Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Nashri-Taqreeren
Nashri-Taqreeren

اسلامی تعلیمات کا انسانی پہلو

Urdu · 8 min

اسلام انسانیت کا مذہب ہے۔ اسلام میں جن باتوں کو بتایا گیا ہے۔ ان سب کے پیچھے ایک ہی مقصد کام کر رہا ہے ، اور وہ ہے انسان کے اندر سچی انسانیت لانا۔ انسانی نسلوں کو ایکتا کا سبق دینا۔ انسانی سماج کو سکھ اور شانتی اور ترقی والا سماج بنانا۔

اسلام کا مطلب ہے سلامتی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام کا خلاصہ سلامتی ہے ۔ اسلام وہ انسان تیار کرنا چاہتا ہے جس کے دل میں ہر ایک کے لیے سلامتی ہو ۔ جو ہر ایک کا بھلا چاہے۔ جو ہر ایک کے ساتھ سلامتی والا سلوک کرے۔ جو ہر ایک کا سواگت مبارک سلامت کےجذبات کے ساتھ کرے۔

اسی طرح ایمان کی اصل امن ہے ۔ ایمان کا لفظ امن سے بنا ہے ۔ اس اعتبار سے مومن وہ ہے جو امن پسند ہو ۔ جو خلاف امن باتوں کے مقابلہ میں امن کی باتوں کو پسند کرتا ہو۔ وہ اسی سمت میں بڑھے جدھر امن پایا جائے۔ وہ ان سرگرمیوں میں مشغول نہ ہو جو امن کو توڑنے کا سبب بن جائیں۔

اسلام میں سب سے اہم عبادت نماز ہے جو روزانہ پانچ وقت ادا کی جاتی ہے۔ نماز جب پوری ہو جاتی ہے تو آخر میں تمام نمازی اپنے دائیں اور بائیں منہ پھیر کر کہتے ہیں کہ السلام علیکم ورحمتہ اللہ، السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔ ایک بڑے عالم نے اس کا مطلب بتاتے ہوئے کہا کہ نمازی ہر طرف کے تمام انسانوں سے کہتا ہے کہ تم مجھ سے سلامت ہو ، تم مجھ سے سلامت ہو (بِرّ الوالدین للبخاری، اثر نمبر 45)۔ یعنی، تم مجھ سے کوئی خطرہ محسوس نہ کر و۔ تمہاری جان ، مال ، عزت سب مجھ سے محفوظ ہے۔ نماز کی عبادت سے میں ایک ایسا سبق لیکر مسجد کے باہر نکل رہا ہوں کہ تمھارے لیے میرے پاس سلامتی کے سوا اور کچھ نہیں ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

پیغمبر اسلام نے بتایا کہ أَنَّ ‌الْعِبَادَ ‌كُلَّهُمْ ‌إِخْوَةٌ (مسند احمد، حدیث نمبر 19293)۔ یعنی، تمام بندے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اسلام آدمی کے دماغ میں یہ بات بٹھاتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی باپ اور ماں ( آدم اور حوّا )کی اولاد ہیں۔ اس لیے سب کے جسم میں ایک ہی خون دوڑ رہا ہے سب ایک دوسرےکے لیے بھائی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

دو آدمیوں کے درمیان سب سے اونچا اور سب سے پیارا رشتہ بھائی کا رشتہ ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنے کے لیے سب سے زیادہ طاقت وربات یہ ہے کہ ان کے اندر یہ سوچ پیدا کر دی جائے کہ تم ایک دوسرے کے بھائی ہو۔ اسلام لوگوں میں یہی برادرانہ سوچ پیدا کرتا ہے ۔ اور بلاشبہ انسانیت کے پہلو سے اس سے بڑی کوئی اورسوچ نہیں۔

بہت سے انسان جب ایک سماج میں مل کر ر ہیں تو وہ کس طرح رہیں ۔ اچھے انسانی سماج کا بنیادی اصول کیا ہے۔ اس بارے میں حدیث میں ایک ایسا جامع اصول بتایا گیا ہے جو اس سلسلہ کے تمام پہلوؤں کو سمیٹے ہوئے ہے۔ وہ حدیث یہ ہے  إِنْ يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 13)۔ یعنی، آدمی اپنے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند کرے جو وہ خود اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا اصول ہے جس میں تمام انسانی باتیں آجاتی ہیں۔ ہر آدمی کو معلوم ہے کہ کون سی بات اس کو اچھی لگتی ہے اور کون سی بات اس کو اچھی نہیں لگتی۔ کون سا معاملہ اس کو پسند ہے اور کون سا معاملہ اس کی پسند کے خلاف ہے۔ کون سا سلوک وہ اپنے لیے بہتر سمجھتا ہے اورکون سا سلوک اس کو اپنے لیے بہتر معلوم نہیں ہوتا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس طرح ہر آدمی کے پاس ایک بہترین کسوٹی موجود ہے جس کے ذریعہ وہ ہر وقت جان سکتا ہے کہ وہ دوسروں کے درمیان کس طرح رہے ۔ وہ دوسروں کے ساتھ کیا کرے اور کیا نہ کرے۔ اس کسوٹی کے مطابق ہر آدمی کو سماج میں اس طرح رہنا ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ ہر موقع پر وہی برتاؤ کرے جو وہ اپنے لیے چاہتا ہے۔ اور اس برتاؤ سے دور رہے جس کو وہ اپنے لیے پسند نہیں کرتا۔ جب وہ بولے تو اسی کے مطابق بولے اور جب کچھ کرے تو اسی کے مطابق کرے۔

اس اصول کی تفصیل قرآن اور حدیث میں ہر پہلو سے موجود ہے۔ مثلاً بتایا گیا ہے کہ تم کسی انسان کو قتل نہ کرو ۔ تم کسی کے خلاف براگمان نہ کرو۔ دوست اور دشمن ہر ایک کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرو۔ کوئی برائی کرے تب بھی اس کا جواب بھلائی سے دو۔ کوئی غصہ والی بات کہے تب بھی تم غصہ نہ ہو ۔ اختلافی معاملات میں صلح کا طریقہ اختیار کرو ۔ اپنی کمائی میں سے دوسروں کا حق نکالو۔ اپنےپڑوسی کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچاؤ۔ اگر تم کسی سے وعدہ کرو تو اس کو ضرور پورا کرو۔ راستہ میں کوئی رکاوٹ ہو تو اس کو راستہ سے ہٹا دو ۔ اسلام سلامتی کا مذہب ہے ۔ جو سلامتی کی بات ہے وہ اسلام کی بات ہے، اور جس بات میں سلامتی نہیں وہ اسلام کی بات بھی نہیں۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

نوٹ  یہ تقریر آل انڈیا ریڈیو (نیشنل چینل)، نئی دہلی، سے 21مئی 1994کو نشرکی گئی ۔

باب چہارم

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content