← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Jung se amn tak.
Urdu · 7 min
جنگ سے امن تک۔ قرآن میں دو مقام پر یہ آیت آئی ہے کہ فتنے کو ختم کرنے کے لیے جنگ کرو۔ وَ قَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ اس آیت میں فتنے سے مراد مذہبی جبر، یعنی religious persecution ہے۔ اس آیت کے ذریعے رسول اور اصحاب رسول کو حکم دیا گیا کہ تم لوگ مذہبی جبر کے موجودہ نظام کو توڑ دو، تاکہ دنیا میں مذہبی آزادی کا ماحول قائم ہو جائے۔
جو لوگ اللہ کے دین کو اختیار کرنا چاہیں، ان کے راستے میں کوئی پابندی باقی نہ رہے۔ واضح ہو کہ پیغمبر اسلام کے معاصر قوتوں نے آپ کے خلاف خود ہی بدعا—سورہ توبہ آیت 13—کا عمل کیا۔ اس طرح انہوں نے جارحیت کا آغاز کر کے فتنے کے خلاف آپ کے "آپریشن" کو دفاعی جنگ کی صورت دے دی۔ اس آیت میں ایک معلوم اور متعین مقصد کے لیے جنگ کا حکم دیا گیا تھا، اور وہ تھا مذہبی جبر کا خاتمہ۔
اس آیت کو لے کر کسی اور مقصد کے لیے جنگ چھیڑنا درست نہ تھا، مگر بعد کے زمانے میں ایسا کیا گیا کہ قتالِ فتنے کے حکم کی توسیع کر کے اس کو دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کیا جانے لگا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ایک انحراف، یعنی deviation، یا گاڑی کا اپنی پٹری سے اترنا—derealment تھا، مگر ایسا ہوا، اور اس کا سلسلہ کسی نہ کسی عنوان سے آج تک جاری ہے۔ نمبر 1: اس سلسلے میں پہلا انحراف اصحاب رسول کی دوسری نسل، یعنی second generation، میں پیش آیا۔ اس معاملے میں دو نام زیادہ نمایاں ہیں: ایک الحسین ابن علی، متوفی 61 ہجری، اور دوسرے عبداللہ ابن زبیر، متوفی 73 ہجری۔
دونوں حضرات نے اموی حکمران یزید ابن معاویہ کے خلاف خروج، یعنی بغاوت، کیا۔ دونوں حضرات نے اپنے عمل کے وجہِ جواز کے طور پر یزید کے ظلم کا حوالہ دیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس قتالِ فتنے کا تعلق مذہبی جبر سے تھا، اس میں تصرف کر کے اس کو انہوں نے سیاسی بدعنوانی، یعنی political corruption، تک وسیع کر دیا۔ قتالِ فتنے کے حکم کی یہ توسیع بلاشبہ ایک اجتہادی خطا تھی۔
اس کا قطعی ثبوت یہ ہے کہ پیغمبر اسلام نے واضح طور پر یہ حکم دیا تھا کہ میرے بعد حکمرانوں کے بگاڑ کو لے کر ہرگز ان کے خلاف خروج نہ کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں حضرات کی جنگوں کے وقت صحابہ کرام کی بڑی تعداد موجود تھی، مگر وہ ان جنگوں میں شریک نہیں ہوئے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ بعد کے زمانے کی یہ جنگ قتالِ فتنے کے حکم سے انحراف ہے، نہ کہ اس کا اتباع۔ صحیح البخاری، کتاب التفسیر۔
نمبر 2: اس سلسلے کا دوسرا انحراف زیادہ بڑے پیمانے پر خلافتِ راشدہ کے بعد شروع ہوا، اور پھر تقریباً 1000 سال تک جاری رہا۔ یہ انحراف مسلم حکمرانوں کی طرف سے کیا گیا۔ انہوں نے مذہبی جبر کے خلاف جنگ کے مفہوم میں اضافہ کر کے اس کو مسلم سلطنت کی توسیع، یعنی expansion، کے معنی میں لے لیا۔ وہ پوری دنیا میں مسلم سلطنت کی توسیع کے لیے لڑائیاں لڑتے رہے۔
قتالِ فتنے کے حکم کی یہ توسیع بھی بلاشبہ ایک انحراف تھی۔ قرآن میں امت کو جو عالمی مشن دیا گیا تھا، وہ شہادت علی الناس تھا، نہ کہ لوگوں کے اوپر اپنا سیاسی اقتدار قائم کرنا۔ یہی بات پیغمبر اسلام نے حجۃ الوداع کے موقع پر اس طرح فرمائی کہ "اللہ نے مجھ کو سارے انسانوں کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے، اس لیے تم میرے لائے ہوئے پیغام کو میری طرف سے تمام دنیا والوں تک پہنچا دو"۔ فَأَدْعُوْا عَنِّي اس اعتبار سے بعد کے دور میں مسلمانوں کا اصل کام دعوت الی اللہ تھا، نہ کہ اقتدار کی سیاست چلانا۔
نمبر 3: اس سلسلے کا تیسرا شدید تر انحراف وہ ہے جو موجودہ زمانے میں پیش آیا۔ یہ کچھ مسلم مفکرین کی طرف سے مذکورہ قرآنی آیت کی نام نہاد "انقلابی" تفسیر تھی۔ ان لوگوں نے آیت کے حکم میں خود ساختہ توسیع کر کے اس کو قتال برائے تنفیذ احکام کے معنی میں لے لیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آیت کے مطابق ہر زمانے کے مسلمانوں پر یہ فرض ہے کہ وہ حکمرانوں سے جنگ کر کے اسلام کے احکام کو ہر جگہ نافذ کریں۔
قتالِ فتنہ کے حکم میں یہ توسیع ایک مہلک قسم کا انحراف ہے۔ اس نے مسلمانوں کے اندر غلط طور پر یہ ذہن پیدا کیا کہ ہر جگہ اسلامی حکومت قائم کرنا ان کا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہر جگہ جہاد کے نام پر تشدد ہونے لگا۔ کچھ مسلمان گن اور بم لے کر دنیا والوں پر ٹوٹ پڑے۔
دوسرے مسلمان، جنہوں نے اس متشددانہ فعل میں عملاً شرکت نہیں کی، وہ بھی اس انقلابی نظریے سے اتنا مسحور ہوئے کہ وہ اس کی ہمت نہ کر سکے کہ وہ کھل کر ان کی مذمت کرے اور اس کے غیر اسلامی ہونے کا اعلان کرے۔ بیسویں صدی عیسوی پوری کی پوری اسلام کے نام پر اس غیر اسلام کا نمونہ بن گئی۔ اس کا نتیجہ دو مہلک صورتوں میں برآمد ہوا: ایک، اسلام کی بدنامی—ساری دنیا میں اسلام خلافِ واقعہ طور پر نفرت اور تشدد کا مذہب سمجھا جانے لگا۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ لندن کے مشہور انگریزی روزنامے میں اسلام کے بارے میں ایک آرٹیکل چھپا، جس کا عنوان یہ تھا: "ایک مذہب جو تشدد کو جائز قرار دیتا ہے"۔
"A Religion That Sanctions Violence" دوسری خرابی یہ ہوئی کہ موجودہ زمانے میں اسلامی دعوت کے حق میں جو نئے قیمتی امکانات پیدا ہوئے تھے، وہ استعمال ہونے سے رہ گئے۔ مسلمان خود ساختہ جہاد کے نام سے اپنے آپ کو بے فائدہ طور پر ہلاک کرتے رہے۔ وہ جدید مواقع کو استعمال کر کے اسلام کا حیات بخش پیغام دوسروں تک نہ پہنچا سکے۔ اکیسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے لیے پہلا ضروری کام اسی غلطی کی تصحیح ہے۔
اکیسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کے لیے پہلا ضروری کام اسی غلطی کی تصحیح ہے۔ کوئی بھی دوسرا کام کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اسلام کے نام پر ہونے والے تشدد کو فوری طور پر اور مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ اس معاملے میں کسی بھی عذر کو، خواہ وہ بظاہر کتنا ہی سنگین ہو، رکاوٹ نہ بنایا جائے۔ موجودہ زمانے میں اسلام کے حقیقی احیا کا نقطہ آغاز یہی ہے: نفرت اور تشدد کے ماحول کو ختم کر کے اہلِ اسلام سب کچھ حاصل کر سکتے ہیں۔
اس کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 236۔