Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)

Khulasa-e-Kalaam.

Urdu · 3 min

خلاصۂ کلام: قرآن 7ویں صدی عیسوی میں اترا، اول دن سے یہ مطلوب تھا کہ قرآن عالمی سطح پر انسانوں کے درمیان پہنچے۔ اس کام کی کچھ شرطیں تھیں، وہ شرطیں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے پوری ہو چکی ہیں، اب صرف یہ کام ہے کہ کچھ لوگ اٹھیں اور قرآن کو عالمی سطح پر لوگوں تک پہنچا دیں۔ اللہ کی توفیق سے پہلا کام یہ ہوا کہ قرآن کے متن کو امت نے پوری طرح محفوظ کر دیا۔ قرآن کے متن کو اس طرح محفوظ کر دیا گیا کہ اب اس کے مستند ہونے میں کوئی شک نہیں۔

اسی کے ساتھ وہ تمام اسباب مکمل طور پر فراہم کر دیے گئے جو ان سب کے لیے ضروری تھے، مثلاً: 1) پرنٹنگ پریس کا وجود میں آنا، 2) عالمی کمیونیکیشن، اس کے تحت قرآن تمام لوگوں کے لیے قابلِ حصول ہو گیا، 3) انٹرنیشنل زبان یعنی انگریزی زبان کا وجود میں آنا، 4) مذہبی تعصب کا خاتمہ، 5) علمی انفجار یعنی نالج ایکسپلوژن، 6) عالمی سطح پر نقل و حمل کی آسانی، 7) اسپرٹ آف انکوائری، 8) مذہبی افہام و تفہیم یعنی ریلیجس انڈرسٹینڈنگ کا کھلا ماحول، 9) حاملینِ قرآن کے پاس وسائل کی مکمل موجودگی، مثلاً تیل اور گیس کے ذخائر کا ہونا، 10) امن کو خیرِ اعلیٰ کی حیثیت دینا، 11) بین مذاہب تعلقات پر زور، 12) اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم سے مذہبی اشاعت کی کامل آزادی کا معاہدہ، 13) سائنسی تحقیقات کے ذریعے آفاق و انفس کی نشانیوں کا ظاہر ہونا، 14) ماڈرن انسان کسی بات کو اس وقت قبول کرتا ہے جبکہ بات ریزن کو اپیل کرتی ہو، وغیرہ۔ یہ تمام ظاہرِ دعوت الی اللہ کے حق میں ہیں۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ قرآن کی اشاعت کا کام بھرپور طور پر انجام دے دیا جائے۔ سی پی ایس انٹرنیشنل اسی مقصد کے حصول کے لیے قائم کیا گیا ہے، یعنی تمام انسانوں کو خدا کے پیغام سے باخبر کرنا۔

اس کے ذریعے یہی کام انجام دیا جا رہا ہے۔ دعا ہے کہ یہ کام اپنی آخری منزل تک پہنچ جائے۔ الرسالہ، ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 50۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.