← Raz e HayatRaz e Hayat
تنگی میں وسعت
Urdu · 5 min read
ایک آدمی نے شہر میں عینک کی دکان کھولی۔ عینک بیچنے والوں کو اپنے گاہکوں کی سہولت کے لیے آنکھ کے ٹیسٹ کا انتظام بھی کرنا ہوتا ہے۔ تا کہ آدمی ایک ہی جگہ اپنی آنکھوں کی جانچ کرائے اور وہیں سے عینک بھی لے لے۔ مگر اس آدمی کی دکان ٹیسٹ کی ضرورت کے لیے چھوٹی تھی۔ آنکھ کے ٹیسٹ میں دور کی نگاہ جانچنے کے لیے اصولاً 18 فٹ کے فاصلہ سے پڑھوایا جاتا ہے، جب کہ اس دکان میں صرف اس کے نصف کے بقدر گنجائش تھی۔ یعنی گاہک کو بٹھانے کی جگہ سے لے کر دیوار تک کا فاصلہ بمشکل9 فٹ بنتا تھا۔
’’نوفٹ کو شیشہ لگا کر اٹھارہ فٹ کر لیں گے‘‘دکان دار نے اپنے دوست کے سوال کے جواب میں کہا۔ دوست نے اس سے پوچھا تھا کہ تم اتنی چھوٹی دکان میں آنکھوں کے ٹیسٹ کا انتظام کیسے کرو گے۔ دکان دار نے بتایا کہ پڑھانے والے حروف کا چارٹ جس دیوار پر لٹکا ہو، اس کے بالکل سامنے دوسری دیوار پر اگر آئینہ لگا دیا جائے اور ٹیسٹ کرانے والے کو اصل چارٹ کے بجائے آئینہ کے عکس میں پڑھوایا جائے تو پڑھنے والے شخص اور پڑھی جانے والی چیز کے درمیان کا فاصلہ خودبخود وگنا ہو جاتا ہے۔ آدمی کی نگاہ پہلے 9فٹ کا فاصلہ طے کر کے آئینہ کو دیکھتی ہے۔ پھر آئینہ کی مدد سے اس کی نگاہ مزید 9 فٹ کا فاصلہ طے کر کے چارٹ تک پہنچتی ہے۔ اس طرح کل اٹھارہ فٹ ہو جاتے ہیں۔ دکان دار نے ایسا ہی کیا۔ چھوٹی دکان کے باوجود اس کے یہاں آنکھوں کے ٹیسٹ کا ویساہی انتظام ہو گیا جیسا بڑی دکانوں میں ہوتا ہے۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
یہی اصول زندگی کے ہر معاملہ میں چسپاں ہوتاہے۔ آپ کے مواقع اگر کم ہوں، آپ کے لیے پھیلنے کا دائرہ تنگ ہوتو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ اپنی عقل کو استعمال کر کے اپنے ’’نو فٹ‘‘کو ’’اٹھارہ فٹ‘‘بنا سکتے ہیں۔
آپ کا مکان چھوٹا ہوتو دو منزلہ بنا کر اس کو وسیع کر سکتے ہیں۔ آپ کے پاس سرمایہ کم ہو تو دیانت داری کا ثبوت دے کر اس کی تلافی کر سکتے ہیں۔ آپ کی ڈگری معمولی ہو تو خوش اخلاقی کے ذریعہ اس کو زیادہ کارآمد بنا سکتے ہیں لڑ کر آپ کے لیے جیتنے کے مواقع نہیں ہیں تو حکمت کا طریقہ اختیار کر کے اپنے حریف کو قابو میں لا سکتے ہیں۔ سیاسی اقتدار میں آپ کو کم حصہ ملا ہے تو اقتصادی میدان میں ترقی کر کے اپنے آپ کو آگے لے جا سکتے ہیں۔ تعداد کے اعتبار سے اگر آپ اقلیت میں ہیں تو اتحاد اور تنظیم میں اضافہ کر کے آپ اکثریت کی برابری کر سکتے ہیں۔
ہر چھوٹی ’’دکان‘‘بڑی دکان بن سکتی ہے۔ کوئی دکان اسی وقت تک چھوٹی ہے جب تک دکان دار نے اس کوبڑھانے والی حکمت کو استعمال نہ کیا ہو۔ بڑھانے والی حکمت کو استعمال کرنے کے بعد اس دنیامیں کوئی دکان چھوٹی دکان نہیں۔
اتنی عقل جانور کو بھی ہوتی ہے
قرآن میں آدم کے دوبیٹوں کا ایک واقعہ بیان ہوا ہے۔ ایک بھائی نے غصہ میں آکر دوسرے بھائی کو قتل کر دیا۔ یہ کسی انسان کے قتل کا پہلا واقعہ تھا۔ قاتل کی سمجھ میں نہ آیا کہ اپنے بھائی کی لاش کو کیا کرے۔ اس وقت اللہ نے ایک کوا بھیجا۔ اس نے مرے ہوئے کوے کو اس کے سامنے ’’دفن ‘‘کیا۔ اس نے اپنی چونچ اور پنجے سے زمین کھودی اور مردہ کوے کو اس کے اندر رکھ کر اوپر سے مٹی ڈال دی۔ یہ دیکھ کر قاتل بولاافسوس ہے مجھ پر۔ میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ اپنے بھائی کی لاش کو زمین میں چھپانے کی تدبیر کرتا(3:30-31)یہ نسل انسانی کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے۔ اس وقت سے اب تک برابر خدا یہ کررہا ہے کہ وہ حیوانات میں سے کسی حیوان کو ’’بھیج کر‘‘ہم کو ہماری زندگی کے بارے میں سبق دیتا ہے۔ مگر انسان مشکل ہی سے ایسا کرتا ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات سے اپنے لیے سبق لے۔ یہاں ایک پرندے کا واقعہ نقل کیا جاتا ہے جس میں ہمارے آج کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔
ابابیل نے چھت کی لکڑی میں گھونسلا بنایا۔ گھونسلا مٹی کا تھا۔ نر اور مادہ دونوں تھوڑی تھوڑی گیلی مٹی اپنی چونچ میں لاتیں اور اس سے گھونسلے کی تعمیر کرتیں۔ لگاتار محنت کے بعد چند دن میں گھونسلا تیار ہو گیا۔ اب ابابیل نے اس کے اندر انڈہ دے دیا۔ ایک روز ابابیل کا جوڑا گھونسلے پر بیٹھا ہوا تھا، چار انڈے اور دو ابابیلوں کا بوجھ گھونسلے کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوا اور وہ لکڑی سے چھو ٹ کر نیچے گرپڑا۔ انڈے ٹوٹ کر برباد ہو گئے۔ اس کے بعد دیکھنے والوں نے دیکھا کہ دونوں ابابیلیں پوری چھت میں چاروں طرف اڑ رہی ہیں۔ وہ چھت کی لکڑیوں میں اپنے اگلے گھونسلے کے لیے زیادہ محفوظ جگہ تلاش کر رہی تھیں۔ بالآخر انھوں نے اپنے لیے ایک ایسی جگہ پالی جو غیر ہموارہونے کی وجہ سے گھونسلے کو زیادہ سنبھال سکتی تھی۔
پہلی بار ابابیلوں نے خالی مٹی کا گھونسلا بنایا تھا۔ اب دوسری بار انھوں نےجو مٹی لانی شروع کی اس میں گھاس ملی ہوئی تھی۔ پہلے تجربہ کے بعد انھوں نے صاف گارے کو ناکافی پایا تو انھوں نے گھاس ملے ہوئے گارے سے گھونسلا بنانا شروع کیا۔ گویا پہلے اگر خالی مٹی تھی تو اب آہن بستہ(Reinforced)مٹی گھونسلے کے لیے منتخب کی گئی۔ نتیجہ ظاہر ہے۔ دوسرا گھونسلا زیادہ مضبوط اور جما ہوا تھا۔ وہ اپنی جگہ پر قائم ہو گیا اور اس میں جو انڈے دیے گئے وہ محفوظ رہے یہاں تک کہ ان میں بچے نکل آئے۔ بچے اپنی ماں کے ساتھ اڑ کر فضا میں غائب ہو گئے۔ یہ واقعہ خورشید احمد بسمل صاحب(پیدائش 1947) کے اپنے مکان کا ہے جو تھنہ منڈی(راجوری، جموں) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے19ستمبر 1979کو اپنا مذکورہ کمرہ دکھایا اور مجھ سے یہ واقعہ بیان کیا— جانور کی پہلی کوشش اگر پہلی بار ناکام ہو جائے تو دوسری کوشش سے پہلے وہ یہ معلوم کرتا ہے کہ اس کے عمل میں کون سی کمی تھی جس نے اس کے منصوبہ کو ناکام بنا دیا۔ اور پھر زیادہ کامل منصوبہ کے تحت دوسری تعمیر کرتا ہے۔ مگر ہمارا’’آشیانہ‘‘گرتا رہتا ہے اور کبھی ہم کو احساس نہیں ہوتاکہ اپنی کمی کو معلوم کر کے زیادہ مستحکم تعمیر کا منصوبہ بنائیں۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically