Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Nashri-Taqreeren
Nashri-Taqreeren

زندگی کا معرکہ

Urdu · 8 min

’’سب کچھ لٹ جانے پر بھی مستقبل باقی رہتا ہے‘‘۔ بودی کا یہ قول زندگی کی ایک اہم حقیقت کو بیان کر رہا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے امکانات لٹ گئے ہوں تو وہ یقینی طور پر ماضی کے امکانات ہوں گے نہ کہ مستقبل کے امکانات ۔ آدمی خواہ کتنا ہی زیادہ برباد ہو جائے۔ بہر حال اس کی بربادی اس کے ماضی کی بربادی ہوتی ہے۔ اس کا مستقبل پھر بھی پوری طرح اس کے لیے موجود ہوتا ہے ۔ مستقبل کی طرف اپنے سفر کا آغاز کر کے دوبارے اپنے لیے ایک نئی کامیاب زندگی پا سکتا ہے ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کسی حادثہ سے دو چار ہونے کے بعد اگر آدمی یہ کہہ سکے کہ میں نے ’’ماضی کو کھویا ہے مگر میں نے مستقبل کو نہیں کھویا‘‘۔ تو گویا کہ اس نے جو چیز کھوئی تھی اس سے بھی زیادہ بڑی چیز اس نے دوبارے پالی۔

کیوں کہ اس کا یہ احساس اس کو ایک نیا آغاز عطا کرتا ہے ، اور اس دنیا میں حقیقی آغاز ہی کا دوسرانام کامیابی ہے ۔

رابرٹ کو لیئر نے نہایت صحیح کہا ہے کہ ’’انسان کی سب سے اچھی دوست اس کی دس انگلیاں ہیں‘‘۔ دس انگلیوں سے اس کی مراد آدمی کے دو ہاتھ ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی کے دو ہاتھ جن میں اس کی دس انگلیاں ہیں ، یہ اتنے قیمتی ہیں کہ ساری دنیا کا تمام سونا بھی ان کی قیمت نہیں۔ آدمی جب اپنا باہر کا اثاثہ کھو چکا ہو ، اس وقت بھی اس کی دس انگلیاں اس کے پاس پوری طرح موجود ہوتی ہیں۔ انہیں انگلیوں اور انہیں دونوں ہاتھوں سے اس نے پایا تھا جو کچھ اس نے حاصل کیا تھا ۔ اب دوبارے وہ ان کو استعمال کر کے پھر وہی چیز پا سکتا ہے جس کو اس نے پہلے حاصل کیا تھااور پھر اس نے ان کو کھو دیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

مسٹر جے سی ملک ایک فوجی پائلٹ تھے ۔ انہوں نے اپنے تجربات کی روشنی میں فائٹر پائلٹ (ہندستان ٹائمس 5 مئی 1982) کے بارے میں ایک مضمون شائع کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ فوجی پائلٹ جب ایک جنگی جہاز لے کر اڑتا ہے تو یہ اس کے لیے گویا موت کی طرف سفر کرنے کے ہم معنی ہوتا ہے ۔ اس کا آواز سے تیز رفتار جہاز اتنی بلندی پر اڑتا ہے جہاں عملاً مہیب خلا کے سوا اور کچھ دکھائی نہیں دیتا ۔ وہ اپنا سارا سفر مشین کے اعتماد پر کرتا ہے ۔ وہ یاتو اپنا کام کرکے دوبارے اپنے سابقہ مقام پر واپس آجاتا ہے یا دشمن کا نشانہ بن کر ختم ہو جاتا ہے۔

other sourceWords of another person or source

فوجی پائلٹ کے اس جوکھم کے سفرکا ذکر کرتے ہوئے مسٹر ملک نے ایک بڑا سبق آموز جملہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ پائلٹ کے اندر اس وقت جو آدمی ہے وہ ڈر کو جانتا ہے مگر اس کے اندر جو کارکن ہوا باز ہے اس نے اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کر رکھا ہے کہ وہ اس پر قابو پائے 

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

The man in him knows fear. But the professional pilot in him has taught and trained himself to master it

یہ بات جو مضمون نگار نے فوجی پائلٹ کے بارے میں کہی ہے وہی زندگی کے عام معرکہ کے لیے بھی صحیح ہے ۔ زندگی ایک سخت معرکہ ہے جس کا سامنا ہر آدمی کو کرنا پڑتا ہے۔ انسان کی کمزوریاں اس کو ڈراتی ہیں۔ اس کے بظاہر نا موافق حالات اس کو بے ہمت کرتے ہیں۔ لیکن آدمی کو اگر زندگی کا معرکہ جیتنا ہے تو اس کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو سنبھالے، مشکلات سے گھبرانے کے بجائے وہ مشکلات پر فتح حاصل کرنے کی کوشش کرے ۔

’’حافظہ پیچھے دیکھتا ہے اور امید آگے‘‘ رام چندر ٹنڈن کا یہ قول اسی حقیقت کو ایک اور انداز سے بیان کرتا ہے۔ ڈریا نا امیدی در اصل حافظہ کا ایک معاملہ ہے ۔ ہمارے ذہن میں جو پچھلی یا دیں چھپی ہوئی ہیں ان میں سے کسی یاد کو ہم اپنے ساتھ جوڑ کر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ صورت جو فلاں کے ساتھ پیش آئی تھی وہ ہمارے ساتھ بھی نہ پیش آجائے ۔ اگر ہم پچھلی یادوں کو نظر انداز کر کے آگے کے امکانات پر اپنے ذہن کو جما دیں تومعلوم ہوگا کہ جہاں ہم صرف خطرہ دیکھ رہے تھے وہیں ہمارے لیے ایک نیا شاندار، امکان چھپا ہوا تھا ۔ کسی نے صحیح کہا ہے— ہر خاتمہ ایک نئے امکان کا آغاز ہے مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس راز کو جانتے ہوں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک مقولہ ہے کہ ہوائیں اکثر اوقات اس رخ کے خلاف چلتی ہیں جو کہ کشتیاں چاہتی ہیں (الرِّيَاحُ فِي مُعْظَمِ الأَحْيَانِ تَجْرِي عَلَى خِلَافِ مَا تُرِيدُهُ السُّفُنُ)۔

زندگی ایک ناہموار سفر ہے ۔ زندگی میں بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے باہر کے حالات بالکل ویسے ہی ہوں جیسا کہ آپ چاہتے ہیں ۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ حالات آپ کے ساتھ موافقت نہیں کرتے ۔ آپ کو اپنی زندگی کا سفر حالات سے لڑ کر طے کرنا ہوتا ہے ۔

زندگی کی مثال دندانہ دار پہیہ ( cog wheel) کی ہے ۔ ایک دندانہ انسان کا ہے اور دوسرا دندانہ قدرت کا ۔ جب تک قدرت کا پہیہ نہ چلے ، انسان کا پہیہ نہیں چل سکتا۔

انسان جو کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے وہ ان کو محض اپنی ذاتی کوشش سے حاصل نہیں کر سکتا۔ ذاتی کوشش کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ باہر کے اسباب اس کے ساتھ موافقت کریں۔ گویا کہ موجودہ دنیا میں کسی کامیابی کو پانے کے لیے بیک وقت دو چیزیں ضروری ہیں ۔ ایک ،آدمی کی اپنی ذاتی محنت ، دوسرے ، باہر کے حالات کی موافقت ۔

آدمی کو یقیناً اپنے آپ پر قابو حاصل ہے ۔ مگر خارجی اسباب پر اس کا کوئی اختیار نہیں۔ ایسی حالت میں موجودہ دنیا میں کامیابی کی صرف ایک ہی صورت ہے ۔ یہ کہ ہم اپنی زندگی کا منصوبہ بناتے ہوئے خارجی اسباب کا بھی ضرور لحاظ رکھیں۔ خشکی پر چلنے کی قوت رکھتے ہوئے سمندر میں چھلانگ نہ لگائیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ حالات سے ہم آہنگی کرکے اپنا راستہ نکالنے کا نام کامیابی ہے۔ اگر چہ بہت سے لوگ حالات سے لڑ کر اپنا راستہ نکالنے کو کامیابی کا راز سمجھ لیتے ہیں ۔

نوٹیہ تقریر 10-11دسمبر 1982کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content