Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Qiyamat ka Alarm
Qiyamat ka Alarm

Nazriya-e-irteqa.

Urdu · 2 min

نظریۂ ارتقاء: عضویاتی ارتقاء، یعنی Organic evolution کا نظریہ، اسی قسم کا ایک دجالی نظریہ ہے۔ چارلس ڈارون وفات 1882 اور دوسرے علمائے حیاتیات نے یہ دریافت کیا کہ مختلف انواعِ حیات کے جسمانی ڈھانچے میں بہت زیادہ مشابہتیں، یعنی similarities، پائی جاتی ہیں؛ مثلاً بلی اور شیر کے جسمانی ڈھانچے میں مشابہت، وغیرہ۔ ان مشابہتوں سے انہوں نے یہ نظریہ وضع کیا کہ حیاتیات کی دنیا میں ایک ارتقائی عمل واقع ہوا ہے۔ اس عمل کے دوران ایک قسم کی انواعِ حیات، عضویاتی ارتقاء کے نتیجے میں خود بخود دوسری قسم کی انواعِ حیات میں تبدیل ہوتی چلی گئیں۔

یہ بلاشبہ مغالطے کا ایک معاملہ تھا: انواعِ حیات کے درمیان مشابہتوں سے جو چیز ثابت ہوتی ہے، وہ صرف انواع میں تنوع، یعنی variety، ہے۔ یعنی ہر نوع الگ الگ خصوصی تخلیق کے ذریعے وجود میں آئی۔ البتہ خالق نے انواع کی تخلیق کے لیے ایک دوسرے سے مشابہ جسمانی ڈھانچہ اختیار کیا۔ گویا کہ مشاہدہ صرف تنوع کو ثابت کر رہا تھا، لیکن اس کی مغالطہ آمیز توجیہ کر کے عضویاتی ارتقاء کا دعویٰ کر دیا گیا۔

اس نظریے میں بظاہر خدا کا انکار نہیں ہے، لیکن عملاً وہ خدا کو زندگی سے بے دخل کر دینے کے ہم معنی ہے۔ نظریۂ ارتقاء کے مطابق زندگی کا پورا عمل طبیعی انتخاب، یعنی natural selection، کے ذریعے اپنے آپ ہو رہا ہے۔ یہ نظریہ خدا کو زندگی کے معاملے میں اتنا زیادہ بے اثر بنا دیتا ہے کہ خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہو کر رہ جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کا عقیدہ عملی زندگی میں بالکل غیر مؤثر ہو کر رہ گیا ہے۔

اس صورتحال کا سب سے بڑا سبب یہی نظریۂ ارتقاء ہے۔ کتاب "قیامت کا علام" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 33۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.