شدت پسندی نہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 4 میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: "لا تغلوا في دينكم" النساء 171۔ یعنی تم اپنے دین میں غلو نہ کرو۔ یہی بات حدیث میں بھی آئی ہے: پیغمبر اسلام نے فرمایا: "إياكم والغلو في الدين فإنما هلك من كان قبلكم بالغلو في الدين" النسائی، کتاب المناسک۔
ابن ماجہ، کتاب المناسک۔ مسند احمد، جلد 1، صفحہ 215-347۔ یعنی تم لوگ دین میں غلو سے بچو، کیونکہ پچھلی امتیں دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہو گئیں۔ غلو کا مطلب شدت یا انتہا پسندی، یعنی extremism ہے۔
غلو ہر معاملے میں غلط ہے۔ غلو دین کی اصل روح کے خلاف ہے۔ غلو کا یہی مزاج بڑھ کر تشدد اور لڑائی تک پہنچ جاتا ہے۔ جو لوگ غلو کی نفسیات کا شکار ہوں، وہ اپنے مخصوص مزاج کی بنا پر اعتدال کی روش پر قانع نہیں ہوتے۔
وہ امن اور اعتدال کی روش کو معیار سے کم سمجھتے ہیں، اس لیے وہ نہایت آسانی کے ساتھ تشدد کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ وہ مقصد کے حصول کے نام پر لڑائی شروع کر دیتے ہیں۔ غلو کی ضد اعتدال ہے۔ جب لوگوں کے اندر اعتدال کی نفسیات ہو تو وہ ہمیشہ امن کے انداز میں سوچیں گے۔
وہ اپنی جدوجہد کو پرامن جدوجہد کے طور پر چلائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اعتدال اور امن دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت گہرائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ جہاں اعتدال ہوگا، وہاں امن ہوگا۔ جہاں امن ہوگا، وہاں اعتدال پایا جائے گا۔
اس کے برعکس، غلو کی نفسیات ہمیشہ آدمی کو انتہا پسندی کی طرف لے جاتی ہے۔ اور انتہا پسندی نہایت آسانی کے ساتھ تشدد اور ٹکراؤ میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ غلو اور تشدد دونوں ایک دوسرے کے ساتھ نہایت گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین میں غلو کو بہت زیادہ ناپسند کیا گیا ہے۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ غلو پسندی کا دوسرا نام تشدد پسندی ہے، اور غلو نہ کرنے کا دوسرا نام اعتدال پسندی۔ کتاب: مسائل اجتہاد، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 176۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.