوں کا زور زیادہ تھا،وہ اپنے طاقت ور بازوئوں کے باوجود ان سے نکلنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اور ڈوب کرمرگیا۔
دوسرا نوجوان بھی طوفان کی زد میں آیا۔ تھوڑی دیر اس نے اپنے ساتھی کی پیروی کی۔ اس کے بعد اس نے محسوس کر لیا کہ موجوں کی شدت اس سے زیادہ ہے کہ میرے بازو اس کا مقابلہ کر کے نکلنے میں کامیاب ہو سکیں۔ اچانک اس کو ایک بات یاد آئی۔ اس نے سنا تھاکہ موجیں خواہ کتنی ہی شدید ہوں ان کا زور اوپر اوپر رہتا ہے۔ پانی کی نیچے کی سطح پھر بھی ساکن رہتی ہے۔ اس کے بعد اس نے اپنا طریق عمل بدل دیا۔ اوپر کی موجوں سے لڑنے کے بجائے اس نے نیچے کی طرف ڈبکی لگائی اور پانی کی نچلی سطح پر پہنچ گیا۔ یہاں پانی نسبتاً ٹھہرا ہوا تھا اور اس کے لیے ممکن تھا کہ وہ اپنے تیرنے کے فن کو کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکے۔ اس نے ساحل کی طرف تیرنا شروع کر دیا۔ اگرچہ وہ کافی تھک چکا تھا۔ تاہم ہاتھ پائوں مارتے ہوئے بالآخر وہ سمندر کے کنارے پہنچ گیا۔ کنارے پہنچتے پہنچتے وہ بےہوش ہوچکا تھا۔ سمندر کے کنارے چند ملاح اپنی کشتیاں لیے ہوئے موجود تھے۔ انھوں نے فوراً اس کو دیکھ کر اٹھایا اورخشکی پرلے گئے۔ اس کے بعد اس کو ہسپتال پہنچایاگیا۔ وہاں چنددن زیرِعلاج رہ کر وہ اچھا ہو گیا— جس نے موجوں سے لڑنے کو تیراکی سمجھا تھا وہ ہلاک ہو گیااور جس نے موجوں سے کترا کر نکلنے کا طریقہ اختیار کیا وہ کامیاب رہا۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
یہی معاملہ پوری زندگی کا ہے۔ زندگی میں طرح طرح کے طوفان آتے ہیں۔ مگرعقل مندی یہ نہیں ہے کہ جو تھپیڑا سامنے آئے بس آدمی اس سے لڑناشروع کر دے۔ عقل مندی یہ ہے کہ آدمی جائزہ لے کر دیکھے کہ کامیابی کے ساتھ ساحل تک پہنچنے کا زیادہ قابلِ عمل راستہ کون سا ہے۔ اور جو راستہ قابلِ عمل ہو اسی کو اختیار کرے خواہ وہ موجوں کی سطح سے اتر کر نیچے نیچے اپنا راستہ بناناکیوں نہ ہو۔ یہ قدرت کا انتظام ہے کہ دریائوں اور سمندروں میں جو تیز وتند موجیں اٹھتی ہیں وہ پانی کے اوپر اوپر رہتی ہیں۔ پانی کے نیچے کی سطح ساکن رہتی ہے۔ چنانچہ بھنور کے وقت مچھلیاں نچلی سطح پر چلی جاتی ہیں۔ یہ قدرت کاسبق ہے۔ اس طرح قدرت ہم کو بتاتی ہے کہ طوفانی موجوں کے وقت ہم کو کیا طریق عمل اختیارکرنا چاہیے۔ زندگی میں کبھی طوفان سے لڑنا بھی پڑتا ہے۔ مگر اکثر اوقات کامیابی کا راز یہ ہوتا ہے کہ آدمی طوفانی سیلاب سےکتراکرنکل جائے وہ طوفان کی زد سے بچتا ہوا اپنا راستہ بنائے۔