Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Raah-e-Amal
Raah-e-Amal

اسلام کی طاقت

Urdu · 2 min read

صوفیاء بطور خود تو پیغام محبت لے کر اٹھے تھے۔ مگر ان کا پیغام محبت بالواسطہ طور پر پیغام دعوت بن گیا۔ انہوں نے اپنی طرف سے محبت اور امن کی فضا بنائی۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ لوگ ضد اور تعصب کے بغیر اسلام کو دیکھنے لگے۔ وہ اس قابل ہو گئے کہ جب وہ اسلام کا مطالعہ کریں یا مسلمانوں سے تعلقات کے دوران جب اسلام کی کوئی بات سامنے آئے تو معتدل ذہن کے ساتھ اس پر سوچ سکیں۔ صوفیاء کے پیدا کردہ ماحول نے لوگوں کے درمیان اور اسلام کے درمیان ہر قسم کی نفسیاتی رکاوٹ کو ختم کر دیا۔ جب ایسا ہوا تو لوگ کثرت سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگے۔ انہوں نے جوق درجوق اسلام قبول کرنا شروع کر دیا۔

آج بھی یہی تاریخ دہرائی جا سکتی ہے ، بشرطیکہ مسلمان صوفیاء کی تاریخ کو دہرانے کے لیے تیار ہوں۔ وہ داعی اورمدعو کے درمیان یکطرفہ طور پر نفرت اور کشیدگی کی فضا کو ختم کر کے دوبارہ وہ معتدل ماحول بنائیں جب کہ لوگ کسی توحش کے بغیر اسلام کو دیکھیں اور اس کو اپنے دل کی آواز پا کر اسے اختیار کر لیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی مدعو قوموں سے اسلام کے نام پر بےشمار جھگڑے چھیڑے ہوئے ہیں۔ ان جھگڑوں نے مدعوقوموں کے اندر اسلام کے خلاف نفرت اور بیزاری کی فضا پیدا کررکھی ہے۔ یہی فضا اسلام کی اشاعت میں اصل رکاوٹ ہے۔ مسلمان اگر یہ تمام جھگڑے یکطرفہ طور پر ختم کر دیں تو فوراً دونوں کے درمیان معتدل فضا قائم ہو جائے گی۔ لوگ جوق در جوق اسلام کی طرف راغب ہونے لگیں گے۔

غیر مسلم اقوام میں اسلام کی اشاعت کے لیے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ تلخی اور بیزاری کی موجودہ فضا کو ختم کر دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اگر صرف اتنا کریں کہ وہ کچھ نہ کریں تب بھی وہ بہت بڑا کام کریں گے ، وہ اسلام کی اشاعت کا سیلاب جاری کر دیں گے جو آج ان کی کارروائیوں ہی کی وجہ سے رک گیا ہے اور جو داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی کو بڑھا کر معتدل فضا کو ختم کیے ہوئے ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.