Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

لگاتار عمل

Urdu · 5 min read

کمیونسٹ چین کے سابق چیئرمین مائوزے تنگ (1893-1976)نے ایک دلچسپ چینی کہانی لکھی ہے۔

پرانے زمانے میں چین کے شمالی علاقہ میں ایک بوڑھا آدمی رہتا تھا۔ اس کے مکان کی سمت جنوب کی طرف تھی۔ اس بوڑھے آدمی کی مشکل یہ تھی کہ اس کے دروازے کے سامنے دو اونچے اونچے پہاڑ کھڑے ہوئے تھے۔ ان پہاڑوں کی وجہ سے سورج کی کرنیں اس کے گھر میں کبھی نہ پہنچتی تھیں۔ ایک دن اس بوڑھے آدمی نے اپنے جوان بیٹوں کو بلایا اور ان سے کہا کہ آئو ہم اس پہاڑ کو کھود کر یہاں سے ہٹا دیں تا کہ سورج کی کرنیں ہمارے گھر میں بلا روک ٹوک داخل ہو سکیں۔ بوڑھے آدمی کے پڑوسی کو اس کا یہ منصوبہ معلوم ہوا تو وہ اس پر ہنسا۔ اس نے اس بوڑھے آدمی سے کہامیںیہ جانتا تھا کہ تم ایک بے وقوف آدمی ہو لیکن مجھے یہ گمان نہ تھا کہ تم اتنا زیادہ بے عقل ہو گے۔ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ تم اپنی کھدائی کے ذریعےان اونچے پہاڑوں کو یہاں سےہٹا دو۔

بوڑھے آدمی نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جواب دیا تمہارا کہنادرست ہے۔ لیکن اگر میں مر گیا تو اس کے بعد میرے بیٹے اس کو کھودیں گے۔ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے ، اور پھر ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے۔ اس طرح کھدائی کا یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ تم جانتے ہو کہ پہاڑ آئندہ اور زیادہ بڑے نہیں ہو جائیں گے۔ ہر مزید کھدائی ان کے حجم کو کم کرتی رہے گی۔ اس طرح آج کے دن نہیں تو کسی اگلے دن یہ مصیبت ہمارے گھر کے سامنے سے دور ہو چکی ہو گی۔

یہ کہانی بہت خوبصورتی کے ساتھ بتا رہی ہے کہ بڑی کامیابی کے لیے ہمیشہ بڑا منصوبہ درکار ہوتا ہے۔ اگر آپ اس دنیا میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیںتو آپ کو بڑے منصوبہ کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے اور ان تمام تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے جو ایک بڑے منصوبہ کو مسلسل چلانے کے لیے ضروری ہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ مسائل کے مقابلہ میں ان کے حل کی طاقت زیادہ ہوتی ہے۔ مسائل ہمیشہ محدود ہوتے ہیں اور حل ہمیشہ لا محدود۔ اگر آپ حل کی اسکیم کو نسل در نسل چلا سکیں تو آپ ہر پہاڑکو کاٹ سکتے ہیں اور ہر دریا کو عبور کر سکتےہیں۔ جو شخص لگاتار عمل کرنے کے لیے تیار ہو اس کے لیے کوئی پہاڑ پہاڑ نہیں اور کوئی دریا دریا نہیں۔

یہ وقت کا سوال ہے نہ کہ قیمت کا

آکسفورڈ یونیورسٹی 1163 ء میں قائم ہوئی۔ اس کے ہرے ہرے لان ساری دنیا میں مشہور ہیں۔ ایک امریکن کروڑ پتی نے اس کے لان دیکھے تو وہ ان کو بہت پسند آگئے۔ انھوں نے چاہا کہ ایسا ہی لان ان کی کوٹھی میں بھی ہو۔ ’’ ایسا لان کتنے ڈالرمیں تیار ہو جائے گا ‘‘ انھوں نے آکسفورڈ کے مالی سے پوچھا۔

’’ مفت میں ‘‘ مالی نے سنجیدگی کے سا تھ جوا ب دیا۔

’’ وہ کیسے ‘‘

’’ اس طرح کہ آپ اپنی زمین کو ہموار کر کے اس پر گھاس جماد یجئے۔ جب گھاس بڑھے تو اس کو کاٹ کر اوپر سے رولر پھیر دیجئے۔ اسی طرح پانچ سو برس تک کرتے رہیے۔ جب پانچ سو سال پورے ہوں گے تو ایسا ہی لان آپ کے یہاں تیار ہو جائے گا۔ یہ وقت کا سوال ہے،نہ کہ قیمت کا ‘‘۔

شام کے وقت سورج آپ کے ا وپر غروب ہو جائے اور آپ دوبارہ صبح کا منظر دیکھنا چاہیں تو آپ کو پوری رات تک انتظار کرنا ہو گا۔ رات کا وقفہ گزارے بغیر آپ دوبارہ صبح کے ماحول میں آنکھ نہیں کھول سکتے۔ آپ کے پاس ایک بیج ہے اور آپ اس کو درخت کی صورت میں دیکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے اس کے سوا چارہ نہیں کہ 25 سال تک انتظار کریں۔ اس سے پہلے آپ کا بیج ایک سر سبز وشاداب درخت کی صورت میں کھڑا نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح قدرت کے تمام واقعات کے ظہور کے لیے ایک ’’ وقت ‘‘ مقرر ہے۔ کوئی واقعہ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ظہور میں نہیں آتا۔

وقت سے مراد وہ مدت ہے جس میں ایک طریق عمل جاری ہو کر اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ قدرت کے پورے نظام میں یہی اصول کار فرما ہے۔ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں یہ اصول براہ راست خدائی انتظام کے تحت قائم ہے اور انسان کو اپنے ارادہ کے تحت اس کو اپنی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ کائنات اپنے پورے نظام کے ساتھ انسان کو یہ عملی سبق دے رہی ہے کہ واقعات کے ظہور کے لیے وہ کون سی حقیقی تدبیر ہے جس کو اختیار کر کے آدمی اس دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔

شخصی زندگی کی تعمیر کا معاملہ ہو یا قومی زندگی کی تعمیر کا ، دونوں معاملات میں انسان کے لیے واحد صورت یہ ہے کہ وہ ’’ آغاز ‘‘ سے اپنا سفر جاری کرے اور مطلوبہ مدت سے پہلے نتیجہ دیکھنے کی تمنا نہ کرے۔ ورنہ اس کا انجام اس مسافر کا ہو گا جو ایک دوڑتی ہوئی ٹرین میں بیٹھا ہو اور اسٹیشن کے آنے سے پہلے اسٹیشن پر اترنا چاہے۔ ایسا مسافر اگر وقت سے پہلے اپنے ڈبہ کا دروازہ کھول کر اتر پڑے تو اس کے بعد وہ جہاں پہنچے گا وہ قبر ہو گی،نہ کہ اس کی مطلوبہ منزل— ہر کامیابی سب سے زیادہ جو چیز مانگتی ہے وہ وقت ہے۔ مگر کامیابی کی یہی وہ قیمت ہے جو آدمی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.