Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

مشتعل نہ ہو

Urdu · 2 min read

برٹر ینڈر سل ایک انتہائی آزاد خیال آدمی تھا۔ وہ اکثر ایسی غیر روایتی باتیں کرتا تھا جس سے قدامت پسند طبقہ بگڑ جاتا۔ اپنے ایک لیکچر کے دوران پیش آنے والا واقعہ وہ اس طرح نقل کرتا ہے 

A man rose in fury, remarking that I looked like a monkey; to which I replied, ‘Then you will have the pleasure of hearing the voice of your ancestors.’

other sourceWords of another person or source

ایک آدمی طیش میں آکر کھڑا ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں ایک بندر دکھائی دیتا ہوں۔ میں نے اس کو جواب دیا  پھر تو آپ کو خوش ہونا چاہیے کہ آپ اپنے پرکھوں کی آواز سُن رہے ہیں۔ (آٹو بیاگرافی ، صفحہ 565)

برٹر ینڈر سل کا یہ جواب نظر یہ ارتقاء کے پس منظر میں ہے۔ اس نظریہ کے مطابق انسان بندر کی نسل سے ہے۔ تاہم یہاں ہم کو اس نظریہ کی صحت سے بحث نہیں۔ یہ واقعہ ہم نے اس لیے نقل کیا ہے کہ یہ غیر مشتعل انداز میں جواب دینے کی ایک اچھی مثال ہے۔ جب کوئی شخص آپ کے خلاف کوئی سخت جملہ کہے یا آپ پر تیز وتند تنقید کرے تو اس وقت ایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو سُن کر بگڑ جائیں اور اس کی سخت بات کاسخت اور شدید انداز میں جواب دیں۔ یہ جواب دینے کا غیر سنجیدہ طریقہ ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ اشتعال انگیز بات سن کر مشتعل نہ ہوں۔ کوئی شخص خواہ کتنی ہی سخت کلامی کرے آپ اپنے توازن کو باقی رکھیں۔ آپ کا جواب رد عمل کا جواب نہ ہو بلکہ مثبت طور پر سوچا سمجھا ہواجواب ہو۔

جواب کا پہلا انداز صرف اشتعال میں اضافہ کرتا ہے، جب کہ دوسرا انداز اشتعال کو ٹھنڈا کرنے والا ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے آگ پر پانی ڈال دیا جائے۔ مزید یہ کہ دوسرا طریق جواب قائل کو خاموش کرنے کی بہترین تدبیر ہے۔ مذکورہ واقعہ میں برٹرینڈر سل کا جواب جتنا موثر ثابت ہوا وہ اس وقت کبھی اتنا موثر نہ ہوتا جب کہ برٹر ینڈرسل نے رد عمل والا جواب دیا ہوتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content