Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza
Raah-e-Amal Maazi,Haal aur Mustaqbil ka Jayeza

Nakami ka eateraaf

Urdu · 6 min

ناکامی کا اعتراف: الإخوان المسلمون 1928 میں قائم ہوئی، 1938 میں اس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا، بہت جلد اس کے اثرات اکثر عرب ملکوں میں پھیل گئے۔ اس جماعت کا فکر یہ تھا کہ حکومت کا ادارہ سب سے زیادہ طاقتور ادارہ ہے، وہی سماج کی صورت گری کرتا ہے۔ اس لیے سماج کی اصلاح کے لیے ضروری ہے کہ حکومت کے ادارے پر قبضہ کیا جائے۔ اس تحریک کے زیرِ اثر اس کے افراد مختلف عرب ملکوں کی حکومتوں سے ٹکرا گئے۔

انہوں نے حکمران افراد کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں ساری طاقت لگا دی۔ یہی کام پاکستان میں وہاں کے اسلام پسندوں کے ذریعے 1947 میں شروع ہوا، جو آج تک برابر جاری ہے۔ مگر پچھلی نصف صدی کی کوششوں کے نتائج مکمل طور پر برعکس صورت میں برآمد ہوئے ہیں۔ ان حضرات کی کوششوں نے مسلم معاشروں کے فساد اور بربادی میں تو ضرور اضافہ کیا، مگر وہ ان کو تعمیر اور اصلاح کی طرف لے جانے میں کامیاب نہ ہو سکے۔

مزید یہ کہ ان ہنگامہ خیز کوششوں کا آخری نتیجہ یہ ہوا کہ مصر اور پاکستان دونوں جگہ سیکولر افراد حکومت کے شعبوں پر قابض ہیں، اور اسلام پسندوں کا اقتدار میں کوئی حصہ نہیں۔ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالمحسن التركی کے جس مقالے کا اوپر حوالہ دیا گیا، اس میں موصوف نے بجا طور پر کہا ہے کہ معاشرہ چھلانگ کے ذریعے نہیں بدلتا، اس کو صرف تدریج کے ذریعے بدلا جا سکتا ہے۔ إن المجتمعات لا تتغير بالطفرة بل بالتدريج. صوت الامہ، بنارس، رجب 1408 ہجری، صفحہ 21۔

اصل یہ ہے کہ صالح حکمران صالح معاشرے سے پیدا ہوتا ہے۔ جب بھی حکمران میں بگاڑ نظر آئے تو مصلحین کو معاشرے کی اصلاح میں سرگرم ہو جانا چاہیے، کیونکہ صالح معاشرے کی زمین ہی سے صالح حکمران برآمد ہوگا۔ ایسی حالت میں حکمران سے سیاسی جنگ شروع کرنا صرف حالات کو مزید بگاڑنے کے ہم معنی ہے۔ اس کی زندہ مثال پاکستان ہے۔

پاکستان جن علاقوں پر مشتمل ہے، اس کے باشندوں کی دینی و اخلاقی حالت 1947 سے پہلے اس سے بہتر تھی جو آج وہاں پائی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ پاکستان بننے کے بعد وہاں کے اسلام پسند رہنما حکمرانوں کے خلاف سیاسی لڑائی لڑنے میں مشغول ہو گئے۔ اس لڑائی میں وہ یہاں تک گئے کہ انہوں نے تمام روایتیں توڑ ڈالیں، مثلاً سیاسی قتل، سطحی مظاہرے، عوام پسند نعرے، سیاسی پارٹیوں والے ہتھکنڈے، ناجائز کو جائز اور جائز کو ناجائز کرنا، مثلاً فاطمہ جنہ کی صدارت، اسلامائزیشن کے نام پر کوڑے اور پھانسی کی سیاست وغیرہ۔ ان چیزوں کا نتیجہ صرف یہ ہوا کہ پاکستان کے عوام کو اسلام سے اور علماء سے نفرت ہو گئی۔

45 سالہ اسلامی سیاست کے بعد، نومبر 1988 میں جب عوام کو آزادانہ انتخاب کا موقع ملا، تو پہلے ہی الیکشن میں انہوں نے اسلام پسندوں کو ہرا کر سیکولر لیڈروں کو کامیاب کر دیا۔ موجودہ زمانے میں نام نہاد اسلامی سیاست کی ناکامی، بلکہ اس کا الٹا نتیجہ برآمد ہونا، ایک ایسا واقعہ ہے جس کو خود اس حلقے کے سنجیدہ لوگ اب تسلیم کر رہے ہیں۔ اس کی ایک مثال اخوانی رہنما ڈاکٹر حسن ترابی کا وہ مقالہ ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا۔ یہ بات جو ان رہنماؤں کو معلوم ہوئی ہے، وہ انہیں نصف صدی کے ناکام تجربے سے پہلے ہی معلوم ہو سکتی تھی، بشرطیکہ انہوں نے سنت رسول کا گہرا مطالعہ کر کے اپنی تحریک شروع کی ہوتی۔

الإخوان المسلمون اور اسی طرح پاکستان کی اسلام پسند جماعت کا آغاز بطور ردعمل ہوا۔ اپنے قریبی سیاسی حالات سے متاثر ہو کر وہ حکمرانوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔ اس کے برعکس اگر وہ ایسا کرتے کہ تحریک شروع کرنے سے پہلے سنت رسول کا گہرا مطالعہ کرتے، تو وہ اس معاملے میں اصل حقیقت کو اول دن ہی پا سکتے تھے۔ اس کے بعد ان کی تحریک صحیح اسلامی رخ پر چلتی اور بالآخر صحیح اسلامی انجام تک پہنچتی۔

کتاب "راہِ عمل" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 56۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.