Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

غیر حقیقی اضافہ

Urdu · 2 min read

ایک مغربی ملک کے ایک ادارہ نے ایک اشتہار شائع کیا۔ اس کو ایک خاتون کارکن کی ضرورت تھی۔ ادارہ کو خاتون کے اندر جو مختلف صفات درکار تھیں ان میں سے ایک صفت اس کا خاص اور متعین قد بھی تھا۔

اشتہار کی اشاعت کے بعد ادارہ کے پاس بہت سی درخواستیں آئیں۔ جانچ ہوئی تو ایک خاتون تمام مطلوبہ اوصاف میں غیرمعمولی طور پر پوری ہوتی چلی گئی۔ تاہم قد کے معاملہ میں وہ نامنظور کر دی گئی اس کاقد مطلوبہ لمبائی سے آدھ انچ کم تھا جس کو اس نے اپنے جوتے کی ہیل میں آدھ انچ اونچائی کا اضافہ کر کے پورا کیا تھا۔ ججوں نے لکھا

غیر نارمل ہونا ہر حال میں نا قابل قبول ہے۔ خواہ وہ قد کے آدھ انچ کم ہونے میں ہو یا ہیل کے آدھ انچ زیادہ ہونے میں۔

یہ چھوٹا سا واقعہ زندگی کے ایک قانون کو بتاتاہے۔ یہ قانون کہ غیرحقیقی چیزمیں اضافہ حقیقی چیز میں کمی کا بدل نہیں ہے۔ اگر آپ کا اپنا ’’ جسم ‘‘ چھوٹاہے تو ’’ اسٹیج ‘‘ کو اونچا کر کے آپ کبھی بلندی کا مقام حاصل نہیں کر سکتے۔

جب بھی آدمی زندگی کی دوڑ میں پیچھے ہو جائے تو اس کی وجہ ہمیشہ اپنی کوئی کمی ہو گی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس کمی کو جانے۔ وہ اپنی ساری توجہ اپنی کمی کو دور کرنے میں لگا دے۔ اپنی کمی کو دورکر کے دوبارہ آدمی اپنے کھوئے ہوئے مقام کو حاصل کر سکتا ہے۔ مگر دوسری باتوں پر ہنگامہ کھڑاکر کے وہ صرف وقت کو ضائع کرتا رہے گا۔

اگر آپ کا رکردگی میں کم ہوں تو مطالبات میں اضافہ سے آپ اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ منصوبہ بندی میں کم ہوں تو شوروغل میں زیادتی سے آپ اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ معنویت میں کم ہوں تو آپ الفاظ میں اضافہ سے اس کی تلافی نہیں کر سکتے۔ اگر آپ مقابلہ کی دوڑ میں پیچھے ہو گئے ہوں تو احتجاج اور شکایت میں اضافہ سے آپ زندگی کی اگلی صفوں میں جگہ نہیں پا سکتے۔

ایک حقیقی کمی صرف حقیقی چیزسے پوری ہو سکتی ہے،نہ کہ کسی غیرحقیقی اور غیرمتعلق چیزسے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.