Maulana Wahiduddin Khan
2 min left
0:00

← Masaail-e-Ijtihaad
Masaail-e-Ijtihaad

Islah ke bad fasad.

Urdu · 2 min

اصلاح کے بعد فساد۔ قرآن کی سورہ نمبر 8 میں ارشاد ہوا ہے: وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ۗ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ سورہ الاعراف، آیت 85۔ یعنی زمین میں بگاڑ پیدا نہ کرو، بعد اس کے کہ اس کی اصلاح کی جا چکی ہو۔ یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو۔

قرآن کی اس آیت میں ایک فطری حقیقت کا اعلان کیا گیا ہے: یہ زمین جس پر انسان آباد ہے، وہ اپنی تخلیق کے اعتبار سے ایک اصلاح یافتہ زمین ہے۔ یہاں کی ہر چیز اپنے مطلوب نقشے کے مطابق بنائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اس زمین پر جو کام بھی کرے، فطرت کے نقشے کو بدلے بغیر کرے۔ اگر اس نے فطرت کے نقشے کو بدلا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قائم شدہ اصلاحی نظام ٹوٹ جائے گا اور ہر طرف بگاڑ پھیل جائے گا۔

مثلاً ہماری دنیا میں فطرت کے نظام کے تحت بے شمار سرگرمیاں جاری ہیں۔ زمین کی مسلسل گردش، سورج سے اس کا روشن ہونا، ہواؤں کا چلنا، بارش کا ہونا، دریاؤں کا بہنا، پودوں اور درختوں کا اگنا وغیرہ وغیرہ۔ زمین پر اس طرح کے بے شمار کام رات دن مسلسل جاری ہیں، مگر یہ سارے کام انتہائی حد تک پرامن طور پر ہو رہے ہیں۔ کہیں کوئی تشدد نہیں، کہیں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں۔

یہی اصلاح کا نقشہ ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ بھی اسی نقشے پر چلے، وہ تشدد اور ٹکراؤ سے مکمل طور پر پرہیز کرے۔ وہ اپنی ہر کوشش امن کے اصول پر جاری رکھے۔ جو لوگ اس کے خلاف چلیں، وہ یقینی طور پر زمین کے اوپر فساد برپا کریں گے۔

وہ کبھی زمین کے اوپر اصلاح کا نظام قائم کرنے والے نہیں۔ کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 178۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.