Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

قانع بنئے

Urdu · 2 min read

ایک صاحب نے اپنی زندگی کا آغاز معمولی ملازمت سے کیا تھا اور اب ان کا کافی بڑا کاروبار ہو چکا ہے ۔ انھوں نے ایک ملاقات میں کہا  ’’ جب میں دو سو روپیہ کا ملازم تھا تو میں اپنے کو سو روپیہ کا آدمی سمجھتا تھا،اب جب کہ میرا کاروبار دو کروڑروپیہتک پہنچ چکا ہے تب بھی میں اپنے کو صرف ایک کروڑروپیہ کا آدمی سمجھتا ہوں‘‘— یہ وہی چیز ہے جس کو مذہب کی اصطلاح میں قناعت کہا جاتا ہے۔ اس قناعت کا تعلق انفرادی معاملات سے بھی ہے اور اجتماعی معاملات سے بھی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

یہ بات جو ایک آدمی نے سادہ طور پر کہی،یہی زندگی کی کامیابی کا سب سے بڑا راز ہے۔ اکثر حالات میں آدمی صرف اس لیے ناکام رہتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں زیادہ اندازہ کر لیتا ہے، وہ اپنی حقیقی استعداد سے زیادہ بڑا اقدام کر دیتا ہے ، وہ ’’ کم ‘‘ پر قناعت نہ کرتے ہوئے ’’زیادہ ‘‘ کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ آدمی اگر مذکورہ تاجر کے اصول پر رہے تو وہ کبھی نا کامی سے دو چار نہیں ہو سکتا۔

جو آدمی زیادہ خرچ کی استطاعت رکھتے ہوئے کم خرچ کرے وہ کبھی اقتصادی بحران کا شکار نہیں ہو گا۔ جو آدمی دوڑنے کی طاقت رکھتے ہوئے آہستہ چلے اس کے ساتھ کبھی یہ حادثہ پیش نہ آئے گا کہ وہ راستہ میں تھک کر بیٹھ جائے۔ جو اپنے مخالف پروار کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہوئے صبر کر جائے وہ کبھی اپنے مخالف سے شکست نہیں کھا سکتا۔ جو بڑے کام کے قابل ہوتے ہوئے اپنے آپ کو چھوٹے کام میں لگا دے وہ کبھی اپنی کوششوں کو رائیگاں کرنے والا ثابت نہیں ہو گا۔ جو سیاسی مقابلہ آرائی کا موقع رکھتے ہوئے غیر سیاسی کام میں اپنے کو مشغول کر لے اس کا یہ انجام کبھی نہ ہو گا کہ پُر شورعمل کے بعد بالآ خر اس کے حصہ میں جو چیز آئے وہ صرف احتجاج اور فریاد ہو۔ جس کے لیے شہرت کا میدان کھلا ہوا ہو مگر وہ اپنے کو گم نامی کے میدان میں کام کرنے پر راضی کر لے۔ وہ کبھی اس حال میں دنیا سے نہیں جا سکتا کہ اس نے اپنے پیچھے اپنا شان دار مقبرہ تو چھوڑا ہو مگر ا س کے عمل کے شان دار نتائج کا کہیں پتہ نہ ہو۔

ایک شخص کا قول ہے  دور کے بڑے فائدہ کی خاطر قریب کے چھوٹے فائدہ کو قربان کیا جا سکتا ہے 

other sourceWords of another person or source

Present short interest can be sacrificed for the larger long range gain.

اس میں شک نہیں کہ یہ ترقی کا بہت اہم اصول ہے۔ مگر اس اصول کو وہی لوگ برت سکتے ہیں جو دور تک سوچ کر اقدام کرنا جانیں،نہ کہ فوری طور پر بھڑک کر اُٹھ کھڑے ہوں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content