Maulana Wahiduddin Khan
5 min left
0:00

← Nashri-Taqreeren
Nashri-Taqreeren

برداشت کیجیے

Urdu · 5 min

شیلر نے کہا ہے ’’ نفسانی خواہشات کا جنون تھوڑی دیر رہتا ہے مگر اس کا پچھتاوا بہت دیر تک‘‘۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر بڑی بڑی حماقتیں وقتی جذبہ کے تحت ہوتی ہیں۔ جب وقتی جذبہ ختم ہو جاتا ہے تو زندگی بھر آدمی افسوس کرتا رہتا ہے کہ اس نے ایسا کیوں کیا۔ اعتدال کی حالت میں آدمی خود ہی یہ مان لیتا ہے کہ بے اعتدالی کی حالت میں اس نے جو کچھ کیا وہ غلط تھا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

میری ملاقات ایک وکیل صاحب سے ہوئی۔ وہ فوج داری کے مقدمات کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اپنی قانونی پریکٹس کے دوران میرا تعلق بہت سے قاتلوں سے ہوا۔ میں نے پایا کہ ہر قاتل اپنے قاتلانہ فعل پر شرمندہ تھا۔ وکیل صاحب نے کہا کہ قتل ہمیشہ وقتی جذبہ کے تحت ہوتا ہے۔ وقتی جوش میں آکر ایک آدمی دوسرے آدمی کو مار ڈالتا ہے۔ اس کے بعد جب اس کو ہوش آتا ہے تو ساری زندگی وہ پچھتا تا رہتا ہے۔ اس کا ضمیر ہمیشہ اس سے یہ کہتا ہے کہ کاش میں نے ایسانہ کیا ہوتا۔ قاتل کی بعد کی زندگی ایک ایسی سزا ہوتی ہے جو اس کے ضمیر کی عدالت نے خود اس کے اوپر نافذ کیا ہو۔

جب بھی آپ پر اس قسم کا جذبہ سوار ہو توفوری کارروائی سے رک جائیے۔ آپ کا رکنا ہی آپ کی اصلاح بن جائے گا۔ شام کے وقت اگر آپ پر جذ بہ طاری ہو اور آپ کسی طرح اقدام سے بچ کر اپنے کو بستر پر پہنچا دیں تو اگلے دن جب آپ سو کر اٹھیں گے تو آپ کا جذبہ ٹھنڈا پڑ چکا ہوگا۔ آپ کو خود یہ سوچ کر تعجب ہوگا کہ کل آپ کا کیا حال ہو گیا تھا۔

انگریزی زبان میں ایک کہاوت ہے’’ انتقام کی پلیٹ ٹھنڈی کر کے کھا‘‘ آپ کے سامنے کھانا آئے اور وہ زیادہ گرم ہو۔ ایسی حالت میں اگر آپ فوراً اس کو کھانے لگیں تو کیا ہوگا۔ خود آپ کا منہ جل جائے گا۔ ہر عقلمند آدمی ایسےگرم کھانے کو ٹھنڈا کر کے کھانا پسند کرے گا۔ یہی طریقہ ہم کو روزمرہ کی زندگی میں اختیار کرنا ہے۔ انتقام کی آگ بجھا کر ہم کو لوگوں سے معاملہ کرنا ہے۔ اگر کسی کے اوپر آپ کو غصہ آجائے تو پہلے اپنے غصہ کو ٹھنڈا کیجیے۔ اس کے بعد سو چیے کہ آپ کو اپنے فریق کے ساتھ کیا کرنا چاہیے منفی ذہنیت کے ساتھ کوئی شخص نہ صحیح طور پر سوچ سکتا اور نہ صحیح طور پر یہ فیصلہ کرسکتا کہ اسے فی الحقیقت کیا کرنا چاہیے۔

اسی بات کو شیکسپیئر نے ان لفظوں میں کہا ہے ’’اپنے دشمن کے لیے اپنی بھٹی کو اتنا گرم نہ کر کہ وہ خود تجھ کو بھون ڈالے‘‘۔ یہ ظاہر ہے کہ جنون کی آگ سب سے پہلے آدمی کے اپنے اندر بھڑکتی ہے۔ اگر آدمی اپنے اندر تیز آگ بھڑ کالے تو دوسرے تک اس کا اثر بعد کو پہنچے گا۔ آدمی اس سے پہلے اپنے آپ کو جلائے گا۔ پھر آپ ایسی حرکت کیوں کریں جس کا نقصان دوسرے تک پہنچانا مشتبہ ہو مگر خود اپنی ذات کو یقینی طور پر اس کا نقصان پہنچنے والا ہو۔ اگر آپ کو اپنے آپ سے محبت ہے تو یہی کافی ہے کہ آپ دوسرے سے نفرت کرنا چھوڑ دیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس دنیا میں اپنے آپ سے محبت کا راز بھی یہی ہے کہ آدمی دوسروں سے محبت کرے ۔ جو شخص دوسروں سے نفرت میں مبتلا ہو جائے وہ خود اپنے لیے ہر طرف نفرت کے کانٹے بکھیرے گا۔ لوگوں کے درمیان خود اپنے لیے سکون کے ساتھ رہنے کو ناممکن بنادے گا۔ نفرت پر اپنی زندگی کی بنیاد رکھنا یہ ثابت کر تا ہے کہ آدمی معتدل حالت میں نہیں ہے ۔ بائرن نے صحیح کہا ہے ’’ نفرت دل کا پاگل پن ہے‘‘۔ دماغی پاگل پن یہ ہے کہ آدمی ہوش کھو دے۔ دل کا پاگل پن یہ ہے کہ آدمی سنجیدگی اور اعتدال کھو دے— کوئی شخص دماغی پاگل پن کو پسند نہیں کرتا۔ اسی طرح دل کا پاگل پن بھی اس قابل ہے کہ آدمی اس سے دور رہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آل انڈیاریڈیو، نئی دہلی، سے 13-14دسمبر 1984ء کو نشر کیا گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content