← Nashri-TaqreerenNashri-Taqreeren
کامیابی کا راز
Urdu · 7 min
کسی کا قول ہے کہ قیدی ہونا برا ہے ، مگر سب سے برا قیدی وہ ہے جو اپنی سوچ کا قیدی ہو ۔ یعنی جو طرز فکر ایک بار اس کا بن جائے وہ اس کے خول میں بند ہو ۔ اس محدود ذہنی ماحول سے باہر آکر وہ کچھ نہ سوچ سکے۔
other sourceWords of another person or source
جیل خانہ کی قید آدمی کے جسم کو دیواروں کے پیچھے بند کر دیتی ہے، مگر اس کا ذہن پھر بھی آزا درہتا ہے۔ اس کا جسم ایک کمرہ کے اندر گھرا ہوا ہوتا ہے۔ مگر اس کی فکر لا محدود فضا میں پرواز کرنے کے لیے آز اد ر ہتی ہے۔ لیکن جو آدمی اپنی سوچ کا قیدی ہو جائے اس نے گویا اپنے پورے وجود کو قید و بند میں مبتلا کر لیا۔
مثلا آپ کو گھر یا محلہ کے کسی شخص سے تکلیف پہنچی۔ اس نے آپ کے جذبات کو ٹھیس لگادی۔ اس کے بعد آپ کے اندر یہ خیال ابھر آیا کہ اس آدمی کو سبق پڑھانا ہے ۔ آپ صبح و شام اسی رخ پر سوچنے لگے۔ یہاں تک کہ آپ کا یہ حال ہو گیا کہ آپ کو اس کے سوا کوئی اور بات یاد نہ رہی کہ فریق ثانی کو سبق پڑھا کر اپنے جذبات کو ٹھنڈا کریں۔
یہ گویا سوچ کا قیدی ہونا ہے۔ یہ انتقامی سوچ کے خول میں اپنے آپ کو بند کر لینا ہے۔ اگر آپ انتقامی سوچ میں گم نہ ہو جاتے اور اپنے ذہن کو پوری طرح کھلا رکھتے تو آپ کو معلوم ہوتا کہ اپنے حریف کو جواب دینے کا اس سے بھی زیادہ کارگر طریقہ یہاں موجود ہے۔
یہ زیادہ کارگر طریقہ کیا ہے۔ وہ ہے انتقامی ذہن کے بجائے درگزر کے ذہن سے سوچنا۔ زیادتی کرنے والے کو سبق سکھانے کے بجائے اس کو نظر انداز کر دینا۔ جس آدمی نےآپ کے ساتھ بدسلوکی کی ہے اس کے ساتھ اچھے سلوک کا معاملہ کرنا۔
جو لوگ سوچ کے قیدی ہوں ان کا ذہن ہمیشہ ایک ہی رخ پر چلتا ہے ۔ اور ایک رخ پر سوچنے والا آدمی کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس، جو لوگ سوچ کے قیدی نہ ہوں وہ کھلے ذہن کے ساتھ رائے قائم کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ وہ ہر ممکن طریقے پر بے لاگ انداز میں غور کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مختلف راستوں میں سے اس صحیح ترین راستہ کو پالیتے ہیں جو انھیں کامیابی کی منزل تک پہنچانے والا ہو۔
کسی مفکر نے کہا ہے کہ کوئی شخص کسی کا اتنا بڑا دشمن نہیں ہوسکتا جتنا بڑا دشمن وہ خود اپنا ہوتا ہے۔ یہ قول بلاشبہ صد فی صد درست ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
مثلا ایک شخص نے اگر آپ کا ایک ہزار روپیہ چوری کر لیا تو اس نے آپ کو ایک وقتی نقصان پہنچایا۔ لیکن اگر آپ اس ہزار روپیہ کا غم لے کر بیٹھ جائیں یا روپیہ لے کر بھاگنے والے کی نفرت اپنے دل میں بٹھا لیں تو آپ برسہا برس تک منفی نفسیات میں مبتلا ر ہیں گے ۔ اور منفی نفسیات سے زیادہ بری چیز انسان کے لیے اور کوئی نہیں۔
آپ کے پڑوس میں ایک شخص نے آپ سے زیادہ بڑا گھر بنا لیا ہے۔ یا اس کے لڑکے ترقی کر کے آپ سے آگے بڑھ گئے۔ اس فرق کو دیکھ کہ آپ حسد اور جلن میں مبتلا ہو گئے ۔ اب غور کیجیے تو پڑوسی آدمی نے بظا ہر آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا تھا لیکن آپ حسد میں مبتلا ہو کر اپنا نقصان آپ کر رہے ہیں۔ کیونکہ حسد آدمی کے خون کو جلاتا ہے ۔ آپ کا پڑوسی تو ترقی کی راہ پر چل کر اپنا خون بڑھا رہا ہے لیکن آپ حسد میں مبتلا ہو کر اپنا خون جلا رہے ہیں ۔ اور اس طرح خود اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاک کر رہے ہیں۔
کسی کا قول ہے کہ سکھانے والوں کی کمی نہیں۔ مگر سیکھنے والے کہیں دکھائی نہیں دیتے۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو ہر بستی اور ہر سماج پر صادق آتی ہے ۔
original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it
آپ سڑک پر دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اپنی گاڑی دوڑاتا ہو ا آ یا۔ اچانک ایک غیر متوقع صورت حال پیش آئی۔ وہ اپنی گاڑی کو کنٹرول نہ کر سکا۔ اس کی گاڑی الٹ گئی۔ وہ بھی تباہ ہو گیا اور اس کی گاڑی بھی۔ یہ واقعہ ہلاک ہونے والے کے لیے حادثہ ہے اور دیکھنے والے کے لیے ایک سبق ہے۔ مگر کوئی گاڑی والا اس سے سبق نہیں لیتا۔ ہر آدمی بدستور اپنی گاڑی تیز دوڑاتا رہتا ہے اور اس غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ جو کچھ ہوا دوسرے کے ساتھ ہوا، میرے ساتھ ایسا نہیں ہو گا۔
آپ دیکھتے ہیں کہ دو آدمی ایک مسئلہ پر لڑ گئے ۔ دونوں نے ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ یہاں تک کہ وہ پولیس کیس بن گیا۔ دونوں کئی سال تک تھانہاور عدالت میں دوڑتے رہے۔ آخر کار دونوں تباہ ہو کر بیٹھ گئے۔ اس قسم کے واقعات ہر روز پیش آتے ہیں۔ لوگ انھیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ مگر کوئی دیکھنے والا اس سے سبق نہیں لیتا۔ کسی سے جھگڑا پیش آنے پر ہر آدمی دوبارہ اس کہانی کو دہراتا ہے جو اس سے پہلے بار بار دہرائی گئی ہے اور ہر بار نا کام ہوئی۔
حقیقت یہ ہے کہ آدمی اگر اپنی آنکھ اور اپنے کان کو کھول کر دنیا میں رہے تو وہ پائیگا کہ ہر لمحہ اور ہر مقام پر کوئی سبق دینے والا اسے سبق دے رہا ہے۔ حتی کہ انسان کے علاوہ دوسری مخلوقات بھی سبق دینے کی اس مہم میں شریک ہیں۔
اگر آدمی کے اندر سبق لینے کی صلاحیت زندہ ہو تو اس کو خود تجربہ کر نے کی ضرورت نہیں۔ دوسروں کے تجربات ہی اس کو ہر قسم کا بہترین سبق دینے کے لیے کافی ہو جائیں گے۔
نوٹ یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے 21جولائی 1994کو نشر کی گئی۔