← Raz e HayatRaz e Hayat
عزت کا مقام
Urdu · 6 min read
دوسروں کے درمیان جگہ حاصل کرنے کا راز صرف ایک ہے— آپ دوسروں کی ضرورت بن جائیں۔ اگر آپ دوسروں کو یقین دلادیں کہ آپ ان کی ضرورت ہیں تو دوسروں کےلیے ناممکن ہوجائے گا کہ وہ آپ کو نظر انداز کریں۔
ایک تعلیم یافتہ نوجوان کی شادی ہوئی۔ بیوی آئی تو وہ شکل و صورت کے اعتبار سے گھروالوں کے معیار سے کم تھی۔ چنانچہ نوجوان کی بہنوں نے اس کو ناپسند کردیا۔ ہر ایک اس کو حقیر نظروں سے دیکھنے لگا۔ سب کے نزدیک وہ ایسی بن گئی جیسے کہ وہ کوئی نامطلوب چیز ہے جو گھر کے اندر غیر ضروری طور پر داخل ہوگئی ہے۔
خاتون اگرچہ شکل و صورت کے اعتبار سے زیادہ اچھی نہ تھی، مگر وہ عقل کے اعتبار سے کافی سمجھ دار تھی۔ اس نے لوگوں کے سلوک کو برا نہیں مانا۔ وہ جانتی تھی کہ شکل صورت وقتی چیز ہے اور زیادہ پائیدار چیز انسان کا عمل ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اگرچہ صورت کے اعتبار سے گھر والوں کےلیے محبوب نہ بن سکی۔ مگر وہ عمل کے اعتبار سے گھروالوں کےلیےمحبوب بنے گی۔
اس نے خاموشی سے گھر کا سارا کام سنبھال لیا۔ گھر کی دیکھ بھال، مہمانوں کی خدمت، باورچی خانہ کا انتظام ، ہر ایک کی ضرورت فرمائش کے بغیر پوری کرنا، یہ اس کا روزانہ کا معمول بن گیا۔ اس نے گھر کے ہر کام کو اپنی ڈیوٹی سمجھ لیا۔ خواہ اس کےلیے اس سے کہا گیا ہو یا نہ کہا گیا ہو۔
خاتون نے زبان سے کچھ نہیں کہا اور نہ کسی کی بات کا جواب دیا۔ اس نے ساری توجہ صرف اپنے عمل پر لگادی۔ نتیجہ یہ ہو اکہ بہت جلد گھر کی فضا بدلنے لگی۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ جس گھر میں وہ ایک نامطلوب شخصیت بنی ہوئی تھی وہاں وہ لوگوں کے درمیان سب سے زیادہ مطلوب شخصیت بن گئی۔
یہی زندگی کا راز ہے۔ گھر کا معاملہ ہویا بستی کا معاملہ یا پورے ملک کا معاملہ ، ہر جگہ عزت کا مقام حاصل کرنے کا واحد بے خطا راز یہ ہے کہ آپ یہ ثابت کردیں کہ آپ لوگوں کی ضرورت ہیں۔ اورلوگ یقینی طور پر آپ کو نہ صرف عزت کا مقام دیں گے بلکہ وہ آپ کے پرستار بن جائیں گے۔
سب سے بڑی ضمانت
لارڈ ولیم وینٹک انیسویں صدی کے ربع ثانی (1835۔ 1828) میں ہندوستان کے گورنر جنرل تھے۔ انھوں نے ایک بار حکم دے دیا تھا کہ تاج محل کو گرادیا جائے مگر عملاً وہ اس میں کامیاب نہ ہوسکے۔ اس کا انکشاف 7فروری 1900کو اس وقت کے وائسرئے لارڈ کرزن نے کیا تھا۔ لارڈ کرزن نے کلکتہ کے ایک جلسہ عام میں کہا کہ ان دنوں ایسٹ انڈیا کمپنی کی اقتصادی حالت خراب ہوگئی تھی۔ کمپنی کو اقتصادی بحران سے نکالنے کےلیے سابق برطانوی گورنر جنرل (لارڈ وینٹک) نے چاہا کہ کہ تاج محل کے سنگ مرمر کو فروخت کردیں۔ اس سے ان کو اس زمانہ میں ایک لاکھ روپیہ حاصل ہونے کی امیدتھی۔ جب یہ خبر پھیلی تو لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔ اب لارڈ وینٹک بگڑ گئے اور انھوں نے غصہ میں آکر حکم دیا کہ تاج محل کو گرا کر زمین کے برابرکردیا جائے۔ ان کے اس حکم کے بعد عوام کی مخالفت اور زیادہ بڑھ گئی۔ ہندواورمسلمان دونوں نے مل کر شدید احتجاج کیا۔ حتیٰ کہ یہ اندیشہ پیدا ہوگیا کہ اگر تاج محل کو گرایا گیا تو عوامی بغاوت پیدا ہوجائےگی۔ لارڈ وینٹک کے مشیروں نے ان کو صورت حال کی نزاکت بتائی۔ چنانچہ انھوں نے حکم واپس لے لیا۔(نو بھارت ٹائمز 18جون 1969)
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
’’تاج محل کو عوام نے نہیں بچایا ‘‘ اس خبر کو پڑھ کر ایک شخص نے کہا ’’ بلکہ تاج محل کو اس کے اپنے حسن نے بچایا۔ تاج اگر اتنا حسین نہ ہوتا تو برطانوی اقتدار کے مقابلہ میں اس کو ہندوؤں اور مسلمانوں کی اتنی بڑی حمایت حاصل نہیں ہوسکتی تھی‘‘۔
other sourceWords of another person or source
عمارت کا یہی انجام اس کے معماروں کےلیے بھی مقدر تھا۔ مگر افسوس کہ معمار اپنے اندر وہ ’’حسن‘‘ پیدا نہ کر سکے جو انھوں نے سنگ مرمر کے خاموش مجموعہ میں اپنی مہارت سے پیدا کردیا تھا۔
آدمی کے اندر کوئی خوبی ہو تو یہ خوبی ہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی ضمانت ہوتی ہے۔ وہ دشمنوں میں بھی اپنے دوست پالیتا ہے۔ اغیار کی صفوں میں بھی اس کو اپنے قدر دان مل جاتے ہیں۔ یہ ناممکن ہے کہ کسی کے اندر کوئی واقعی خوبی ہو ، اس کے باوجود دنیا میں اس کا اعتراف نہ کیا جائے۔
تاہم اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی کا یہ حسن سانپ کا حسن نہ ہو۔ ایک سانپ خواہ وہ کتنا ہی حسین ہو آدمی اس سے محبت نہیں کرسکتا۔ اسی طرح جس آدمی کا حال یہ ہو کہ اس کے اندر ایک خوبی تو ہو مگر اسی کے ساتھ اس کی زبان میں ’’ڈنک‘‘ہو، وہ لوگوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کو چیلنج کرنے لگے، وہ لوگوں کے ساتھ تعلقات میں باربار جارحیت پر اترآتا ہو، وہ اپنی جذباتی کاروائیوں سے لوگوں کو اپنا مخالف بنالے۔ ایسا آدمی خواہ وہ کتنا ہی زیادہ خوبیوں والا ہو، لوگوں کا محبوب نہیں بن سکتا۔
تاج محل لوگوں کا محبوب اسی وقت بنتا ہے جب کہ وہ خاموش حسن میں ڈھل جائے۔ اگر وہ جارح حسن کا نمونہ ہو تو ایسے تاج محل کو کوئی نہیں بخشے گا۔
زندگی کی سٹرک
سٹرکوں میں چوراہے ہوتے ہیں۔ یعنی ایسے مقامات جہاں پورب سے پچھم جانے والی سٹرک پر ان مسافروں کےلیے راستہ جو اُتّرسے دکھن یا دکھن سے اُتّرجارہے ہوں۔
ٹریفک قانون کے تحت یہ قاعدہ مقرر کیا گیا ہے کہ تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد ایک طرف کی سٹرک بند کرکے دوسری طرف کی سٹرک کھول دی جاتی ہے۔ اس مقصد کےلیے علامتی طور پر ہرا سگنل اور لال سگنل استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک گاڑی چلتے چلتے چوراہہ پہنچتی ہے اور دیکھتی ہے کہ اس کے سامنے لال سگنل روشن ہوگیا ہے تو وہ وہیں رک جاتی ہے تاکہ دوسری سٹرک سے چلنے والی سواریوں کو گذرنے کا موقع دیدے۔ جب دوسری سٹرک کی سواریاں نکل جاتی ہیں تو لال سنگل کی جگہ ہرا سگنل روشن ہوجاتا ہے۔ اب آپ کی سواری کےلیے موقع ہوتا ہے کہ وہ چوراہہ کو پار کرکے آگے بڑھے اور اپنا سفر جاری رکھے۔
unverifiedAttribution could not be verified automatically
چوراہہ کا یہ قانون زندگی کا قانون بھی ہے۔ زندگی کی سٹرک کوئی خالی سٹرک نہیں جس پر آپ اپنی مرضی کے مطابق صرف اپنی گاڑی دوڑاتے رہیں۔ یہاں دوسرے بھی بہت سے لوگ ہیں اور وہ بھی اپنا اپنا سفر طے کرنا چاہتے ہیں۔ ضروری ہے کہ ہر ایک اپنے اندر یہ وسعت اور لچک پیدا کرے کہ وہ یہاں خود راستہ لینے کے ساتھ دوسروں کو بھی راستہ دے۔ جولوگ اپنے اندر یہ حکمت پیدا نہ کریں ان کا انجام وہی ہوگا جو ایسے چوراہہ کا ،جہاں کوئی سوار اپنی سواری کو نہ روکے۔ ہر ایک بس اندھا دھند اپنی سواری دوڑاتا ہے۔
یاد رکھئے،زندگی کی شاہراہ پر آپ ہی اکیلے نہیں ہیں۔ یہاں بہت سے دوسرے چلنے والے بھی ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ زندگی کی شاہراہ پر آگے بڑھیں تو آپ کو دوسروں کےلیے بھی گزرنے کا موقع دینا ہوگا۔ سٹرک کے کسی حصہ پر اگر آپ اپنی گاڑی کو دوڑانے کا موقع پارہے ہیں تو سڑک کے کسی دوسرے حصے پر آپ کو اپنی گاڑی روکنی بھی ہوگی تاکہ دوسری سواریاں ٹکرائے بغیر گزرنے کا موقع پاسکیں۔
اپنا حق لینے کےلیے دوسروں کا حق دینا پڑتا ہے۔ اگر آپ چاہیں کہ دوسروں کو ان کا حق دئے بغیر اپنا حق پالیں تو موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔