تاریخ کا عظیم واقعہ: یاجوج اور ماجوج کے ذریعے جو واقعہ پیش آئے گا، وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے تاریخ کا بہت بڑا واقعہ ہوگا۔ اس انقلاب کے ذریعے تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوگا کہ فطرت، یعنی نیچر، بڑے پیمانے پر پرستش کے بجائے تسخیر کا موضوع بنے گی۔ اس کے نتیجے میں زمین اپنے خزانے اگل دے گی۔ اس کے نتیجے میں وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: «لَا تَدَّخِرُ الْأَرْضُ مِنْ نَبَاتِهَا شَيْئًا إِلَّا أَخْرَجَتْهُ» ابن ماجہ، کتاب الفتن۔
یعنی زمین اپنے اندر کی تمام پیداوار باہر نکال دے گی، وہ اس میں سے کچھ بھی نہ چھوڑے گی۔ فطرت کے اندر چھپے ہوئے مادی رازوں کو دریافت کرنے کا یہ عمل مغربی سائنس دانوں کے ذریعے پیش آئے گا۔ یہ سائنس دان مکمل طور پر سیکولر سائنس دان ہوں گے۔ مذہب کے معاملے میں وہ پوری طرح غیر جانبدار، یعنی انڈیفرنٹ، ہوں گے۔
مذہب کے معاملے میں ان کا رویہ نہ مثبت رویہ ہوگا اور نہ منفی رویہ۔ تاہم فلاسفہ اور مفکرین ان کی تحقیقات کو اپنے اپنے مقصد کے لیے استعمال کریں گے۔ اس طرح ان کے دو گروہ بن جائیں گے: سیکولر مفکرین اور مذہبی مفکرین۔ دورِ سائنس کے ظہور کے بعد دنیا میں جو مفاسد پیدا ہوئے، وہ خود سائنس کا نتیجہ نہ تھے، بلکہ وہ تمام تر الحاد، یعنی ایتھیزم، کا نتیجہ تھے۔
کتاب قیامت کا علام مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 19۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.