تفریحی کلچر: موجودہ زمانے میں ہر طرف تفریحی کلچر، یعنی انٹرٹینمنٹ کلچر، کا رواج ہے۔ ہر عورت اور مرد صرف ایک بات کو جانتے ہیں، اور وہ ہے زندگی کو بھرپور انجوائے کرنا۔ آج کل لوگوں کا سب سے زیادہ مقبول فارمولا یہ ہے کہ "ابھی اور اسی وقت"، رائٹ ہیر، رائٹ ناؤ۔ موجودہ زمانے میں اس نظریے پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔
ان مصنفین میں سے ایک علامتی نام سگمنڈ فرائیڈ، وفات 1939 کا ہے۔ اس نے اس نظریے کی زبردست وکالت کی۔ اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انسان کے اندر جو خواہشات، یعنی ڈیزائرز ہیں، انہی پر انسانی شخصیت کے بننے یا نہ بننے کا انحصار ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی خواہشات کو دبائیں تو آپ کی شخصیت گھٹی ہوئی خواہشات، یعنی ری پریسڈ ڈیزائرز، کا کیس بن جائے گی۔
آپ کی شخصیت میں ارتقاء، یعنی گروتھ، کا عمل رک جائے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی ہر خواہش کو آزادانہ طور پر پورا کریں۔ اسی گمراہ کن نظریے کے رواج کا نتیجہ ہے کہ آج ساری دنیا میں اباحیت، یعنی پرمسیونس، کا طریقہ رائج ہو گیا ہے، اور انسانی سماج خوش پوش حیوانوں کا ایک جنگل بن کر رہ گیا ہے۔ سگمنڈ فرائیڈ اور اس قسم کے دوسرے مغربی مفکرین کے اس نظریے میں ایک بہت بڑا مغالطہ چھپا ہوا تھا، وہ یہ کہ انہوں نے انسانی شخصیت کے ارتقاء، یعنی پرسنیلٹی ڈیولپمنٹ، کو خواہشات کی تکمیل سے جوڑ دیا، حالانکہ اس کا تعلق انسان کے مائنڈ سے تھا۔
یہ دراصل انسان کا مائنڈ ہے جو شخصیت کے ارتقاء میں مددگار بنتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس معاملے میں خواہشات کی پیروی ایک ڈسٹریکشن کی حیثیت رکھتی ہے، وہ ذہنی ارتقاء کے عمل کو روکنے کا سبب بن جاتی ہے۔ دجالی فتنہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کوئی نیا فتنہ نہیں، وہ شیطانی فتنے کی صورت میں ہمیشہ جاری رہا ہے۔ البتہ بعد کے دور میں صرف یہ ہوگا کہ یہ فتنہ ایک باقاعدہ تہذیب کی صورت اختیار کر لے گا۔
وہ ایک خوشنما کلچر کی صورت اختیار کر کے لوگوں کے درمیان ایک پسندیدہ چیز کے طور پر رائج ہو جائے گا۔ یہ جدید دریافتوں کے غلط استعمال کی ایک ایسی صورت ہوگی جس کے بعد برائی کا کوئی اور درجہ نہیں۔ کتاب "قیامت کا علام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 35۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.