Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raz e Hayat
Raz e Hayat

دنیا کا قانون

Urdu · 2 min read

گائے دودھ دیتی ہے۔ یہ ہر آدمی جانتا ہے۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو یہ سوچتے ہوں کہ گائے کیسے دودھ دیتی ہے۔ گائے دودھ جیسی چیز دینے کے قابل صرف اس وقت بنتی ہے جب کہ وہ گھاس کو دودھ میں کنورٹ(تبدیل( کرسکے۔ گائے جب اس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیتی ہے کہ وہ کم تر چیز کو اعلیٰ چیز میں تبدیل کرسکتی ہے ، اسی وقت یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ خدا کی دنیا میں دودھ جیسی قیمتی چیز فراہم کرنے والی بنے۔

یہی حال درخت کا ہے۔ درخت سے آدمی کو دانہ اور سبزی اور پھل ملتا ہے۔ مگر ایسا کب ہوتا ہے۔ ایسا اس وقت ہوتا ہے جب کہ درخت اس صلاحیت کا ثبوت دے کہ اس کے اندر مٹی اور پانی ڈالا جائے اور اس کو وہ تبدیل کرکے دانہ او رسبزی اور پھل کی صورت میں ظاہر کرے درخت کے اندر ایک کمتر چیز داخل ہوتی ہے او ر اس کو وہ اپنے اندرونی میکانزم کے ذریعہ تبدیل کردیتا ہے اور ا س کو برتر چیز کی صورت میں باہر لاتا ہے۔

یہی معاملہ انسانی زندگی کا بھی ہے۔ زندگی بھی اسی قسم کا امتحان ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ بھی یہی ہوتا ہے کہ اس کو محرومیوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ اس کو ناخوش گوار حالات پیش آتے ہیں۔ یہاں دوبارہ انسان کی کامیابی یہ ہے کہ وہ اپنے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کرسکے۔ وہ اپنی ناکامیوں کے اندر سے کامیابی کا راستہ نکال لے۔

یہی دنیا کا قانون ہے۔ انسان کے لیے بھی اور غیر انسان کے لیے بھی۔ جو کوئی اس خاص صلاحیت کو ثبوت دے، وہی اس دنیا میں کامیاب ہے، او رجو اس صلاحیت کا ثبوت دینے میں ناکام رہے وہ خدا کی اس دنیا میں اپنے آپ کو ناکامی سے بھی نہیں بچا سکتا۔

خدا کی گائے گویا خدا کی مرضی کا اعلان ہے۔ وہ بتاتی ہے کہ اس دنیا میں خدا کو ہم سے کیا مطلوب ہے۔ خدا کو ہم سے یہ مطلوب ہے کہ ہمارے اندر ’’گھاس‘‘ داخل ہو اور وہ ’’دودھ‘‘ بن کر باہر نکلے۔ لوگ ہمارے ساتھ برائی کریں تب بھی ہم ان کے ساتھ بھلائی کریں۔ ہمارے ساتھ ناموافق حالات پیش آئیں تب بھی ہم ان کو موافق حالات میں تبدیل کرسکیں۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.