Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

ابتدائی تیاری

Urdu · 4 min read

ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ایک اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جس کو پیشگی عمل (Pretreatment)کہتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدائی کپڑے کو ضروری کاروائیوں سے اس قابل بنانا کہ وہ اگلے مرحلہ کے عمل کو قبول کر سکے۔

کپڑے کو اگر رنگنا ہے تو ضروری ہے کہ پہلے اس کی صفائی کی جائے۔ اس کو اس قابل بنایا جائےکہ وہ رنگ کو پوری طرح پکڑ سکے۔ اگر وہ بخوبی طور پر صاف نہ ہو یا رنگ کو جذب کرنے کی صلاحیت اس کے اندر پیدا نہ کی گئی ہو تو رنگ اس پر اچھی طرح ظاہر نہیں ہو سکتا۔ اندازہ کیا گیا ہے کہ رنگے ہوئے کپڑوں کے 70 فیصد نقائص صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ ان پر پیشگی عمل ٹھیک طور پر نہیں کیا گیا تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیشگی تیاری کا یہ اصول انسانی معاملات کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ کپڑے کے معاملہ کے لیے۔ اگر ہم اپنے اقدام کا اچھا نتیجہ دیکھنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اقدام سے پہلے متعلقہ تیاریاں بھی ضرور مکمل کرلیں۔ ابتدائی ضروری تیاریوں کے بغیر جو اقدام کیا جائے گا اس کا انجام اس کپڑے کا سا ہو گا جو پری ٹریٹمنٹ کے بغیر رنگائی کے مرحلہ میں داخل کر دیا جائے، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ برا۔

اگر آپ اعلیٰ صحافت وجود میں لانا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ کے پاس انڈسٹری ہو۔ کیونکہ انڈسٹری ہی اخبارات کو خوراک فراہم کرتی ہے۔ جس قوم کے پاس انڈسٹری نہیں، اس کے پاس صحافت بھی نہیں۔

اگر آپ الیکشن کے موقع پر اپنے ووٹوں کی طاقت استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ اس سے پہلے آپ کے اندر اتحاد پیدا ہو چکا ہو۔ اگر آپ کی صفوں میں اتحاد نہیں ہے تو آپ کے ووٹ منتشر ہو جائیں گے وہ کوئی سیاسی طاقت نہ بن سکیں گے۔

اگر آپ کوئی اجتماعی اقدام کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ آپ کے اندر اجتماعی قیادت ہو، یعنی ایک ایسا سردار جس کی بات سب لوگ مانتے ہوں۔ اجتماعی قیادت پیدا کیے بغیر اجتماعی اقدام کرنا صرف ناکامی کےگڑھے میں چھلانگ لگانا ہے۔

ملّت کا درخت اگانے کے لیے

سابق صدر امریکا جان ایف کینیڈی نے ایک بار لاوٹے (Lyautay)کا حوالہ دیتے ہوئے اس کا اپنا ایک قصہ نقل کیا تھا۔ اس کے الفاظ یہ تھے

(I) once asked (my) gardener to plant a tree. The gardener, objected that the tree was slow growing and would not reach the maturity for a hundred years. (I) replied: “In case there is no time to loose, plant in the afternoon........”

Chartered Accountant (Supplement) New Delhi, June 1979

میں نے ایک بار اپنے باغبان سے ایک درخت کا پودا لگانے کے لیے کہا۔ باغبان نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ یہ درخت بہت دھیرے دھیرے بڑھتا ہے اور اس کو پورا درخت بننے میں ایک سو سال لگ جائیں گے۔ میں نے جواب دیا ایسی حالت میں تو ہم کو بالکل وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ تم آج ہی دوپہر بعد اس کا پودالگا دو۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ملت کی تعمیر و ترقی ایک طویل المدت منصوبہ ہے۔ فرد اور اجتماع کی سطح پر بے شمار اسباب فراہم کرنے کے بعد وہ وقت آتا ہےجب کہ ملت اپنی پوری شان کے ساتھ زندہ ہو اور وہ ایک طاقتور قوم کی حیثیت سے زمین پر اپنی جگہ حاصل کرے۔ مگر جب اس قسم کا منصوبہ پیش کیا جاتاہے تو کہنے والے فوراً کہہ دیتے ہیں یہ تو بڑالمبا منصوبہ ہے۔ اس کو پورا ہونے میں سو سال لگ جائیں گے۔ ایسے لوگوں کو ہمارا جواب صرف ایک ہےجب ایسا ہے تو ہمیں ایک لمحہ کے لیے بھی اپنا وقت کھونا نہیں چاہیے۔ ہم کو چاہیے کہ ہم آج ہی پہلی فرصت میں اپنا ’’درخت‘‘نصب کر دیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک طاقتور درخت ہمیشہ ’’سو سال‘‘ہی میں تیار ہوتا ہے۔ اس لیے جو شخص طاقتور درخت کا مالک بننا چاہتا ہو اس کے لیے سو سالہ باغبانی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ اگر وہ ایسا کرنے کے بجائے سڑکوں پر نکل کر ’’درخت ستیہ گرہ‘‘ شروع کر دے۔ یا کسی میدان میں جمع ہو کر ’’باغ ملّت زندہ باد‘‘کے نعرے لگانے لگے تو یہ ایک احمقانہ حرکت ہو گی جس سے نہ کوئی درخت اُگے گا اور نہ وہ باغ والا بنے گا۔ اس کا واحد انجام صرف یہ ہے کہ وہ اس وقت کو مزید ضائع کر دے جو درخت اگانے کے لیے اس کو قدرت کی طرف سے حاصل تھا۔ آپ کے پاس مکان نہ ہو اور آپ سڑک پرکھڑے ہو کر پھلجھڑی چھوڑنے لگیں تو اس سے آپ شہر میں ایک مکان کے مالک نہیں بن جائیں گے۔ اسی طرح ملّت کا نام لے کر کچھ لوگ سیاسی شعبدہ بازی کرنے لگیں تو اس قسم کے شعبدوں سے ایسا نہیں ہو سکتا کہ زمین پر ملّت کا قلعہ کھڑا ہو جائے۔ اشعار کی دنیا میں صرف تُک بندیوں کے ذریعہ بڑے بڑے انقلاب لائے جا سکتے ہیں، ایک خطیب اپنے پرجوش الفاظ کے ذریعہ آناً فاناً ایک پنڈال کو شان دار کامیابیوں کے آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔ مگر ایک حقیقی واقعہ کو ظہور میں لانا ایسا صبرآزما کام ہے جو طویل منصوبہ بندی اور مسلسل جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content