Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Raah-e-Amal
Raah-e-Amal

تبدیلی انسان کے بجائے تبدیلی حکومت

Urdu · 3 min read

تبدیلی ِانسان کے بجائے تبدیلی ِحکومت

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے ساتھ یہ المیہ پیش آیا کہ مغربی قومیں جدید طاقتوں سے مسلح ہو کر اپنے علاقوں سے نکلیں اور لاکھوں نے ایشیا اور افریقہ میں پھیلی ہوئی تقریباً پوری مسلم دنیا پر سیاسی غلبہ حاصل کر لیا۔ اس کے بعد خود اللہ تعالیٰ نے ان کے ’’دفع‘‘ کا انتظام کیا۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم نے مغربی اقوام کو اتنا کمزور کر دیا کہ ان کے لیے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ خود اپنی طاقت سے ایشیا اور افریقہ کے ملکوں پر اپنا قبضہ باقی رکھ سکیں۔ چنانچہ انھوں نے ایک کے بعد ایک اپنے مقبوضہ ملکوں کو آزاد کرنا شروع کیا یہاں تک کہ بیسویں صدی کے وسط تک تمام مسلم ممالک ان کے سیاسی قبضے سے آزاد ہو گئے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آزادی کے بعد ان ملکوں کی حکومت جن مسلم افراد کے ہاتھ میں آئی وہ اگرچہ مغربی طرز کی تعلیم پائے ہوئے تھے۔ مگر قدیم روایتی نظام کا اثر بھی ان کے اوپر نہایت گہرا تھا۔ وہ خواہ بظاہر ’’کوٹ پتلون‘‘ پہنتے ہوں مگر ان کے دلوں میں اسلام کے لیے نرم گوشہ موجود تھا۔ یہ ایک زبردست امکان تھا جس کو استعمال کر کے آزاد شدہ مسلم ممالک میں اسلام کے ایک نئے دور کا آغاز کیا جا سکتا تھا۔ مگر مسلمانوں کے دینی رہنماؤں نے ہر جگہ صرف مواقع کو برباد کرنے کا کام انجام دیا ہے۔ وہ کہیں بھی مواقع کو استعمال کرنے کی لیاقت کا ثبوت نہ دے سکے۔ اس کی واحد وجہ یہی تھی کہ وہ ’’اتباع سُبل‘‘ کے طریقے پر دوڑتے رہے ، وہ ’’اتباعِ صراط‘‘ کا طریقہ اختیار کرنے میں ناکام رہے۔

اس سلسلے میں مصر اور پاکستان کی مثال لیجیے ۔ مصر میں شاہ فاروق کی حکومت ختم ہونے کے بعد فوجی افسر برسرِاقتدار آئے۔ ان فوجی افسروں کے دل میں اسلام کی گہری ہمدردی موجود تھی۔ انھوں نے وہاں کی دینی جماعت (الاخوان المسلمون) کو ملک کی وزارتِ تعلیم کی پیش کش کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ملک کے تعلیمی نظام کو اپنے ہاتھ میں لے کر جدید نسل کی تربیت کیجیے اور یہاں اسلام کے لیے ایک نئے مستقبل کی داغ بیل ڈالیے۔ مگر مصر کی دینی جماعت کے رہنما اس پیش کش کو قبول نہ کر سکے۔ اس کے برعکس، انھوں نے خود فوجی حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کی لاحاصل کوشش شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دینی رہنماؤں اور فوجی حکمرانوں میں ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ تمام بہترین مواقع برباد ہو کر رہ گئے۔

یہی صورت حال پاکستان میں پیش آئی۔ پاکستان کے سابق حکمراں جنرل محمد ایوب خاں نے وہاں کی دینی جماعت (جماعت اسلامی پاکستان) کو پیش کش کی کہ آپ لوگ ایک انٹرنیشنل معیار کی اسلامی یونیورسٹی بنائیے۔ اس کا سارا خرچ حکومت فراہم کرے گی۔ حکومت کی اس پیشکش کو قبول کرکے وہاں کے دینی رہنما ایک نئی مسلم نسل تیار کر سکتے تھے جو دور جدید میں اسلام کے احیاء کا کام کر سکے۔ مگر پاکستان کے دینی رہنما دوبارہ اس مہم میں لگ گئے کہ وہ حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کریں۔ نتیجہ دوبارہ یہی ہوا کہ تمام بہترین تعمیری امکانات باہمی ٹکراؤ میں برباد ہو گئے اور بالآخر ملت کے حصے میں کچھ بھی نہ آیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content