یہی وہ مقام ہے جہاں سے مسلمانوں کے فکری المیے کا آغاز ہوتا ہے۔ اس فکری موقف نے مسلمانوں کو ایک ٹھہرا ہوا قافلہ بنا دیا۔ امیر شکیب ارسلان، وفات 1946، نے اپنی کتاب "لماذا تأخر المسلمون وتقدم غيرهم" میں جو بحث چھیڑی تھی، اس کا اصل جواب یہی ہے کہ زمانہ جدید میں مسلمانوں کے پچھڑے پن کا واحد سبب یہ تھا کہ ان کے درمیان اجتہاد کا عمل رک گیا۔
اجتہاد کوئی اختیاری عمل نہیں، وہ ایک ناگزیر ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.