← Raz e HayatRaz e Hayat
شکایات
Urdu · 4 min read
ہندوستان کی آزادی سے پہلے کا واقعہ ہے۔ دیہات کے ایک آدمی شہر آئے اور اپنے ایک ملاقاتی کے یہاں مقیم ہوئے۔ ان کی ضیافت کے لیے گھر کے اندر سے خربوزہ بھیجا گیا۔ ایک بڑی پلیٹ میں خربوزہ کے ساتھ چھری رکھی ہوئی تھی۔ انھوں نے جب اس کو دیکھا تو سخت حیران ہوئے۔ انھوں نے کہا میری سمجھ میں نہیں آتا کہ خربوزہ اور چھری کا کیا جوڑ ہے۔ حتی ٰ کہ انھوں نے خربوزہ کھائے بغیر اسے لوٹا دیا۔
بعد کو ایک شخص نے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ خربوزہ کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ دونوں ہاتھ سے دبا کر اس کو توڑا اور کھا گئے۔ پھر یہ چھری کس لیے۔ میںتو اسے ٹونا ٹوٹکا سمجھا، اس لیے میں نے اسے نہیں کھایا۔
other sourceWords of another person or source
اسی قسم کا ایک اور واقعہ مذکورہ شخص کے ساتھ رات کو پیش آیا۔ رات کو جب ان کے سونے کے لیے بستر بچھایا گیا تو ان کے بستر پر ایک تکیہ بھی تھا۔ وہ رات بھر تکیہ کو دیکھتے رہے اور سونہ سکے۔ بعد کو اس کے بارے میں انھوں نے بتایا کہ میں تو یہی سمجھا کہ اس کے اندر مال ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں اس’’ گٹھری ‘‘کی رکھوالی کروں یا سوئوں۔
اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کو دوسرے کے بارے میں شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس کے خلاف سخت برہم ہو جاتا ہے۔ اپنے طور پر وہ سمجھتاہے کہ اس کی شکایت اور برہمی بالکل بجا ہے۔ حالانکہ اس کی وجہ صرف اس کا ناقص علم ہوتاہے۔ پوری صورت حال سے بے خبری کی بنا پر وہ بطور خود ایک رائے قائم کر لیتا ہے اور اس پر شدت سے قائم ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اصل واقعہ کے اعتبار سے اس کی شکایت کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔
اس برائی سے بچنے کی ترکیب قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ جب بھی کوئی بات سنو تو اس کی تحقیق کر لو(49:6)۔ اگر آدمی واقعۃً سنجیدہ ہو تو وہ دو میں سے کوئی ایک رویہ اختیار کرے گا۔ یا تو سنی ہوئی بات کو بھلا دے گا اور اس کا کوئی چرچا نہیں کرے گا۔ اور اگر کسی وجہ سے وہ اس کا تذکرہ کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے وہ متعلقہ شخص سے اس کی تحقیق کرے گا۔ اور تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئے گی اس کو مان لے گا۔ تحقیق کے بغیر شکایتوں کا چرچاکرناجتنا غلط ہے اتنا ہی غلط یہ بھی ہے کہ تحقیق کے بعد بھی آدمی اپنی رائے پر قائم رہے۔ متعلقہ شخص کی تردید کے باوجود وہ اس کو مسلسل دہراتا رہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
بیکار بھائو بِکو گے
شری ہردیوسنگھ المست (1983۔ 1927) انگریزی اور پنجابی زبان کے شاعرتھے۔ وہ اکثر سادہ مثالوں میں بڑی گہری باتیں کیا کرتے تھے۔
شری المست جی نے ایک بار اپنا ایک گیت سنایا۔ یہ گیت پنجابی زبان میں تھا۔ اس گیت میں موٹرکار کے پرزوں کو خطاب کیا گیا تھا۔ شاعر نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تھا کہ — اے پرزو،تم اپنے انجن کے ساتھ جڑے رہو۔ اسی میں تمہاری قیمت ہے۔ اگر تم اپنے انجن سے الگ ہو گئے تو یاد رکھو کہ تم اس دنیا میں بے کار لو ہے کے بھائو بکو گے۔
یہ تمثیل بہت با معنی ہے۔ ایک مشین کے اندر بہت سے پرزے ہوتے ہیں۔ مگر پرزے کی اہمیت اپنی مشین سے جڑے رہنے میں ہے۔ مشین سے جڑکر ایک پرزہ انجن کا حصہ ہوتا ہے۔ مجموعی اعتبار سے وہ انجن کہا جاتا ہے۔ لیکن پرزہ اگر اپنی مشین سے الگ ہو جائے تو وہ اپنی ساری اہمیت کھو دے گا۔ اب وہ کباڑخانہ کا حصہ ہو گا،نہ کہ مشین کا حصہ۔ اب اس کی قیمت ’’لو ہے ‘‘کی ہو جائے گی جب کہ اس سے پہلے اس کی قیمت مشین کی تھی۔
یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان اپنے پورے مجموعہ میں شامل ہو تو وہ عظیم تر مجموعہ کا جزء ہے۔ متحد ہونے کی صورت میں ایک فرد کی بھی وہی قیمت ہو جاتی ہے جو پورے مجموعہ کی قیمت ہے۔ مگر جو فرد اتحاد کے بندھن سے الگ ہو جائے وہ بس ایک فرد ہے۔ اس کی مثال اس پر زہ کی سی ہے جو اپنے انجن سے الگ ہو گیا ہو۔ ایسا پرزہ کباڑخانہ میں جا کر لوہے کے بھائو بکتا ہے۔ اسی طرح فرد اپنے مجموعہ سے الگ ہو کر اپنی قیمت کھو دیتا ہے۔
پرزہ کو انجن کا جزء بننے کے لیے اپنی انفرادی ہستی کھو دینی پڑتی ہے۔ اسی طرح فرد کو بھی متحدہ مجموعہ کا جزء بننے کے لیے اپنی انفرادیت کو کھونا پڑتا ہے۔ یقیناً فرد کے لیے یہ ایک بھاری قیمت ہے۔ مگر اس دنیا میں کوئی بھی چیز قیمت دیے بغیرنہیں ملتی۔ فرد کی تسکین کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے اتحاد کی جو قیمت دی تھی اس سے بڑی چیز اس نے اپنے لیے پالی۔
’’ لوہا ‘‘ اگر اپنی انفرادیت کو کھو کر ’’مشین ‘‘ کا درجہ حاصل کر لے تو یہ اس کے لیے کھونا نہیں ہے بلکہ وہ سب سے بڑی چیز پا لینا ہے جس کی وہ اس دنیا میں تمنا کر سکتا ہے۔