← Raz e HayatRaz e Hayat
سڑک کا سبق
Urdu · 7 min read
شہر کی مصروف سڑکوں پر ہر وقت حادثہ کا خطرہ رہتا ہے۔ چنانچہ ٹریفک کی رہنمائی کے لیے سڑکوں پر مختلف ہدایات لکھ دی جاتی ہیں۔ ان ہدایات میں سے ایک یہ ہے کہ پٹری پر چلنا محفوظ چلنا ہے
Lane driving is sane driving
یعنی آدمی اگر پٹری کا پابند رہتے ہوئے اپنی سواری چلائے تو وہ اپنے آپ کو حادثات سے بچا سکتا ہے۔ وہ اس خطرہ سے محفوظ رہ سکتا ہے کہ دوسری گاڑیوں سے اس کا ٹکرائو ہو اور وہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے کے بجائے قبرستان کی طرف بڑھنے پر مجبور ہوجائے۔
لندن کے ایک ڈرائیور نے ایک بار ایک مضمون شائع کیا اس میں اس نے ٹریفک کے مختلف اصول بتائے۔ اس نے اپنے علم اور تجربے کی روشنی میں بڑی عجیب عجیب باتیں لکھی تھیں۔ مثلاً اس نے لکھا کہ آپ اپنی گاڑی سڑک پر دوڑاتے ہوئے چلے جارہے ہیں کہ اچانک سائڈ کی گلی سے ایک گیند سڑک پر آگئی یہ گیند دیکھ کر آپ کو جاننا پڑتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک بچہ بھی آرہا ہوگا۔ اگر آپ صرف ’’گیند‘‘ کو دیکھیں اور بچہ کو نہ دیکھیں تو آپ ڈرائیور نہیں ہیں۔ اچھا ڈرائیور صرف وہ ہے جو گیند کو دیکھتے ہی بچہ کو بھی دیکھ لے، اگرچہ اس وقت بچہ بظاہر اس کی آنکھوں کے سامنے نہ ہو۔ اگر ڈرائیور نے گیند کو دیکھ کر اپنی گاڑی کو بریک نہیں لگایا تو یقینی ہے کہ اگلے لمحہ اس کی گاڑی ایک بچہ کو سڑک پر کچل چکی ہو گی۔
سڑک کا سفر زندگی کے سفر کا معلم ہے۔ آدمی اگر چاہے تو سڑک کے سفر سے وہ سب کچھ سیکھ سکتا ہے جو اس کو زندگی کے زیادہ بڑے سفر کے لیے درکا رہے۔
اپنی سرگرمیوں کو ہمیشہ اپنے دائرہ میں محدود رکھیے۔ اگر آپ نے دوسرے کے دائرہ میں مداخلت کی تو فوراً اس سے آپ کا ٹکرائو شروع ہوجائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپ کا جاری سفر رک جائے گا۔ اجتماعی زندگی میں جب خارج سے ایک علامت ظاہر ہو تو یہ جاننے کی کوشش کیجئے کہ اس علامت کے پیچھے اورکیا باتیں ہیں جو اگرچہ موجود ہیںلیکن بروقت وہ دکھائی نہیں دے رہی ہیں۔ اگر آپ نے صرف دکھائی دینے والی چیزوں کو دیکھا اور جو چیزیں دکھائی نہیں دے رہی ہیں ان سے بے خبر رہے تو مقابلہ کی اس دنیا میں آپ کبھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔
حقیقت پسندی
امریکا نے اگست 1945 میں اپنے دو ایٹم بم جاپان میں گرائے۔ اس کے نتیجہ میں جاپان تہس نہس ہو کر رہ گیا۔ مگر جاپانیوں کو اس پر غصہ نہیں آیا۔ کیونکہ امریکیوں کی کارروائی یک طرفہ نہیں تھی۔ بلکہ و ہ جاپان کی متشددانہ کارروائی کے جواب میں کی گئی — جاپانیوں کا یہی حقیقت پسندانہ مزاج ہے جس نے انہیں موجودہ زمانے میں غیر معمولی ترقی کے مقام تک پہنچایا ہے۔
امریکا نے جاپان کے دو بڑے صنعتی شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے۔ چند منٹ کے اندر دونوں آباد شہر عظیم الشان کھنڈر بن گئے۔ ان میں سے ہر ایک شہر 10 میل سے زیادہ بڑے رقبہ میں بسا ہوا تھا مگرجب ان پر ایٹم بم گرا تو یہ حال ہوا کہ انسان ، حیوان ، درخت سب جل بھن کر رہ گئے۔ ڈیڑھ لاکھ آدمی مرگئے۔ دس ہزار آدمی ایسے تھے جو حادثہ کے بعد فوراً بخارات میں تبدیل ہوگئے۔ آج یہ دونوں شہر شان دار طور پر دوبارہ آباد ہوچکے ہیں۔ چوڑی سڑکیں، کشادہ مکانات ، جگہ جگہ پارک اور باغ نے شہر کو بالکل نیا منظر عطاکیا ہے۔ اب شہر میں صرف ایک ٹوٹی ہوئی عمار ت باقی ہے جو دیکھنے والوں کو یاد دلاتی ہے کہ دوسری جنگ عظیم میں اس شہر پر کیسی قیامت آئی تھی۔
ہندوستان ٹائمس (نئی دہلی) کے ایڈیٹر مسٹر خوشونت سنگھ جاپان گئے تھے۔ اپنے سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ میں نے جاپان میں ایک بے حد عجیب بات دیکھی۔ جب کہ بقیہ دنیا نے ہیروشیما اور ناگاساکی کے واقعات کو بہت بڑے پیمانہ پر امریکا کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا ہے ، خود جاپانی ان واقعات کو امریکا کے خلاف نہیں لیتے۔ خوشونت سنگھ نے اپنے جاپانی رفیق سے اس کی بابت سوال کیا تو خلاف توقع اس نے نرم لہجہ میں کہا
unverifiedAttribution could not be verified automatically
We hit them first at Pearl Harbour. We killed a lot of them. They warned us of what they were going to do but we thought they were only bluffing. They beat us fair and square. We were quits. And now we are friends.
پہلے ہم نے ان کے پرل ہاربر پر حملہ کیا۔ ہم نے ان کے بہت سے لوگوں کو مارڈالا۔ اس کے جواب میں وہ جو کچھ کرنے والے تھے اس سے انہوںنے ہمیں آگاہی دی۔ مگر ہم نے سمجھا کہ یہ محض دھونس ہے۔ انہوں نے ہمیں کسی دھوکے کے بغیر کھلے طو رپرمارا۔ پہلے ہم ایک دوسرے سے دور تھے۔ اب ہم ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (ہندوستان ٹائمس، 4 اپریل 1981)۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
ایٹمی حملہ سے مرنے والوں کی یادگار ہیروشیما میں قائم کی گئی ہے۔ امن میوزیم (Peace Museum) میں جنگی تباہ کاریوں کی تصویریں بھی لگی ہوئی ہیں۔ ان چیزوں کو دیکھنے کیلئے ہر سال تقریباً 70 لاکھ جاپانی ہیروشیماآتے ہیں۔ گفتگو سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عام جاپانی کے دل میں امریکا کے خلاف نفرت چھپی ہوئی موجود ہے۔ تاہم وہ اپنے عملی رویہ میں اس کا اظہار ہونے نہیں دیتے۔ انہوں نے اپنے مخالفانہ جذبات پرحقیقت پسندی کا پردہ ڈال رکھا ہے۔ جاپانیوں کے اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ جنگ کے بعد بہت تھوڑی مدت میں انہوں نے دوبارہ غیر معمولی ترقی کرلی۔ ان کے یہاں نہ تیل نکلتا ہے اور نہ ان کے پاس معدنیات کی کانیں ہیں۔ ان کو بیش تر خام مال باہر سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اس کے باوجود جاپان آج اپنے اعلیٰ سامانوں کی بدولت دنیا کی مارکیٹ پر چھایا ہوا ہے۔
مسٹر خشونت سنگھ نے جاپان میں وکیلوں کی بابت معلوم کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ یہاں وکالت کے پیشہ کا حال اچھا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان جب کوئی نزاع پیدا ہوتی ہے تو وہ عدالت میں جانے کے بجائے باہمی گفتگو سے اس کو طے کرلیتے ہیں۔ جب آدمی اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار ہوتو جھگڑا کبھی آگے نہیں بڑھتا۔ جھگڑا ختم نہ ہونے کی وجہ اکثر حالات میں یہ ہوتی ہے کہ ایک آدمی یک طرفہ طور پر دوسرے کو الزام دیتا ہے۔ اس کی وجہ سے دوسرے کے اندر بھی ضد پیدا ہوجاتی ہے۔ اور مسئلہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔ جب ایک فریق اپنی جانب کی غلطی مان لے تو دوسرے کے اندر بھی جھکائو پیدا ہوگا اور مسئلہ وہیں کا وہیں ختم ہوجائے گا۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
اس حقیقت پسندانہ نقطہ نظر کا جاپان کویہ بہت بڑافائدہ ملاہے کہ ایک جاپانی دوسرے جاپانی پر اعتماد کرتا ہے۔ ہندوستان جیسے ملکوں میں تجارتی معاہدے اور تجارتی خط وکتابت عام طور پر ایسے ماہرین انجام دیتے ہیں جو بہت بندھے ہوئے الفاظ اور قانونی پہلوئوں کی کامل رعایت کرنے والی زبان لکھنا جانتے ہیں۔ مگر جاپانی اپنا وقت اس قسم کے تحریری مسودات تیار کرنے میں ضائع نہیں کرتے۔ امریکا میں قانون دانوں کی تعداد 50 ہزار ہے جبکہ جاپان میں قانون دانوں کی تعداد صرف 11 ہزار ہے۔ جاپان میں ایسے لفظی ماہرین کا زیادہ کام ہی نہیں۔
جاپان کے اکثر تجارتی ادارے زبانی معاہدوں پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اولاً اس کا رواج جاپانیوں کے باہمی تعلقات میں ہوامگر اب باہر کے تاجر بھی یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ جاپانی کے منھ سے بولے ہوئے لفظ پر بھروسہ کرسکتے ہیں۔ قانونی بندشوں سے آزادی کا یہ فائدہ ہے کہ کام تیزی سے ہوتا ہے او رغیر ضروری لفظی پابندیاں کارکردگی میں حارج نہیں بنتیں۔
جاپان کے اس مزاج نے اس کو باہمی اتحاد کا تحفہ دیا ہے۔ اور اتحاد بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ جاپان کی ترقی کا راز جاپانیات کے ایک ماہر نے ان لفظوں میں بیان کیا ہے
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Never quarrelling amongst themselves, always making everything together.
آپس میں کبھی نہ جھگڑنا، ہر کام ہمیشہ مل جل کر کرنا (ہندوستان ٹائمس 4 اپریل 1981ء)