Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Iqwane rasool.

Urdu · 6 min

اخوانِ رسول، دورِ آخر میں مہدی یا مسیح جو کارنامہ انجام دیں گے، وہ کوئی پراسرار قسم کا شخصی کارنامہ نہیں ہوگا؛ وہ اسی طرح اسباب و علل کے تحت پیش آئے گا جیسا کہ پچھلے پیغمبروں کے زمانے میں پیش آیا۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام نے مسلمہ طور پر ایک عظیم کارنامہ انجام دیا۔ یہ کارنامہ انجام دینے کے لیے خدا نے آپ کو مضبوط افراد کی ایک ٹیم دی، جس کو اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ اسی طرح مہدی یا مسیح جو کارنامہ انجام دیں گے، انہیں بھی خدا کی خصوصی مدد کے ذریعے ایک طاقتور ٹیم حاصل ہوگی۔

غالباً یہی وہ ٹیم ہے جس کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وَدِدْتُ أَنْ قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا قَالُوا أَوَ لَسْنَا إِخْوَانُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ أَنْتُمَ أَصْحَابِي وَإِخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ. صحیح مسلم، کتاب الطہارا، باب استحباب إطالة الغرة والتعجيل في الوضوء۔

یعنی میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنے اخوان کو دیکھیں۔ صحابہ نے کہا کہ اے خدا کے رسول، کیا ہم آپ کے اخوان نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ تم میرے اصحاب ہو۔ ہمارے اخوان وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے، وہ آئندہ آئیں گے۔

اصحابِ رسول اور اخوانِ رسول کا معاملہ کوئی پراسرار معاملہ نہیں۔ ان دونوں گروہوں کی نوعیت کو قرآن و حدیث کے مطالعے سے سمجھا جا سکتا ہے۔ اصحابِ رسول کی نوعیت قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتی ہے۔ اس آیت کے الفاظ یہ ہیں: مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ سورہ الفتح، آیت 29۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول کو جو اعلیٰ ایمانی درجہ ملا، اس کا راز کیا تھا۔ اس اعلیٰ ایمانی درجے کے حصول کا راز قرآن کے الفاظ میں "معیتِ رسول" تھا۔ پیغمبرِ اسلام کی صحبت اور معیت سے فیضیاب ہو کر وہ اصحابِ رسول اور خیرِ امت۔ سورہ آل عمران، آیت 110۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوانِ رسول کا معاملہ بھی قرآن میں مذکور ہے۔ اخوانِ رسول کا ذکر قرآن کی سورہ نمبر 41 میں بالواسطہ طور پر موجود ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: آئندہ ہم اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ ان پر کامل طور پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ سورہ حامم، السجدہ، آیت 53۔

قرآن کی اس آیت میں یہ پیشنگوئی کی گئی تھی کہ ایک زمانہ آئے گا جب کہ نیچر میں چھپی ہوئی صداقتِ اسلام کی نشانیاں ظاہر ہوں گی، وہ طالبانِ حق کے لیے اعلیٰ معرفت کا ذریعہ بنیں گی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس دور سے مراد موجودہ سائنسی دور ہے۔ موجودہ سائنسی دور میں عالمِ فطرت کے ایسے حقائق انسان کے علم میں آئے ہیں جو بلاشبہ معرفتِ اعلیٰ کا ذریعہ ہیں۔ اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے غالباً یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اخوانِ رسول وہ اہلِ ایمان ہیں جو سائنسی دور میں پیدا ہوں گے اور سائنسی دریافتوں سے ذہنی غذا لے کر اعلیٰ معرفت کا درجہ حاصل کریں گے۔

نیز یہی وہ لوگ ہوں گے جو مہدی یا مسیح کا ساتھ دے کر آخری زمانے میں اعلیٰ دعوتی کارنامہ انجام دیں گے۔ اس معاملے کی ایک مثال سورج گرہن یعنی سولر اکلپس اور چاند گرہن یعنی لونار اکلپس کا خلائی ظاہرہ ہے۔ گرہن کیا ہے؟ گرہن دو سماوی اجرام کے درمیان کسی تیسرے قرے کے گزرنے سے پیدا ہونے والے اندھیرے کا نام ہے۔

اکلپس the obscuring of the reflected light from one celestial body by the passage of another between it. اصحابِ رسول کا زمانہ ساتویں صدی کے نصفِ اول کا زمانہ ہے۔ اس زمانے میں سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں عجیب و غریب قسم کی کہانیاں مشہور تھیں۔ یہ معاملہ اس وقت توہمات کے پردے میں ڈھکا ہوا تھا۔

اصحابِ رسول نے توہماتی کہانیوں سے اوپر اٹھ کر سورج گرہن اور چاند گرہن کے معاملے کو جانا۔ انہوں نے یہ دریافت کیا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن خداوندِ عالم کی دو نشانیاں ہیں۔ وہ خدا کی قدرت کا آسمانی مظاہرہ ہیں۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر انہوں نے سورج گرہن اور چاند گرہن کو دیکھ کر خدا کی معرفت حاصل کی اور نماز کی صورت میں خدا کے آگے جھک کر خدا کی عظمت کا اعتراف کیا۔

موجودہ سائنسی دور میں دوربینی مشاہدے کے ذریعے شمسی نظام یعنی سولر سسٹم کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ معلومات بلاشبہ ازدیادِ ایمان اور اضافہ معرفت کا ذریعہ ہیں۔ ان نئی معلومات کی روشنی میں جب آج کا ایک مومن سورج گرہن اور چاند گرہن کے ظاہرے کو دیکھتا ہے تو اس کو اس اعلیٰ معرفت کا تجربہ ہوتا ہے جو دل کو دہلا دے اور جس کو جس کو سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ جدید معلومات کے مطابق زمین اور سورج اور چاند تین بالکل مختلف سائز کے متحرک اجرام ہیں، مگر وسیع خلا میں ان اجرام کو ایک ناقابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک سیدھ میں لایا جاتا ہے۔

اسی کے نتیجے میں انسانی مشاہدے کی نسبت سے سورج گرہن یا چاند گرہن واقع ہوتا ہے۔ کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 54۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.