← Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)Qususi Shumara-Tareeq ka Mutalaah(Al-Risala September 2020)
Tableegh-e-Risalat ka Nizaam.
Urdu · 5 min
تبلیغِ رسالت کا نظام اللہ کے مقرر کردہ نظام کے مطابق تبلیغِ رسالت کا نظام یہ ہے کہ اللہ کا پیغام پہلے فرشتوں کے ذریعے رسولوں تک آتا ہے، اور پھر رسول اس پیغام کو اپنے زمانے کے انسانوں تک پہنچاتا ہے۔ یہ اصول قرآن کی اس آیت میں بیان کیا گیا ہے: «اللّٰهُ يَصْتَفِي مِنَ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّٰهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» سورہ نمبر 22 آیت 75۔ یعنی اللہ فرشتوں میں سے اپنا پیغام پہنچانے والا چنتا ہے، اور انسانوں میں سے بھی۔ بے شک اللہ سننے والا، دیکھنے والا ہے۔
اس آیت میں اصلًا پیغمبر کے انتخاب کی بات ہے، لیکن طبعًا امت محمدی کے افراد بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔ سنتِ الٰہی کے مطابق پیغمبر کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا، لیکن دعوت کا کام ختم نہیں ہوا، بلکہ وہ پیغمبر کی امتیوں کے ذریعے بدستور جاری ہے۔ گویا دعوتِ الٰہی کے پیغام کے چار مرحلے ہیں: پہلے مرحلے میں اللہ رب العالمین سے فرشتے تک، دوسرے مرحلے میں فرشتے سے پیغمبر تک، اور تیسرے مرحلے میں پیغمبر کے ذریعے اپنے معاصر انسانوں تک، اور آخری مرحلے میں امت کے منتخب افراد کے ذریعے عہد بہ عہد تمام انسانوں تک۔ یہ نظام عین فطرت کے مطابق ہے۔
موجودہ زمانے میں یہ ذمہ داری امت محمدی کے اہلِ علم کی ہے کہ وہ پیغمبر سے ملے ہوئے دینِ خداوندی کو ہر زمانے کے انسانوں تک پہنچاتے رہیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن کی اس آیت میں بیان ہوئی ہے: «وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَتَلِّ تَكُونُوا شُهَدَاءً عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا» سورہ نمبر 2 آیت 143۔ یعنی اور اس طرح ہم نے تم کو بیچ کی امت بنا دیا، تاکہ تم ہو بتانے والے لوگوں پر، اور رسول ہو تم پر بتانے والے۔ پہلے انسان یعنی آدم سے لے کر محمد ابن عبداللہ علیہم السلام تک، ایک لاکھ سے زیادہ پیغمبر انسان کی طرف آئے۔
صحیح ابن حبان، حدیث نمبر 361۔ انہوں نے انسان کو بتایا کہ یہ زمین تمہارے لیے ابدی قیام گاہ، یعنی ایٹرنل ہیبیٹیٹ، نہیں ہے، بلکہ یہ تمہارے لیے ایک عارضی قیام گاہ، یعنی ٹیمپرری ابڈ ہے۔ یہاں تمہیں یہ موقع دیا گیا ہے کہ تم اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو جنت کا مستحق، یعنی ڈیزرونگ کینڈیڈیٹ بناؤ، اور تاریخِ انسانی کے خاتمے پر جنت کی شکل میں اپنے مطلوب ابدی ہیبیٹیٹ میں جگہ پاؤ۔ ساتویں صدی عیسوی میں محمد عربی کے ظہور کے بعد انبیاء کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا، مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان پھر بھی پیدا ہو کر زمین پر آباد ہو رہے ہیں۔
مگر خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق انسان پھر بھی پیدا ہو کر زمین پر آباد ہو رہے تھے۔ اب یہ سوال تھا کہ بعد کو پیدا ہونے والے انسانوں تک خدائی رہنمائی کی نمائندگی کون کرے؟ ساتویں صدی عیسوی میں ختمِ نبوت سے پہلے خدا کی طرف سے اس رہنمائی کی ذمہ داری پیغمبروں نے ادا کی۔ اس اعتبار سے تمام پیغمبر امتِ وسط، یعنی مڈل امہ، کی حیثیت رکھتے تھے۔
ان کے ایک طرف اللہ رب العالمین تھا اور ان کے دوسری طرف تمام انسان۔ انہوں نے اس رہنمائی کو اللہ سے لیا اور پورے معنوں میں ناصح اور امین۔ الاعراف سورہ نمبر 7 آیت 68 بن کر اس کو انسانوں تک پہنچایا۔ ختمِ نبوت کے بعد یہ ذمہ داری امت مسلمہ کی ہے کہ پیغمبروں کے طریقے پر تمام انسانوں کو خدا کا پیغام پہنچائیں۔
یہی اللہ رب العالمین کا مقرر کردہ دعوتِ حق کا نظام ہے۔ اس نظام میں جو لوگ واسطہ بنیں، ان کے اوپر فرض ہے کہ وہ اس نظام کے اندر اپنی ذمہ داری کو دریافت کریں، اور پھر پوری تیاری کے ساتھ اس ذمہ داری کی ادائیگی میں لگ جائیں۔ دعوت کا یہ پرامن کام مکمل طور پر غیر سیاسی، یعنی نان پولیٹیکل اور نان کمیونل انداز میں کرنا ہے۔ مزید یہ کہ اس کام کو اس اصول کے تحت انجام دینا چاہیے جس کو قرآن میں تالیفِ قلب، التوبہ سورہ نمبر 9 آیت 60 کہا گیا ہے۔
تالیفِ قلب ایک ابدی اصول ہے، وہ کبھی اور کسی حال میں منسوخ ہونے والا نہیں۔ الرسالہ ستمبر 2020، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 34۔