Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Nashri-Taqreeren
Nashri-Taqreeren

شکایت نہیں

Urdu · 7 min

ٹامس کارلائل کا قول ہے ’’کیا تم نے اس آدمی کے بارے میں نہیں سنا جو سورج کو اس لیے کوستا تھا کہ وہ اس کی سگرٹ نہیں جلاتا‘‘۔ کار لائل نے جو بات تمثیلی انداز میں کہی ہے وہ ہم میں سے اکثر لوگوں پر پوری طرح صادق آتی ہے ۔ آپ کو بے شمار لوگ کسی نہ کسی کی شکایت کرتے ہوئے ملیں گے ۔ حکومت کی شکایت ، پڑوسیوں کی شکایت ، رشتہ داروں کی شکایت، دوستوں کی شکایت۔ اور اسی طرح دوسری شکایت ۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ اکثر شکایتیں بالکل بے بنیاد ہوتی ہیں۔ وہ اپنی کوتاہی کے لیے دوسرے کو ذمہ دار ٹھہرانے کے ہم معنی ہوتی ہیں۔ وہ ایسی ہی ہیں جیسے کوئی سگرٹ پینے والا اپنا سگرٹ سورج کی طرف کرکے یہ چاہے کہ سورج کی گرمی سے اس کا سگریٹ جل جائے۔ اور سورج جب اس طرح اس کے سگریٹ کو نہ جلائے تو وہ سورج کو کوسنے لگے۔ حالانکہ ایسے آدمی کو اپنی بے عقلی اور اپنی بے ہمتی کا شاکی ہونا چاہیے نہ کہ آسمان کے سورج کا ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کسی نے بالکل بجاطور پر کہا ہے کہ ’’جتنی زیادہ امید اتنی ہی زیادہ مایوسی‘‘ جب بھی آپ کو کسی شخص سے شکایت پیدا ہوتو سمجھ لیجیے کہ آپ نے اس شخص سے اس سے زیادہ کی امید کرلی تھی جو امیدفی الواقع آپ کو اس سے کرنی چاہیے تھی ۔ اگر آپ ایک لکڑی سے یہ امید قائم کرلیں کہ وہ آپ کے لیے لوہے کا کام دے گی تو اس کے بعد مایوسی کے سوا اور کیا چیز آپ کے حصہ میں آئے گی۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

ایک شخص جس کے پاس آپ کے لیے صرف زبانی ہمدردی تھی اس سے آپ نے عملی ہمدردی کی امید قائم کرلی ۔ ایک شخص جس کو آپ سے صرف اتنا تعلق تھا کہ وہ ملاقات کے وقت آپ کو چائے پلادے اس سے آپ نے یہ امید کرلی کہ وہ آپ کے لیے پیسہ خرچ کرے گا اور آپ کی خاطر جان لڑائے گا۔ ایک شخص جو آپ کا صرف رسمی د و ست تھا اس کے بارے میں آپ نے یقین کر لیا کہ وہ آپ کا جگری دوست ثابت ہوگا۔ ایک شخص جو صرف اچھے حالات میں آپ کا ساتھ دے سکتا تھا اس کے متعلق آپ نے یہ امید باندھ لی کہ وہ برے حالات میں آپ کا ساتھی بنے گا۔ ایک شخص جو صرف بناؤ کے وقت شریف رہ سکتا تھا اس سے آپ نے یہ توقع کر لی کہ وہ بگاڑ کے وقت بھی شریف بنا رہے گا۔ یہ سب چیزیں حقیقت واقعہ کے خلاف ہیں اور موجودہ دنیا میں حقیقت واقعہ کے خلاف چیزوں کا کوئی وجود نہیں۔

اس قسم کی امیدیں کبھی پوری نہیں ہوسکتیں۔ اس لیے وہ آپ کے حق میں بھی پوری نہیں ہوئیں۔ زندگی کا راز یہ ہے کہ کسی دوسرے شخص سے میں بس اس کی طاقت کے بقدر چاہا جائے، اس سے زیادہ نہیں ۔ اگر آپ ایسا کریں کہ دوسروں سے اتنی ہی امید کریں جتنی امید ان سے کرنی چاہیے تو آپ کو کبھی کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ کسی نے سچ کہا ہے کہ ’’مطمئن زندگی کا سب سے بڑا راز حقیقت پسندی ہے‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

آپ صرف ایک سادہ سی بات کو پکڑ لیجیے اور اس کے بعد آپ کو کبھی کسی سے شکایت نہ ہوگی۔ ’’اپنے آپ کو بھی اسی پیمانہ سے ناپیے جس پیمانہ سے آپ دوسروں کو ناپنا چاہتے ہیں‘‘۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کسی معاملہ میں ایک شخص سے بگڑ جاتا ہے کہ اس نے ایسا کیا اور ایسا کیا۔ حالانکہ اگر وہ اس طرح سوچے کہ میں اس شخص کی جگہ ہوتا تو ایسے حالات میں کیا کرتا تو یقیناوہ اس رائے پر پہنچے گا کہ ایسے حالات میں خود وہ بھی دوسروں کے ساتھ وہی کچھ کرتا جو دوسروں نے اس کے ساتھ کیا ہے ۔ آپ دوسرے کو کبھی وہ نہیں دے پاتے جس کی امید وہ آپ سےقائم کیے ہوئے ہے ۔ پھر دوسرے سے اگر آپ کو یہی تجربہ ہو تو آپ کو دوسرے سے شکایت کرنے کا کیا حق۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

جو آدمی شکایتی مزاج کا ہو اس کے حصہ میں مزید یہ نقصان آتا ہے کہ وہ ہر ایک سے بیزار ہو جاتا ہے۔ وہ کسی کے اوپر اعتماد نہیں کر پاتا ۔ اگر آپ سورج سے یہ چاہیں کہ وہ آپ کے راستہ کو روشن کر دے تو سورج آپ کو بہت بڑی نعمت نظر آئے گا۔ اس کے برعکس، اگر آپ یہ چاہنے لگیں کہ آپ اپنا سگرٹ سورج کی طرف کریں اور وہ آپ کی سگرٹ سلگا دے تو سورج آپ کو بے کا رسی چیز معلوم ہونے لگے گا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر آدمی آپ کو کچھ نہ چھ دے سکتا ہے۔ مگر آدمی آپ کو وہی چیز دیتا ہے جو وہ خود آپ کو دینا چاہتا ہے نہ کہ وہ چیز جو آپ اس سے اپنے لیےلینا چاہتے ہیں۔

جو آدمی دوسروں کے بارے میں ضرورت سے زیادہ امید باندھ لے اس کو ہر آدمی ناقص معلوم ہو گا ، وہ کسی کو اپنا نہیں سمجھے گا۔ وہ بھرے ہوئے ماحول میں اجنبی بن کر رہ جائے گا۔ یہی بات ایک ترکی کہاوت میں اس طرح کہی گئی ہے ’’جس کو ایسے دوست کی تلاش ہے جس میں کوئی کمی نہ ہو اس کو کبھی کوئی دوست نہیں ملے گا‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نوٹ یہ تقریر 15-17 دسمبر 1981 کو آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی، سے نشر کی گئی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content