Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Raah-e-Amal
Raah-e-Amal

اخوت و مساوات کا مذہب

Urdu · 3 min read

انسان اور انسان کے درمیان فرق یا عدم مساوات قدیم ترین زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ قدیم زمانے میں توہمات (superstitious) کا غلبہ تھا۔ انسان طرح طرح کے توہماتی عقائد کے تحت انسانوں کے درمیان اِس غیر مساوی تقسیم کو برحق سمجھے ہوئے تھا۔ مثلاً یہ کہ سفید فام لوگ کسی اعلیٰ مادۂ تخلیق سے بنے ہیں اور سیاہ فام لوگ کسی ادنیٰ مادہ تخلیق سے۔ چنانچہ کچھ لوگ نسلی اعتبار سے برتر (superiors) ہیں اور کچھ لوگ ان سے کمتر (inferiors) ۔

موجودہ زمانے میں سائنسی افکار نے اس قسم کے عقیدے کو بالکل بے بنیاد ثابت کر دیا۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ عدم مساوات کو جائز قرار دینے والے تمام عقائد سراسر فرضی ہیں۔ علمی اعتبار سے ان کی کوئی واقعی بنیاد نہیں ۔ موجودہ زمانے میں نسلی امتیاز کے افسانوں (racial myths) کو بے بنیاد ثابت کرنے کے لیے کثرت سے علمی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ایک اہم کتاب کانام یہ ہے

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

I. Comas, The Race Question in Modern Science, 1956

اب انسان اپنے آپ کو ایک دوراہے پرکھڑا ہوا پاتا ہے۔ ایک طرف اس کا آبائی اور روایتی مذہب ہے۔ جس کی تعلیمات بدستور انسانی نابرابری کی تصدیق کر رہی ہیں۔ دوسری طرف اس کا سائنسی علم ہے جو اس قسم کے کسی عقیدےکو سراسر لغو قرار دیتا ہے۔ جدید انسان یہ محسوس کر رہا ہے کہ اپنے آبائی مذہب کو مانتے ہوئے وہ سائنسی بنیاد پر اپنی زندگی کی تشکیل نہیں کر سکتا۔

یہاں صرف اسلام ہے جو غیر محرّف ہونے کی بنا پر صحیح ترین تعلیمات کا حامل ہے نہ صرف یہ کہ اس معاملے میں اسلام کی تعلیمات عین سائنسی حقائق سے ہم آہنگ ہیں بلکہ اسلام عملی طور پر بھی انسانی مساوات کی واحد شاندار تاریخ رکھتا ہے۔ ایچ جی ویلز نے اعتراف کیا ہے کہ اسلام نے نہ صرف لفظی طور پرانصاف اور مساوات کی تعلیم دی بلکہ اس نے عملی طور پر ایک ایسا سماج بنایا جو تاریخ کے کسی بھی پچھلے سماج سے زیادہ بے رحمی اور اجتماعی ظلم سے پاک تھا

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

‘‘They created a society more free from widespread cruelty and social oppression than any society had ever been in the world before .’’ )p. 325(

other sourceWords of another person or source

مشہور ہندو مصلح سوامی ویویکا نند نے لکھا ہے کہ اگر کوئی مذہب کبھی قابل لحاظ حد تک عملی مساوات کے درجے کوپہنچا ہے تو وہ اسلام اور صرف اسلام ہے

other sourceWords of another person or source

‘‘My experience is that if ever any religion approached to this equality in an appreciable manner, it is Islam and Islam alone.) ’’ Letters of Swami Vivekananda, p. 379(

other sourceWords of another person or source

اسلام کےاس عملی پہلو نے اس کو اجارہ داری کی حد تک صداقت کا حامل بنا دیا ہے۔ آج کا انسان اخوت اور مساوات اور انصاف کی بنیاد پر جو انسانی سماج بنانا چاہتا ہے اس کے لیے ساری معلوم تاریخ میں عملی نمونہ صرف ایک ہے اور وہ اسلام کا نمونہ ہے۔ اقوام متحدہ کا ڈکلریشن آف ہیومن رائٹس موجودہ حالت میں صرف ایک لفظی یوٹوپیا ہے، کیوں کہ اس کے پیچھے کوئی عملی نمونہ موجود نہیں۔ مگر اسلامی تعلیمات کی پشت پر ایک معلوم مثالی تاریخ ہے جو ان تعلیمات کو عملی نمونہ کے روپ میں پیش کر رہی ہے۔یہ نمونہ انسان کو یقین دلاتا ہے کہ اعلیٰ اخلاقی تعلیمات قابلِ عمل بھی ہیں ، نہ کہ محض لفظی خیال آرائی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content