Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raah-e-Amal
Raah-e-Amal

وقفہ تعمیر

Urdu · 2 min read

وقفۂ تعمیر

کائنات خدا کی خاموش کتاب ہے۔ وہ ربّانی حقیقتوں کی تمثیل کے روپ میں بیان کرتی ہے۔ آدمی اگر کائنات کی خاموش زبان کو سن سکے تو وہ اس کے لیے معرفت کا عظیم ترین کتب خانہ بن جائے۔

درخت کو دیکھیے ۔ درخت زمین سے نکلتا ہے تو وہ کمزور پودے کی مانند ہوتا ہے۔ اس کے تنہ میں ابھی طوفان کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہوتی۔ اس وقت درخت کیا کرتا ہے۔ وہ سراپا نرمی بن جاتا ہے۔ ہواؤں کے جھونکے آتے ہیں تو وہ ان کے مقابلے میں اکڑتا نہیں، بلکہ ہوا کا جھونکا اس کو جس طرف لے جانا چاہتا ہے، وہ اسی طرف چلا جاتا ہے۔ وہ حالی کی زبان میں،’’چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی‘‘ کی تصویر بن جاتا ہے۔

مگر اسی پودے کو 25سال بعد دیکھیے تو وہ بالکل دوسری تصویر پیش کر رہا ہوگا۔ اب وہ اپنے موٹے تنہ پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ اب جھکنے کا لفظ اس کی ڈکشنری سے خارج ہو چکا ہوتا ہے۔ وہ ہواؤں کے جھونکے سے غیر متاثر رہ کر سیدھا اپنی جڑوں پر کھڑا رہتا ہے۔ اب وہ زمین پر’’درخت‘‘ بن کر رہتا ہے، جب کہ اس سے پہلے وہ’’پودا‘‘ بن کر رہ رہا تھا۔

درخت اس طرح تمثیل کی زبان میں بتا رہا ہے کہ ہر آدمی پر ابتداءً وہ وقت آتا ہے جب کہ اس کو ایک وقفۂ تعمیر درکار ہوتا ہے۔ جب ضرورت ہوتی ہے کہ ہ اپنی جڑیں زمین میں داخل کرے۔ وہ اپنے تنہ کو مضبوط کرے۔ وہ اپنے آپ کو ایک طاقت ور وجود کی حیثیت سے نشوونما دے۔ اس وقفےکے دوران اس کو اس طرح نہیں رہنا چاہیے جس طرح کوئی شخص مضبوط اور مستحکم ہونے کے بعد رہتا ہے۔

اس ابتدائی مرحلہ میں اس کو نرمی اور موافقت(adjustment) کا مجسّمہ بن جانا چاہیے۔ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کی تعمیر کا وقفہ نہیں ملے گا، اور جو کوئی وقفۂ تعمیر سے محروم ہو جائے، وہ کبھی مرحلۂ تعمیر تک بھی نہیں پہنچے گا۔ ایسا شخص ہمیشہ کمزور پودا بنا رہے گا، وہ کبھی تناور درخت کا مقام حاصل نہیں کر سکتا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.