Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Raah-e-Amal
Raah-e-Amal

پیغمبر اسلام کی ہدایت

Urdu · 5 min read

حدیث کی کتابوں میں کثرت سے ایسی روایتیں آئی ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحاب حکومت سے نزاع کرنے کو منع فرمایا حضرت عبادہ بن الصامت انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بیعت لی تو اس میں ہم سے جن چیزوں کا عہد لیا، اس میں ایک یہ بھی تھا کہ ہم اصحابِ امر سے جھگڑا نہیں کریں گے وَعلٰی أَنْ لَا ‌نُنَازِعَ ‌الْأَمْرَ أَهْلَهُ۔ (صحيح البخاري،حدیث نمبر7055)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

سَمِعْتُ عَوْفَ بْنَ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيَّ يَقُولُسَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صلى الله عليه وسلم يقولوَشِرَارُ أَئِمَّتِكُمُ الَّذِينَ تُبْغِضُونَهُمْ وَيُبْغِضُونَكُمْ، وَتَلْعَنُونَهُمْ وَيَلْعَنُونَكُمْ. قَالُوا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَلَا نُنَابِذُهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ؟ قَالَ لَا، ‌مَا ‌أَقَامُوا ‌فِيكُمُ ‌الصَّلَاةَ، لَا، ‌مَا ‌أَقَامُوا ‌فِيكُمُ ‌الصَّلَاةَ۔ (صحيح مسلم،حدیث نمبر1855) یعنی عوف بن مالک الاشجعی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ وہ لوگ بہت برے امیر ہیں جوتم سے نفرت کریں اور تم ان سے نفرت کرو۔ صحابہ نے کہاکہ اے خدا کے رسول، جب ایسا ہو تو کیا ہم ان سے جنگ نہ کریں۔ آپ نے فرمایاکہ نہیں، جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کو قائم رکھیں ، نہیں جب تک وہ تمہارے درمیان نماز کو قائم رکھیں۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد تم بہت سی برائیاں اور حکومت میں بگاڑ دیکھو گے۔ صحابہ نے کہاکہ اے خدا کے رسول ، آپ اس وقت کے لیے ہم کو کیا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ان کا حق انہیں ادا کرو اور اپناحق اللہ سے مانگو‌ ‌أَدُّوا ‌إِلَيْهِمْ ‌حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللهَ حَقَّكُمْ۔ (صحيح البخاري، حدیث نمبر 7052)

quoted sourceQuoted from another author or source

وائل بن حجر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اگر ہمارے اوپر ایسے حکمراں قائم ہو جائیں جو اپنا حق ہم سے مانگیں اور ہمارا حق ہم کونہ دیں۔ تو ایسے وقت میں آپ ہمیں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ سنو اور اطاعت کرو، کیوں کہ ان کے اوپر ان کی ذمہ داری ہے اور تمہارےاوپر تمہاری ذمہ داری اسْمَعُوا وَأَطِيعُوا فَإِنَّمَا ‌عَلَيْهِمْ ‌مَا ‌حُمِّلُوا وَعَلَيْكُمْ مَا حُمِّلْتُمْ۔(سنن الترمذي،حدیث نمبر 2199)

quoted sourceQuoted from another author or source

عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تم میں سے جو شخص اپنے امیر کی طرف سے ایسی بات دیکھے جو اس کو ناپسند ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس پر صبر کرے۔ مَنْ ‌رَأَى ‌مِنْ ‌أَمِيرِهِ شَيْئًا يَكْرَهُهُ فَلْيَصْبِرْ عَلَيْهِ۔ ( صحيح البخاري، حدیث نمبر6646)

quoted sourceQuoted from another author or source

إذَا ‌عَدَلَ ‌السُّلْطَانُ ‌فَعَلَى ‌الرَّعِيَّةِ ‌الشُّكْرُ، ‌وَلِلسُّلْطَانِ ‌الْأَجْرُ. ‌وَإِذَا ‌جَارَ ‌فَعَلَى ‌الرَّعِيَّةِ ‌الصَّبْرُ، وَعَلَى السُّلْطَانِ الْوِزْرُ۔ (شرح السيرالكبيرللسرخسی، صفحہ 158)یعنی عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلطان اگر عدل کرے تو اس کی رعایا کو چاہیے کہ وہ شکر کرے اور اگر وہ ظلم کرے تو رعایا کو چاہیے کہ وہ صبر کرے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کا مطلب بے عملی نہیں، وہ عین عمل ہے۔ وہ انفعالیت نہیں بلکہ فعالیت کا سبق دیتی ہے۔ وہ حکمتِ عمل ہے ، نہ کہ ترکِ عمل۔ وہ پسپائی نہیں بلکہ اقدام کی اعلیٰ ترین قسم ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حکومت، سماج کے تابع ہوتی ہے ، نہ کہ سماج حکومت کے تابع۔ اس لیے اگر کوئی شخص حکومت میں خرابی دیکھے تو اس کو سماج کی سطح پر اپنا اصلاحی عمل جاری کر دینا چاہیے۔ یہی اصلاح کا صحیح اور اسلامی طریقہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاسیاسی نزاع سے روکنے کا مطلب دراصل کوششوں کارخ پھیرنا ہے۔ اس کامطلب یہ ہے کہ سیاست کے میدان میں سر نہ ٹکراؤ ، بلکہ تعمیر کے میدان میں اپنا کام شروع کر دو، اس طرح تم زیادہ بہتر طور پر اپنی منزل تک پہنچ سکتے ہو۔

درخت کی پتیاں مرجھائیں تو کوئی بھی شخص ایسا نہیں کرتا کہ وہ پتیوں پر پانی بہائے۔ اس کے برعکس وہ درخت کی جڑوں میں پانی ڈالتا ہے۔ کسی کے بلب میں کرنٹ نہ آ رہا ہو تو وہ بلب پر محنت نہیں کرتا، بلکہ پاور ہاؤس سے ربط قائم کرتا ہے۔ کیوں کہ جڑ میں پانی ہونے سے درخت کی پتیاں سرسبز ہوتی ہیں۔ اسی طرح بلب اس وقت روشن ہوتا ہے جب کہ پاور ہاؤ س سے اس کو کرنٹ بھیجا جا رہا ہو۔

یہی معاملہ انسانی سماج کا بھی ہے۔انسانی سماج کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک ، حکمراں افراد اور دوسرے عوام۔ عوام کی حیثیت جڑ کی ہے اور حکمراں افراد کی حیثیت پتیوں کی۔ یا عوام بمنزلہ پاور ہاؤس ہیں اور حکمراں افراد بمنزلہ بلب۔ ایسی حالت میں یہاں بھی بگاڑ کی اصلاح کا صحیح طریقہ وہی ہے جو درخت اور پاور ہاؤس کی مثال میں پایا جاتا ہے۔ اگر حکمراں افراد کے اندر بگاڑ نظر آئے تو حکمراں افراد سے نہ لڑیے بلکہ عوام کی اصلاح شروع کر دیجیے ۔ پتیوں کے مسئلے کو جڑ کی سطح پر حل کیجیے ۔ حکمراں افراد کے اندر بگاڑ دیکھ کر حکمراں افراد سے لڑنا صرف سماجی تخریب میں اضافہ کرتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر ایسا کیا جائے کہ حکمراں افراد میں بگاڑ ظاہر ہونے کے مواقع پر عوامی اصلاح کے محاذ پر جدوجہد کی جائے تو اس سے سماج کی تعمیر ہوتی ہے اور اس کے بعد نتیجتاً حکمراں طبقے کی اصلاح۔

یہی وہ اہم سماجی مصلحت ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ تم جیسے ہو گے اسی طرح کے حکمراں تمہارے اوپر مقرر کیے جائیں گے كَمَا تَكُونُونَ ‌كَذَلِك ‌يُؤمر ‌عَلَيْكُم۔(مسند الشہاب القضاعی، حدیث نمبر 577 ) مٹی سے برتن بنتا ہے، برتن سے مٹی نہیں بنتی۔ اسی طرح عوام سے حکومت بنتی ہے ، حکومت سے عوام کی تشکیل نہیں ہوتی۔ اس لیے جو شخص حقیقی معنوں میں نتیجہ دیکھنا چاہتاہو، اس کو چاہیے کہ وہ سماج کو اپنی اصلاحی جدوجہد کانشانہ بنائے۔ افرادِ حکومت سے ٹکراؤ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content