Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

شوق کافی ہے

Urdu · 3 min read

استاد یوسف دہلوی (م 1977) مشہور خوشنویس تھے۔ ان کو فن خطاطی پر غیر معمولی قدرت حاصل تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار جلی خط کا مقابلہ ہوا۔ جمنا کے کنارے ریت کے میدان میں بہت سے خطاط جمع ہوئے۔ استاد یوسف آئے تو ان کے ہاتھ میں بانس کا ایک بڑاٹکڑا تھا۔ انہوں نے بانس سے ریت کے اوپر لکھنا شروع کیا۔ الف سے ش تک پہنچے تھے کہ تقریباً ایک فرلانگ کا فاصلہ ہوگیا۔ لوگوں نے کہا کہ بس کیجئے۔ استاد یوسف نے کہا میں نے جو لکھا ہے اس میں رنگ بھردو اور پھر ہوائی جہاز سے چھوٹے سائز میں ان کا فوٹو لے لو۔ مجھے یقین ہے کہ فوٹو میں وہ خط رہے گا جو میرا اصل خط ہے۔ اس کے بعد کسی او رکو اپنا فن پیش کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔

other sourceWords of another person or source

تقسیم کے بعد وہ پاکستان چلے گئے تھے۔ وہاں شاہ سعود کی آمد پر ان کو ایک محراب کا مضمون لکھنے کے لیے دیا گیا۔ استقبال کی تیاریوں کا بچشم خود معائنہ کرنے لیے گورنر جنرل آئے۔ اس دوران انہوں نے استاد یوسف کا لکھا ہوا محراب بھی دیکھا۔ اس کے شان خط کو دیکھ کر وہ حیران رہ گئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کس خطاط نے لکھا ہے۔ چنانچہ استاد یوسف کو بلایاگیا۔ گورنر جنرل نے ان کے کام کی تعریف کی اور پوچھا کہ اس کو لکھنے میں آپ کو کتنا وقت لگا۔ استاد یوسف نے کہا کہ سات دن۔ گورنر جنرل نے فوراً اپنے سیکرٹری کو حکم دیا کہ استادکوان کی خدمت کے اعتراف میں سات ہزار روپے پیش کرو۔ چنانچہ اسی وقت ان کو اتنی رقم کا چیک دے دیا گیا۔

استاد یوسف سے ایک شخص نے پوچھا کہ خوش نویسی کا فن آپ نے کس استاد سے سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی سے نہیں۔ ان کے والد خود ایک مشہور خوش نویس تھے۔ مگر انہوں نے اپنے والد کی شاگردی بھی نہیں کی۔ پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ میں نے خوش نویسی کا فن لال قلعہ سے سیکھا ہے۔ لال قلعہ میں مغل دور کے استادوں کی وصلیاں (تختیاں) رکھی ہوئی ہیں۔ ان تختیوں میں قطعات لکھے ہوئے ہیں جو فن خطاطی کے شاہکار نمونے ہیں۔ استاد یوسف دس سال تک برابر یہ کرتے رہے کہ لال قلعہ جا کر ان تختیوں کو دیکھتے۔ ہر روز ایک قطعہ اپنے ذہن میں بٹھا کر واپس آتے۔ اس کو اپنے قلم سے بار بار لکھتے۔ اور پھر اگلے دن اپنا لکھا ہوا کاغذ لے کر لال قلعہ جاتے۔ وہاں کی محفوظ تختی سے اپنے لکھے ہوئے کو ملاتے اور اس طرح مقابلہ کرکے اپنی غلطیوں کی اصطلاح کرتے۔ اس طرح مسلسل دس سال تک ہر روز لال قلعہ کی قطعات کی تختیوں سے وہ خود اپنی اصلاح لیتے رہے اور ان کو دیکھ دیکھ کر مشق کرتے رہے۔ یہی دس سالہ جدوجہد تھی جس نے انہیں استاد یوسف بنادیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اگر آدمی کے اندر شوق ہو تو نہ پیسہ کی ضرورت ہے اور نہ استاد کی ، نہ کسی اور چیز کی۔ اس کا شوق ہی اس کے لیے ہر چیز کا بدل بن جائے گا۔ وہ بغیر کسی چیز کے سب چیز حاصل کر لے گا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content