Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

کردار کی طاقت

Urdu · 2 min read

لوگ عام طو ر پر دوہی قسم کے لوگوں کو طاقت ور سمجھتے ہیں۔ ایک وہ جن کے پاس مادی چیزوں کا ڈھیر ہو۔ دوسرے وہ جو داداگیری کرنا جانتے ہوں۔ مگر طاقت کا سب سے بڑا راز کردار ہے۔ مزید یہ کہ کردار ایک ایسی چیز ہے جس کا مالک ہر ایک آدمی بن سکتا ہے۔ اس کےلیے نہ مادی دیوہونا ضروری ہے اور نہ جسمانی پہلوان ہونا۔

مولانا محمد قاسم قاسمی (پیدائش 1957) مدرسہ حسین بخش دہلی میں استاد ہیں اور اسی کے ساتھ ایک مسجد میں امام ہیں۔

موصوف نے دہلی میں گھڑی کی مرمت کی دکان کھولی۔ ان کو اپنی دکان پر بٹھانے کے لیے ایک کاریگر کی ضرورت تھی۔ اس اثناء میں یہ ہوا کہ ایک روز ان کی مسجد میں ایک شخص نے نماز پڑھی۔ عمر تقریباً 40 سال تھی۔ تعارف کے بعد معلوم ہواکہ ان کا نام محمد دین کشمیری ہے اور وہ گھڑی کا کام جانتے ہیں۔

’’آپ دہلی میں کیسے آئے‘‘ مولانا محمد قاسم نے پوچھا۔

’’کام کی تلاش میں‘‘ محمددین کشمیری نے جواب دیا۔

’’آپ گھڑی کی مرمت کا کام جانتے ہیں‘‘۔

’’الحمدللہ جانتا ہوں اور میں اپنے کام پر مطمئن ہوں‘‘۔

’’دہلی میں کوئی آدمی ہے جو آپ کی ضمانت لے سکے‘‘۔

’’میرا ضامن صرف اللہ ہے۔ اگر آپ کو اللہ کی ضمانت پر اطمینان ہو تو میں اس کو اپنی ضمانت میں پیش کرسکتاہوں‘‘محمد دین کشمیری کی گفتگو کے اس انداز نے مولانا قاسم کو متاثر کیا اور انہوں نے ان کواپنی دکان پر رکھ لیا۔ اب اس واقعہ کو کئی مہینے گزر چکے ہیں اور خدا کے فضل سے دونوں فریق مطمئن ہیں۔ مولانا محمد قاسم صاحب کی دکان بھی کامیاب ہے اور محمد دین کشمیری صاحب کو بھی روزگارمل گیا ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ کردار خود اپنے اندر طاقت رکھتا ہے۔ اگر آدمی باکردار ہو تو اس کا باکردار ہونا اس کی زبان میں یقین اور عزم کی کیفیت پیدا کردیتا ہے اور جہاں یقین اور عزم آجائے وہاں کامیابی اسی طرح آتی ہے جس طرح سورج کے بعد روشنی اور پانی کےبعد سیرابی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content