← Raz e HayatRaz e Hayat
جرأت مندی
Urdu · 4 min read
احمد اور اقبال دونوں ایک ہی شہر میں رہتے تھے۔ احمد بی اے پاس تھا۔ جب کہ اقبال کی تعلیم صرف آٹھویں کلاس تک ہوئی تھی۔
ایک بار اقبال کو ایک سرکاری دفتر میں جانا تھا۔ وہ وہاں جانے لگا تو احمد بھی اس کے ساتھ چلا گیا۔ دونوں مذکورہ دفتر میں پہنچے۔ احمد نے دیکھا کہ اقبال وہاں مسلسل انگریزی بول رہا ہے۔ جب دونوں باہر نکلے تو احمد نے کہا کہ تم بالکل غلط سلط انگریزی بول رہے تھے۔ میں تو کبھی اس طرح بولنے کی ہمت نہیں کروں گا۔ اقبال کو احمد کے اس تبصرے سے کوئی شرمندگی نہیں ہوئی۔ اس نے پُر اعتماد لہجے میں جواب دیا
’’غلط بولو تاکہ تم صحیح بول سکو۔ ‘‘
اقبال نے مزید کہا کہ تم اگرچہ بی اے ہو اور میں کچھ بھی نہیں ہوں مگر دیکھ لینا کہ میں انگریزی بولنے لگوں گا اور تم کبھی بھی نہ بول سکو گے۔
other sourceWords of another person or source
اس واقعہ کو اب بیس سال ہو چکے ہیں۔ اقبال کے الفاظ صد فی صد صحیح ثابت ہوئے۔ احمد آج بھی وہیں ہے جہاں وہ بیس سال پہلے تھا۔ مگر اقبال نے اس مدت میں زبردست ترقی کی۔ وہ اب بے تکلف انگریزی بولتا ہے اور بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اس کی گفتگو میں زبان کی غلطی پکڑسکیں۔
اقبال کے اس جرأت مند انہ مزاج نے اس کو بہت فائدہ پہنچایا۔ اس سے پہلے شہر میں اس کی ایک معمولی دکان تھی۔ مگر آج اسی شہر میں اس کا ایک بڑا کارخانہ قائم ہے۔ ’’ غلط بولو تاکہ تم صحیح بول سکو ‘‘ اس کے اپنے حق میں صد فی صد درست ثابت ہوا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اقبال کے اس طریقہ کا تعلق صرف زبان سے نہیں بلکہ زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ موجودہ دنیا میں وہی لوگ کامیاب ہوتے ہیں جو حوصلہ کے مالک ہوں جو بے دھڑک آگے بڑھنے کی ہمت کر سکیں۔ جو خطرہ مول لے کر اقدام کرنے کی جرأت رکھتے ہوں۔ اس دنیا میں غلطی کرنے والا ہی صحیح کام کرتا ہے۔ جس کو یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ کہیں اس سے غلطی نہ ہو جائے وہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے گا۔ اس کے لیے آگے کی منزل پر پہنچنا مقدر نہیں۔
استاد کے بغیر
ایک خاتون نے انگریزی پڑھی۔ ان کے والد مولوی تھے۔ ان کے گھر پر انگریزی کا ماحول نہ تھا۔ چنانچہ ایم۔ اے (انگلش ) انھوں نے بمشکل تھرڈ نمبروں سے پاس کیا۔ ان کو شوق تھا کہ ان کو انگریزی لکھنا آجائے۔ یہ کام ایک اچھے استادکے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ لیکن ان کے گھر کے حالات اس کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ کوئی استاد رکھیں اور اس کی مدد سے اپنے اندر انگریزی لکھنے کی صلاحیت پیدا کریں۔
مگر جہاں تمام راستے بند ہوتے ہیں وہاں بھی ایک راستہ آدمی کے لیے کھلا ہوتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ آدمی کے اندر طلب ہوا ور وہ اپنے مقصد کے حصول میں اپنی پوری طاقت لگا دے۔ خاتون نے استاد کے مسئلہ کا ایک نہایت کامیاب حل تلاش کر لیا۔ انھوں نے لندن کی چھپی ہوئی ایک کتاب پڑھی۔ اس میں انگریز مصنف نے بیرونی ملکوں کے انگریزی طالب علموں کو یہ مشورہ دیا تھا کہ وہ انگریزی لکھنے کی مشق اس طرح کریں کہ کسی اہل زبان کی لکھی ہوئی کوئی کتاب لے لیں۔ اس کے بعد روزانہ اس سے چند صفحات لے کر پہلے اس کا اپنی زبان میں ترجمہ کریں پھر کتاب بند کر کے الگ رکھ دیں۔ اور اپنے ترجمہ کو بطور خود انگریزی میں منتقل کریں۔ جب ایسا کر لیں تو اس کے بعد دوبارہ کتاب کھولیں اور اس کی چھپی ہوئی عبارت سے اپنے انگریزی ترجمہ کا مقابلہ کریں۔ جہاں نظر آئے کہ انھوں نے کوئی غلطی کی ہے یا طریق اظہار میں کوتاہی ہوئی ہے اس کو اچھی طرح ذہن کی گرفت میں لائیں اور کتاب کی روشنی میں خود ہی اپنے مضمون کی اصلاح کریں۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
خاتون نے اس بات کو پکڑ لیا۔ اب وہ روزانہ اس پر عمل کرنے لگیں۔ انگریزی اخبار یا رسالہ یا کسی کتاب سے انگریزی کا کوئی مضمون لے کر وہ روزانہ اس کو اردو میں ترجمہ کرتیں اور پھر اپنے اردو ترجمہ کو دوبارہ انگریزی میں منتقل کرتیں اور پھر اپنے انگریزی ترجمہ کو اصل انگریزی عبارت سے ملاکر دیکھتیں کہ کہاں کہاں فرق ہے۔ کہاں کہاں ان سے کوئی کمی ہوئی ہے۔ اس طرح وہ روزانہ تقریباً دو سال تک کرتی رہیں۔ اس کے بعد ان کی انگریزی اتنی اچھی ہو گئی کہ وہ انگریزی میں مضامین لکھنے لگیں۔ ان کے مضامین انگریزی جرائد میں چھپنے لگے۔ ان کے بھائی نے ایکسپورٹ کا ایک کام شروع کیا جس میں انگریزی خط وکتابت کی کافی ضرورت پڑتی تھی۔ خاتون نے انگریزی خط و کتابت کا پوراکام سنبھال لیا اور اس کو کامیابی کے ساتھ انجام دیا— مذکورہ خاتون نے جو تجربہ انگریزی زبان میں کیا وہی تجربہ دوسری زبانوں میں بھی کیا جا سکتا ہے۔
ہماری دنیا کی ایک عجیب خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کسی کامیابی تک پہنچنے کے بہت سے ممکن طریقے ہوتے ہیں۔ کچھ دروازے اگر آدمی کے اوپر بند ہو جائیں تب بھی کچھ دوسرے دروازے کھلے ہوتے ہیں جن میں داخل ہوکر وہ اپنی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی شخص کی ناکامی کا سبب ہمیشہ پست ہمتی ہوتا ہے،نہ کہ اس کے لیے مواقع کا نہ ہونا۔