Maulana Wahiduddin Khan
8 min left
0:00

← Nashri-Taqreeren
Nashri-Taqreeren

فلسفہ قربانی

Urdu · 8 min

قربانی اپنے ظاہر کے اعتبار سے یہ ہے کہ جانور کو اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔ مگر حقیقت کے اعتبار سے یہ خود اپنے آپ کو ذبح کرنا ہے۔ قربانی کا مقصد ایک ظاہری واقعہ کے ذریعہ باطنی کیفیت پیدا کرنا ہے۔ قربانی بظا ہر ایک خارجی عمل ہے مگر اپنی روح کے اعتبار سے وہ مکمل طور پہ ایک داخلی عمل ہے۔

قرآن میں قربانی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ  اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمھارے لیے اللہ کی نشانیوں (شعائر) میں سے بنایا ہے۔ ان میں تمھارے لیے بھلائی ہے۔ پس ان کو کھڑا کر کے ان پر اللہ کا نام لو۔ پھر جب وہ کروٹ کے بل گر پڑیں تو ان میں سے کھاؤ اور بے سوال محتاج اور سائل کو کھلاؤ۔ اس طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے لیے مسخر کر دیا تاکہ تم شکر ادا کرو۔ اور اللہ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون بلکہ اللہ کو صرف تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس طرح اللہ نے ان کو تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے تا کہ تم اللہ کی بخشی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کرو اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری دے دو (22:36-37)۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

قرآن کی اس آیت میں جانور کی قربانی کونشانی (شعیرہ ) کہا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ جانور کی قربانی بذات خود مطلوب نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک نشانی یا علامت ہے۔ اس کے ذریعہ سے جو اصل چیز مطلوب ہے وہ تقویٰ ہے۔ قربانی کا مقصد یہ ہے کہ ایک علامتی عمل کے ذریعہ تقویٰ کی روح آدمی کے اندر پیدا کی جائے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس بات کو دوسرے لفظوں میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ قربانی کا فلسفہ یا قربانی کی اصل حقیقت نفسیاتی قربانی ہے۔ جانور کا ذبیحہ اپنے جذبات اور اپنی خواہشوں کے ذبیحہ کی تربیت ہے۔ قرآن کا سبق یہ ہے کہ اپنے اندر ابھرنے والی بری خواہشوں کو کچلو ، اپنی نفسیاتی برائیوں کو زیر کرو ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

انسان ایک ایسی مخلوق ہے جس کو نفس امارہ کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے ۔ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کا نفس امارہ بھڑک اٹھتا ہے۔ اس کے اندر غصہ ،نفرت، انتقام، حسد، کینه ، خود غرضی جیسے برے جذبات ابھر آتے ہیں۔ یہ آدمی کا امتحان ہے ۔ اس امتحان میں پورا اترنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے ان جذبات پر قابو پانےکی کوشش کرے۔ وہ ہر ایسے جذبہ کو دبانے کے لیے مستعد رہے۔

اسی کا نام نفسیاتی قربانی ہے ، اور اسی نفسیاتی قربانی کی عملی تربیت کے لیے جانور کی قربانی کا طریقہ مقرر کیا گیا ہے۔ مذکورہ آیت میں فرمایا کہ اللہ کو جانور کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا اللہ کو صرف تمہارے دل کا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جانور کی قربانی اگر ذاتی نفسیات کی قربانی نہ بنے تو ایسی قربانی اللہ تعالی کے یہاں مقبول نہیں ہو سکتی ۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

موجودہ دنیا میں انسان کی پوری زندگی قربانی کی زندگی ہے ۔ آدمی اگر قربانی کے لیےتیار نہ ہو تو وہ اس دنیا میں کبھی صحیح اور سچی زندگی نہیں گزار سکتا۔

اس دنیا میں آدمی کو اپنے حق کی پروا کیے بغیر اپنی ذمہ داری کو ادا کرنا پڑتا ہے جو کہ سراسر قربانی کا معاملہ ہے ۔ یہاں آدمی دیکھتا ہے کہ جھوٹ بولنے میں فائدہ ہے ، اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو سچ بولنے کے لیے تیار کرتا ہے ، یہ بھی قربانی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ یہاں ملتے ہوئے فائدہ کو اس لیے چھوڑ دینا ہے کہ آدمی جائز طور پر اس کا حقدار نہیں۔ اس طرح کی مختلف قربانیاں دینے کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ آدمی اس دنیا میں ایک سچا انسان بن کر زندہ رہ سکے۔

جانور کا ذبیحہ انھیں قربانیوں کی تربیت ہے ۔ جانور کے ذبیحہ کے ذریعہ آدمی کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ وہ ہر موڑ پر اپنی نفسیات کے ذبیحہ کے لیے آمادہ رہے ۔ وہ اعلیٰ انسانیت کی خاطر ہر اس جذبہ کو قربان کر دے جو اس میں رکاوٹ بنتا ہوا دکھائی دے۔

جب بھی کسی فرد یا قوم میں گراوٹ آتی ہے تو وہ اسی وقت آتی ہے جب کہ افراد یا قوموں میں قربانی کی روح باقی نہ رہی ۔ جب لوگ اپنی خواہشوں کے اوپر چلنے لگے۔ جب لوگ یہ بھول گئے کہ بڑے مقصد کو پانے کے لیے چھوٹے مفادات کو نظر انداز کرنا ضروری ہے۔

اس لیے قربانی کے طریقہ کو سالانہ طریقہ بنادیا گیا ہے ۔ تاکہ لوگ ہر سال کم از کم ایک بار اس ضروری قدر کو یاد کریں ، تاکہ وہ بار بار اس کو اپنے ذہن میں تازہ کرتے رہیں۔ وہ مسلسل تقویٰ کی خوراک حاصل کرتے رہیں۔

قربانی کے لیے آدمی جب جانور کو مال دے کر خریدتا ہے تو وہ اس حقیقت کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے کہ یہ میرا مال نہیں ہے ، وہ خدا کا ہے ۔ جب وہ جانور کو ذبح کرتا ہے تو وہ خدا سے یہ عملی عہد کرتا ہے کہ اس طرح میں اپنے آپ کو قربان کرنے کے لیے تیار ہوں۔ جب وہ قربانی کے گوشت کو تقسیم کرتا ہے تو وہ اپنے اندر اس احساس کو بٹھاتا ہے کہ میری کمائی میں دوسروں کا بھی حصہ ہے۔ جانور کا ذبیحہ اس واقعہ کی علامت ہے کہ آدمی قربانی کی حد کو جاکر اللہ کی اطاعت و فرماں بر داری کے لیے تیار رہے۔

جانور کی قربانی آغاز ہے اور تقوی اس کا اختتام ۔ جانور کا ذبیحہ اس کی علامت ہے اورخواہشات اور منفی جذبات کا ذبیحہ اس کی روح۔

نوٹ  یہ تقریر آل انڈیا ریڈ یونئی دہلی سے 2جون 1993کو نشر کی گئی ۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content