Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Khuli mazimmat zaruri.

Urdu · 3 min

کھلی مذمت ضروری۔ قرآن و حدیث میں اہلِ ایمان کو جو احکام دیے گئے ہیں، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جس کو "انکارِ منکر" کہا جاتا ہے، یعنی برائی کو دیکھنے کے بعد کھلے الفاظ میں اس کی مذمت کرنا۔ اس سلسلے میں بتایا گیا ہے کہ کسی سماج میں اگر برائی ہو رہی ہو تو اس کو دیکھ کر چپ رہنا ایک سنگین جرم ہے۔ کسی آدمی کے لیے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ براہِ راست طور پر برائی میں شریک نہیں؛ اگر وہ برائی کو دیکھنے کے باوجود چپ رہے تو وہ بالواسطہ طور پر اس کا مجرم قرار پائے گا۔

مثلاً موجودہ زمانے میں مسلمان جگہ جگہ جہاد کے نام پر وہ کام کر رہے ہیں جس کو ساری دنیا کا پریس "دہشت گردی" کے عنوان سے رپورٹ کرتا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اس معاملے میں دنیا کے تقریباً تمام مسلمان خدا کی نظر میں مجرم ثابت ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے علم کے مطابق ساری دنیا میں کوئی بھی قابلِ ذکر مسلمان نہیں جو تشدد کی اس برائی کو کھلے طور پر کنڈم کرتا ہو۔ مسلمانوں کی ایک تعداد وہ ہے جو اس متشددانہ سرگرمی کو عینِ اسلامی جہاد قرار دیتی ہے، حتیٰ کہ وہ خودکش بمباری یعنی سوسائیڈ بمبنگ کو استشہاد یعنی طلبِ شہادت کا نام دے کر اس کو عین درست بتاتی ہے۔

مسلمانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے جو مذمت کے الفاظ بولتا ہے مگر حقیقت میں وہ مذمت نہیں ہوتی۔ مثلاً وہ کہیں گے کہ اسلام میں دہشت گردی نہیں، اسلام دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا، مگر وہ یہ نہیں کہیں گے کہ فلاں فلاں مقام پر مسلمان جو متشددانہ تحریک چلا رہے ہیں وہ دہشت گردی ہے اور وہ اسلام کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں ان کی مذمت ایک خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں۔ مسلمانوں کا ایک اور گروہ ہے جو بظاہر نام لے کر مذمت کرتا ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ ایسے دفاعی الفاظ بھی بولتا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ اس دہشت گردی کی اصل ذمہ داری مسلم دشمنوں کی ہے، نہ کہ خود مسلمانوں کی۔

مذمت کے یہ طریقے یقینی طور پر غیر اسلامی ہیں۔ مذمت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ نہ صرف دہشت گردی کو خلافِ اسلام بتایا جائے، بلکہ مختلف مقامات پر جہاد کے نام پر جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس کو کھلے لفظوں میں رد کیا جائے اور کہا جائے کہ یہ جہاد نہیں ہے بلکہ فساد ہے۔ مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے طبقے کی یہی مجرمانہ خاموشی ہے جس کی بنا پر یہ ہو رہا ہے کہ جہاد کے نام پر ہونے والا تشدد کسی طرح ختم نہیں ہوتا۔ اس مجرمانہ تشدد میں خود ساختہ مجاہدین اگر براہِ راست شریک ہیں تو بقیہ مسلمان بالواسطہ طور پر اس میں شریک ہیں، اور اسلامی نقطۂ نظر سے براہِ راست شرکت اور بالواسطہ شرکت کے درمیان صرف ڈگری کا فرق ہے، ان کے درمیان نوعیت کا کوئی فرق نہیں۔

کتاب "مسائلِ اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 249۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.