Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Dushman ko dost banana.

Urdu · 2 min

دشمن کو دوست بنانا۔ قرآن کی سورہ نمبر 41 میں ارشاد ہوا ہے: "بھلائی اور برائی دونوں برابر نہیں۔ " تم جواب میں وہ کہو جو اس سے بہتر ہو، پھر تم دیکھو گے کہ تم میں اور جس میں دشمنی تھی وہ ایسا ہو گیا جیسے کوئی دوست قرابت والا۔ حامم السجدہ، آیت 34۔

قرآن کی اس آیت میں فطرت کا ایک راز بتایا گیا ہے۔ وہ راز یہ ہے کہ ہر دشمن انسان کے اندر ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اس دوست انسان کو دریافت کرو، اور پھر یہ معجزاتی واقعہ پیش آئے گا کہ جو آدمی بظاہر تمہارا دشمن دکھائی دیتا تھا وہ تمہارا قریبی دوست بن جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ دشمنی کوئی فطری چیز نہیں، وہ ایک مصنوعی ردعمل ہے۔

جب بھی کسی وجہ سے کوئی شخص بظاہر تمہارا دشمن بن جائے، تو تم اس کے ساتھ ردعمل کا طریقہ اختیار نہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی کوشش کرو۔ خواہ یہ بہتر سلوک تم کو مفروضہ دشمن کی اشتعال انگیز کارروائیوں کے باوجود یکطرفہ بنیاد پر کرنا پڑے۔ تمہارا ایک طرفہ سلوک یہ کرے گا کہ وہ دشمن کے اندر پیدا ہونے والے منفی جذبات کو دبا دے گا۔ تمہارا ایک طرفہ سلوک دشمن کی سوئی ہوئی انسانیت کو جگا کر اس کو ایک نیا انسان بنا دے گا۔

اور یہ نیا انسان وہی ہوگا جس کو قرآن میں قریبی دوست کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر پیدا ہونے والا آدمی ایک ہی مشترک فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ ہر آدمی پہلے مسٹر نیچر ہے، اس کے بعد وہ مسٹر دشمن یا مسٹر دوست بنتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو آپ ہیں وہی آپ کا مفروضہ دشمن بھی ہے، اور جو آپ کا مفروضہ دشمن ہے وہی خود آپ بھی ہیں۔

اس لیے آدمی کو چاہیے کہ بظاہر دشمنی کے باوجود وہ فریق ثانی کے اندر اپنے مشترک انسان کو تلاش کرے۔ وہ دوسروں سے بھی وہی امید رکھے جو امید وہ اپنے آپ سے کیے ہوئے ہے۔ کتاب مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 184۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.