خدا کو جب ایک شخص پاتا ہے تو ٹھیک اسی وقت وہ اس حقیقت کو بھی پا لیتا ہے کہ خدا نے اس کو اور اس کائنات کو عبث نہیں بنایا ہے۔ جس کائنات کا بنانے اور چلانے والا ایک طاقتور اور باخبر خدا ہو، وہاں یہ ناممکن ہے کہ اتنا بڑا کائناتی کارخانہ یوں ہی خاموش کھڑا رہے اور کبھی اس کی معنویت ظاہر نہ ہو۔ اس طرح آدمی کا ایمان اس کو اس یقین تک پہنچاتا ہے کہ ضرور ہے کہ ایک دن ایسا آئے جب کہ وہ خدا لوگوں کے سامنے ظاہر ہو جائے، جو کائنات کے تمام واقعات کے پیچھے کام کر رہا ہے۔
پھر یہی یقین اس کو یہ بھی بتاتا ہے کہ کائنات کے خالق و مالک کا ظہور اس طرح کا غیر متعلق ظہور نہیں ہوگا جیسے تاریک رات کے بعد روشن سورج نکلتا ہے۔ یہ ایک باشعور اور طاقتور مالک کا ظہور ہوگا۔ خداوندِ کائنات کا ظہور کائنات کے لیے عدالت کے ہم معنی بن جائے گا۔ خدا کے ظاہر ہوتے ہی اس کے تمام سرکش اور خود پرست بندے خدا کی دنیا میں بالکل بے قیمت ہو جائیں گے۔
وہ اس دن مکھی اور مچھر سے بھی زیادہ حقیر دکھائی دیں گے۔ دوسری طرف اس کے خدا پرست اور وفادار بندے اچانک سرفرازی کا مقام حاصل کر لیں گے۔ خدا کا غیب میں ہونا خدا کے سرکش بندوں کو اچھل کود کے مواقع دیے ہوئے ہے۔ خدا کا ظاہر ہونا خدا کے وفادار بندوں کے لیے سرفرازی کا دن بن جائے گا۔
اس کے بعد ایک نئی، زیادہ بہتر اور مکمل دنیا شروع ہوگی جہاں سرکش لوگ ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیے جائیں گے اور وفادار لوگ ابدی طور پر خوشیوں اور لذتوں کی جنت میں زندگی گزاریں گے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.