← Raz e HayatRaz e Hayat
خاموش تعمیر
Urdu · 4 min read
سوامی ویویکانند1863-1902))کو سچائی کی تلاش تھی۔ وہ سفر کرتے ہوئے راس کماری کے ساحل پر پہنچے۔ یہاں سمندر کے اندر تقریباً ایک فرلانگ کے فاصلہ پر ایک چٹان ہے۔ سوامی ویویکانند سمندر میں کود پڑے اور تیر کر چٹان کے اوپر پہنچے۔ یہاں انھوں نے دھیان گیان کیا اور اس کے بعد واپس آکر ہندو دھرم کے پرچار میں لگ گئے۔
آزادی کے بعد اس چٹان پر ’’ویویکانندکیندر ‘‘قائم کیا گیاہے۔تقریبا َدو کروڑ روپے کے خرچ سے ایک بہت بڑا سنٹر بنایا گیا ہے جو 1970 میں مکمل ہوا ہے۔ اس کا خاص مقصد ہے انسان بنانا (Man making)۔ افراد کار کی فراہمی کے لیے اس سنٹر نے اپیل کی تھی ، اس کے نتیجہ میں درجنوں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد اور سینکڑوں نوجوانوں نے اپنی زندگیاں اس کے لیے وقف کر دیں۔ وہ اس مشن میں تاحیات کا رکن ( Life worker) بن گئے۔ (ٹائمس آف انڈیا 27 جنوری 1984)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
انھیں میں سے ایک ڈاکٹر ایچ آرنگیندر ہیں۔ وہ امریکا میں خلائی پرواز مرکز (space Flight Centre)میں اعلیٰ عہدہ پر تھے۔ وہ اس کو چھوڑ کر اب ویو یکا نند کیندر (کنیاکماری( میں معمولی زندگی گزار رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یہاں میں اپنے آپ کو بے جگہ محسوس نہیں کرتا۔ ایک سائنس دان کا کام سچائی کی تلاش ہے۔ اور میری تلاش بد ستور جاری ہے۔ پہلے یہ میکانیکل انجینئرنگ کے میدان میں تھی، اب یہ انسانی انجینئرنگ کے میدان میں ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Earlier it was in mechanical engineering, now it is in human engineering.
ویویکانندسنٹر اس وقت خاص طور پر چار میدانوں میں کام کر رہا ہے— تعلیم ، دیہی ترقی ، یو گا ریسرچ اور رسائل اور کتابوں کی اشاعت۔ سینکڑوں لوگ اپنے اعلیٰ عہدے اور آرام کی زندگی کو چھوڑ کر اس کے پروگرام کے تحت مختلف ریاستوں میں خاموشی کے ساتھ جدوجہد میں مصروف ہیں۔ ڈاکٹر نگیندر کے الفاظ ہیں ، یہ ان کے لیے ایک بھرپور زندگی ہے ، ان کو پورا اطمینان ہے کہ وہ ایک کام میں لگے ہوئے ہیں
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
It is indeed a rich life—rich in job satisfaction.
وہی قوم زندہ قوم ہے جس میں اعلیٰ صلاحیت کے لوگ اس قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔
قربانی
1962 کا واقعہ ہے۔ مسٹر سریش ایچ کامدار کی عمر اس وقت 29 سال تھی۔ وہ کلکتہ کے میڈیکل کالج ہسپتال میں اپنے ایک بیمار عزیز کو دیکھنے کے لیے گئے۔ وہاں اس وقت ایک مریض لایا گیا۔ اس کا آپریشن ضروری تھااور اس کے لیے فوری طورپر خون(Blood transfusion)کی ضرورت تھی۔ یہ اس آدمی کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ مسٹر کامدار کا بلڈگروپ اے (A-Rh Positive)تھا۔ ان کو مریض پر ترس آیا۔ انھوں نے رضاکارانہ طور پر خون کی پیش کش کر دی۔ ایک زندگی بچا لی گئی۔
مسٹر کامدار کی عمر اب 53 سال ہو چکی ہے کلکتہ کے مذکورہ تجربہ کے بعد انھوں نے خون دینے کو اپنا مستقل مسلک بنا لیا۔ پچھلے 24 سال کے اندر وہ ایک سو بار رضاکارانہ طور پر خون دے چکے ہیں۔ انھیں ریڈ کر اس سوسائٹی نے اعلیٰ امتیاز کے تمغے عطا کیے ہیں۔ ( ٹائمس آف انڈیا، 2دسمبر 1985)
دنیا میں ایسے لوگ بہت ہیں جو فوری جوش سے بھڑک اٹھیں اور لڑ کر اپنا خون دے دیں۔ مگر ایسے لوگ بے حد کمیاب ہیں جو سوچے سمجھے ذہن کے تحت مستقل خون دیں اور زندگی کے آخری لمحات تک دیتے رہیں۔
یہ دوسرے لوگ بظاہر چھوٹا کام کرنے والے لوگ نظر آتے ہیں۔ مگر یہی لوگ ہیں جو دنیا میں بڑا کام کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو تاریخ بناتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی انفرادی قربانیوں کے ذریعہ پوری قوم کو آگے لے جاتے ہیں۔ پہلی قسم کی قربانی اگر لیڈر بناتی ہے تو دوسری قسم کی قربانی قوم تیار کرتی ہے۔ پہلی قربانی اگر حال کی تعمیر ہے تو دوسری قربانی مستقبل کی تعمیر۔
ایک بڑا مکان اچانک نہیں بنتا۔ سالہا سال تک ایک ایک اینٹ جوڑی جاتی ہے ، اس کے بعد وہ مجموعہ تیار ہوتا ہے جس کو مکان کہتے ہیں۔ ایک تالاب اچانک نہیں بھر جاتا۔ بارش ایک عرصہ تک بوندبوند پانی اس میں پہنچاتی ہے تب ایک بھرا ہوا تالا ب وجود میں آتاہے۔ یہی معاملہ انسانی معاملات کا ہے۔ انسانی زندگی میں کوئی بڑا واقعہ اس وقت ظہور میں آتا ہے جب کہ بہت سے لوگ اس کے لیے تیار ہوں کہ وہ اپنی تھوڑی کوششوں کو لمبی مدت تک جمع کریں گے۔ انسانی کامیابی صابرانہ عمل کا نتیجہ ہے،نہ کہ وقتی اقدام کا نتیجہ۔