Maulana Wahiduddin Khan
16 min left
0:00

← Nashri-Taqreeren
Nashri-Taqreeren

باب اول رسول اللہ کا کردار

Urdu · 16 min

رسول اللہ کا کردار

طائف کی وہ شام بھی کس قدر بھیا نک تھی جب شہر کے لڑکے پیغیر اسلام کو پتھر مار مار کو شہر سے باہر لے جا رہے تھے۔ آپ مکہ سے پچاس میل کا سفر طے کر کے حجاز کے رئیسوں کے گرمائی صدر مقام پہنچے تھے تا کہ انھیں دین اسلام کی دعوت دیں۔ مگر طائف کے رئیسوں نے آپ کے خیر خواہانہ پیغام کو سننے کے بجائے شہر کے اوباش لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا۔ یہ لڑکے اس وقت تک آپ کا پیچھا کرتے رہے جب تک سورج نے غروب ہو کر آپ کے اور ان لڑکوں کے درمیان تاریکی کا پردہ نہ ڈال دیا ۔

آپ کا جسم زخموں سے چور تھا۔ سرسے پیر تک آپ خون میں نہائے ہوئے تھے۔ اس وقت آپ نے تھک کر انگور کے ایک باغ میں پناہ لی۔

غور کیجیے یہ کسی آدمی کے لیے کتنا نازک وقت ہوتا ہے ۔ آپ نے خود ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا کہ طائف کی یہ شام میری زندگی کی سخت ترین شام تھی مگر آپ کی زبان سے اس انتہائی سنگین موقع پر بھی اپنے دشمنوں کے خلاف کوئی برا کلمہ نہیں نکلا ۔ بلکہ آپ نے فرمایا’’ خدا یا انھیں صحیح راستہ دکھا۔ کیوں کہ وہ نہیں جانتے کہ وہ کیا کر رہے ہیں ‘‘۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

رسول اللہ کا یہی اخلاق تھا جس نے آپ کے دشمنوں کو اس طرح زیر کیا کہ سارے عرب نے آپ کے پیغام کو قبول کر لیا۔ آپ کے اعلیٰ کردار کے آگے کوئی تعصب، کوئی دشمنی اور کوئی ہٹ دھرمی ٹھہر نہ سکی ۔ آپ کی بلند سیرت لوگوں کو جادو کی طرح مسخر کرتی چلی گئی۔

آپ نے ایک بار فرمایا  صلہ رحمی یہ نہیں ہے کہ صلہ رحم کرنے والوں کے ساتھ صلہ رحم کرو بلکہ یہ ہے کہ جو قطع رحم کرے اس کے ساتھ صلہ رحم کرو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5991)۔ تاریخ اسلام کا مشہور واقعہ ہے کہ ایک بار اسلام کے کچھ دشمنوں نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ پر زنا کی تہمت لگائی جو قطعاً جھوٹ اور بے بنیاد تھی ۔ اس فرضی داستان کو گھڑ نے اور اس کو پھیلانے میں ایک شخص مسطح نامی بھی شریک تھا جو حضرت ابو بکر کا رشتہ دار تھا۔ اس شخص کو ضرورت مند سمجھ کر حضرت ابو بکر اس کو کچھ ماہانہ رقم دیا کرتے تھے۔ جب حضرت ابو بکر کو معلوم ہوا کہ ان کی صاحبزادی پر جھوٹی تہمت لگانے میں مسطح بھی شریک رہا ہے، تو آپ نے اس کی امدادی رقم بند کر دی ۔ اس پر اللہ کے رسول کے او پر یہ آیت (24:22)اتری کہ اگر کوئی شخص معاشی حیثیت سے ضرورت مند ہے تو اس کے اخلاقی جرم کی وجہ سے اس کی مالی امداد بند نہ کرو ۔ بلکہ اس کے جرم سے درگذر کرتے ہوئے اس کی معاشی امداد جاری رکھو (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2661)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اسی طرح حضرت ابو بکر ہی کا واقعہ ہے کہ ایک بار وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے آکر آپ کو گالی دی۔ حضرت ابو بکر پہلی بار گالی سن کر چپ رہے دوسری بار اس نے گالی دی تو اس وقت بھی آپ چپ رہے۔ مگر اس نے جب تیسری بار بدزبانی کی تو آپ خاموش نہ رہ سکے اور کچھ بول اٹھے۔ یہ دیکھ کر رسول اللہ فوراً وہاں سے اٹھ گیے۔ حضرت ابو بکر نے عرض کیا۔ یارسول الله کیا آپ مجھ سے خفا ہو گئے۔ فرمایا  ابو بکر جب تم چپ تھے، خدا کا فرشتہ تمہاری طرف سے کھڑا تھا۔ جب تم نے جواب دیا تو وہ ہٹ گیا(سنن ابو داؤد ، حدیث نمبر 4896)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

گویا برائی کے جواب میں جب آدمی اپنی طرف سے کوئی انتقامی کا روائی نہیں کرتا تو وہاں خدا اس کی طرف سے انتقام لینے کے لیے موجود ہوتا ہے۔ مگر جب آدمی خود انتقام لینے پر اتر آئے تو خدا اس کے معاملہ کو اس کے حوالے کر دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ کوئی انسان خدا سے بہترانتقام نہیں لے سکتا۔

حضرت علی رضی اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم سے کچھ اشرفیاں قرض لیں۔ اس کے بعد ایک روز وہ تقاضے کے لیے پہنچا۔ آپ نے فرمایا کہ اس وقت میرے پاس تمہارا قرض ادا کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ یہودی نے جواب دیا — جب تک تو میرا قرض ادا نہ کرے گا میں تجھ کو نہیں چھوڑوں گا۔ چنانچہ ظہر کے وقت سے لے کہ وہ اگلی صبح تک آپ کا دھرنا دیے بیٹھا رہا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ مدینہ میں آپ کا اقتدار قائم ہو چکا تھا۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے اس کو ڈانٹ کر بھگانا چاہا مگر آپ نے سب کو منع کر دیا۔ لوگوں نے کہا حضور ایک یہودی آپ کو قید کیے ہوئے ہے۔ آپ نے فرمایا — ہاں ۔ مگر مجھے ظلم کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ جب دوسرا دن شروع ہوا تو یہودی کی آنکھیں کھل گئیں اور آپ کے اس عمل سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ مسلمان ہو گیا۔ یہ یہودی مدینہ کا ایک بہت مالدار شخص تھا۔ کل تک اس نے چند اشرفیوں کے لیے آپ کا گھیراؤ کر رکھا تھا۔ اور اب آپ کے اعلیٰ کردار سے اتنا متاثر ہوا کہ ساری دولت آپ کے سامنے حاضر کر دی اور کہا کہ اس کو آپ جس طرح چاہیں خرچ کریں۔ (دلائل النبوۃ للبہیقی، جلد 6، صفحہ 280-281)

quoted sourceQuoted from another author or source

عبداللہ ابن ابی الحسماء بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الہ علیہ وسلم سے ایک بار میں نے خرید و فروخت کا کوئی معاملہ کیا۔ ابھی معاملہ پور انہیں ہوا تھا کہ مجھے کچھ ضرورت پیش آگئی۔ میں نے کہا کہ آپ ٹھہریئے۔ میں گھر سے واپس آتا ہوں تو بقیہ معاملہ کو مکمل کرتا ہوں۔ مگر واپس آنے کے بعد میں ایسا مشغول ہوا کہ اپنا وعدہ بھول گیا۔ تین روز بعد مجھ کو اپنا وعدہیاد آیا تو میں اس مقام پر پہنچا ، دیکھا کہ وہاں رسول اللہ موجود ہیں۔ آپ نے فرمایا  تم نے مجھ کو بہت تکلیف دی۔ میں تین روز سے یہاں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔ (سنن ابو داؤد، حدیث نمبر 4996)

hadithQuotes a hadith

اس طرح کے عمل میں اتنی کشش ہے کہ کٹر سے کٹر آدمی بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ یہودیوں کی ایک جماعت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جب وہ آپ کے پاس پہنچے تو انھوں نے کہا السلام علیکم تباہی ہو تم پر ، حضرت عائشہ سے نہیں رہا گیا۔ انھوں نے کہا ’’بلکہ تم لوگ غارت ہو جاؤ اور تم پر خدا کی لعنت ہو ‘‘۔آپ نے سنا تو منع فرمایا۔ آپ نے کہا — ’’خدا مہربان ہے اور وہ ہر کام میں مہربانی کو پسند کرتا ہے‘‘(صحیح البخاری، حدیث نمبر 6024)۔ حقیقت یہ ہے کہ دشمن کا دل جیتنے کے لیے اس سے بڑا کوئی حربہ نہیں ہو سکتا کہ اس کی بدزبانی کا جواب نرم باتوں سے دیا جائے۔ ہتھیار کے حملے کی تاب لانا تو ممکن ہے مگر کردار کے حملے کے مقابلے میں کوئی ٹھہر نہیں سکتا۔ یہاں ہر شخص کو اپنی شکست تسلیم کرنی پڑتی ہے۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

براء بن عازب بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر تین شرطوں کےساتھ قریش سے معاہدہ کیا تھا جن میں سے ایک شرط یہ تھی 

hadithQuotes a hadith

جو غیر مسلم اسلام قبول کر کے مسلمانوں کے یہاں چلا جائے اس کو وہ واپس کر دیں گے، مگرجو مسلمان ہمارے پاس آجائے گا ہم اس کو واپس نہیں کریں گے۔

opposing viewA view stated in order to be argued against

یہ معاہدہ ہو رہا تھا کہ مکہ سے ایک مسلم نوجوان ابو جندل حدیبیہ پہنچے۔ ان کو اسلام قبول کرنے کے جرم میں مکہ والوں نے قید کر رکھا تھا اور وہ بیڑیاں پہنے ہوئے گرتے پڑتے اس حال میں یہاں پہنچے تھے کہ ان کا جسم بیٹریوں کی رگڑ سے زخمی ہو رہا تھا۔ وہ فریاد کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مجھے دشمنوں کے چنگل سے بچائیے۔

یہ بے حد نازک موقع تھا۔ تمام صحابہ کی تلواریں کھنچ گئیں۔ ابوجندل کے جذباتی واقعہ کے بعد اس شخص کا رجحان یہ ہوگیا کہ معاہدہ کو کالعدم کر کے ابو جندل کی زندگی کو بچایا جائے۔ دوسری طرف مکہ والوں نے کہا ’’محمد! یہ معاہدہ کی تعمیل کا پہلا موقع ہے‘‘۔ خدا کے رسول نے فیصلہ کیا کہ جو معاہدہ ہو چکا ہے اب اس سے ہم پھر نہیں سکتے۔ چنانچہ انھیں دوبارہ مکہ والوں کے حوالے کر دیا گیا۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

بظاہر اس واقعہ کے معنی صرف یہ تھے کہ مظلوم کو دوبارہ ظالم کے چنگل میں دے دیا جائے ۔ مگر اس واقعہ میں وعدہ پورا کرنے کا جو شاندار مظاہرہ ہوا اس نے ظالموں کو اندر سے پچھاڑ دیا ۔ اگرچہ وہ ابو جندل کو اپنے ساتھ لے گئے اور انھیں اپنے یہاں قید میں رکھا۔ مگر ایفائے عہدکی اس بلند ترین علامت کو دیکھ کر مکہ کے لوگ اتنی کثرت سے مسلمان ہونے شروع ہوئے کہ قید و بند کی حالت میں بھی ابو جندل انھیں ایک زبر دست خطرہ معلوم ہونے لگے۔ چنانچہ انھوں نے اس میں عافیت سمجھی کہ ان کو رہا کر کے مکہ کے باہر بھیج دیا جائے ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 2731-2732)

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

حضرت ابو ہر یرہ مدنی زندگی کا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجار کے دشمنوں کی طرف چند سوار بھیجے۔ وہ شہر یمامہ کے حاکم ثمامہ بن اثال کو راستہ میں پاگئے اور اسے گرفتار کر لائے۔ اور مدینہ لاکر مسجد کے ایک ستون سے اسے باندھ دیا۔ رسول اللہ اس کے پاس آئے اور حال دریافت کیا۔ ثمامہ نے جواب دیا اگر تم نے مجھے قتل کر دیا تو میری قوم تم سے میرے خون کا بدلہ لے گی، اور اگر مجھ پر احسان کر کے چھوڑ دو گے توعمر بھر تمہارا شکر گزار ہوں گا۔ اور اگر مال کی خواہش ہے تو جتنا مال چاہو میں پیش کرنے کو تیار ہوں یہ رسول اللہ نے اس کی رہائی کا حکم دیدیا۔

unverifiedAttribution could not be verified automatically

یہ واقعہ اس وقت کی دنیا میں بہت عجیب تھا۔ کیوں کہ قبائلی زندگی میں کسی دشمن کے ہاتھ آجانے کے بعد اس کا ایک ہی انجام تھا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔ رسول اللہ نے اس کے جسم کو تو قتل نہیں کیا مگر اپنے اخلاقی عمل سے اس کی روح کو قتل کر دیا۔ چنانچہ قید سے چھوٹنے کے بعد ثمامہ قریب کے ایک باغ میں گیا اور غسل کر کے دوبارہ مسجد نبوی میں آیا ۔ لوگ حیران تھے کہ وہ کس لیے دوبارہ یہاں آیا ہے ۔ مگر جب اس نے بلند آواز سے کلمہ شہادت ادا کر کے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا تو معلوم ہوا کہ رسول اللہ نے اسے رہا کر کے در اصل ہمیشہ کے لیے گرفتار کر لیا تھا۔

اس کے بعد ثمامہ عمرہ کرنے کے لیے مکہ گیا جب وہ حرم میں پہنچا اور وہاں کے لوگوں کو ثمامہ کے اسلام کا حال معلوم ہوا تو انھوں نے کہا ’’تم بے دین ہو گئے‘‘ثمامہ نے جواب دیا ’’بے دین نہیں ہوا۔ البتہ محمد کے دین کو قبول کر لیا ہے‘‘۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

اس زمانہ میں مکہ کے لوگوں کو باہر کے جن مقامات سے گندم فراہم ہوتی تھی، ان میں یمامہ ایک خاص مقام تھا۔ چنانچہ انھوں نے مکہ والوں سے کہا کہ سن لو محمد کی اجازت کے بغیراب گندم کا ایک دانہ بھی تمہارے یہاں نہیں آئے گا (صحیح مسلم، حدیث نمبر 1746)۔

original + quoteOriginal text with a quotation or mention inside it

کردار بظا ہر ایک بے قیمت چیز ہے۔ مگر اس کو دے کر آدمی کیسی کیسی قیمتی چیزوں کو خرید لیتا ہے۔

آل انڈیا ریڈیونئی دہلی سے 9 جون 1968 کو نشر کیا گیا۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content