← Masaail-e-IjtihaadMasaail-e-Ijtihaad
Tanqid ka fayeda.
Urdu · 6 min
تنقید کا فائدہ: تنقید کوئی برائی نہیں، تنقید ایک نعمت ہے۔ تنقید علم کے نئے گوشوں کو کھولتی ہے۔ تنقید کے ذریعے معاملے کے نئے پہلو سامنے آتے ہیں۔ تنقید کوئی عیب زنی نہیں۔
تنقید اپنی حقیقت کے اعتبار سے ناقد شخص اور زیرِ تنقید شخص کے درمیان ایک قسم کی تفکیری شرکت، یعنی انٹلیکچول شیئرنگ ہے، جو دونوں ہی کے لیے یکساں طور پر مفید ہے۔ تنقید یکساں طور پر دونوں کے ذہنی افق کو وسیع کرتی ہے۔ سچی تنقید ایک انسان کی طرف سے دوسرے انسان کے لیے علمی تحفہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفہ دوم عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے کہا کہ "اللہ اس شخص پر رحم کرے جو مجھ کو میرے عیوب کا ہدیہ بھیجے" رحم الله امرأً أهدى إليّ عيوبي ۔
تنقید کا انتہائی مفید ہونا راقم الحروف کے لیے صرف ایک نظری بات نہیں، وہ میرے لیے ایک عملی تجربہ ہے۔ اگر میں یہ کہوں تو مبالغہ نہ ہوگا کہ میں پیدائشی طور پر ایک تنقید پسند آدمی ہوں۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر میں اپنے قریبی ساتھیوں سے ہمیشہ یہ امید کرتا ہوں کہ وہ میرے اوپر علمی تنقید کریں۔ اس معاملے میں میرا مزاج کیا ہے، اس کا اندازہ ایک واقعے سے ہوتا ہے۔
میرے ایک رفیقِ کار مولانا انیس لقمان ندوی تقریباً 8 سال تک میرے ساتھ تھے۔ اب وہ ایک عرب ملک میں ہیں۔ پہلی بار جب وہ عرب گئے تو ایک شیخ نے ان سے پوچھا کہ تم ہندوستان میں کیا کام کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: أنا ناقدُ أكبرُ ناقدٍ في الهند میں ہندوستان کے سب سے بڑے ناقد کا ناقد ہوں۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تنقید کے معاملے میں میرا ذوق کیا ہے۔ ایک صاحبِ علم کے لیے سب سے زیادہ لذیذ چیز علمی تبادلۂ خیال ہے۔ تنقید میں بظاہر ایک شخص سامنے آتا ہے، مگر حقیقتاً تنقید کا نشانہ شخص نہیں ہوتا بلکہ موضوع ہوتا ہے۔ سچی تنقید دو شخصیتوں کے درمیان ایک موضوع پر ڈسکشن ہے، خواہ بظاہر وہ کسی فرد کے حوالے سے کیا گیا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ سچی تنقید کبھی کسی شخص کے لیے ذاتی وقار کا سوال نہیں بنتی، کیونکہ سچی تنقید میں کوئی ذات سرے سے نشانے پر ہوتی ہی نہیں۔ تنقید اگر صحیح ہو تو وہ آدمی کو یہ موقع دیتی ہے کہ وہ اپنے ذہن کو درست کر لے۔ وہ غلط فکر کے اندھیرے سے نکل کر صحیح فکر کی روشنی میں آ جائے۔ وہ اپنے آپ کو علمی اعتبار سے پہلے سے زیادہ درست انسان بنا لے۔
دوسری صورت یہ ہے کہ تنقید کرنے والے کی تنقید صحیح نہ ہو، تب بھی اس میں یہ فائدہ ہے کہ اس سے موضوع کے مزید گوشے واضح ہوتے ہیں۔ زیرِ تنقید شخص اگر تنقید کو سن کر برہم نہ ہو تو تنقید اس کی قوتِ فکر کو بڑھائے گی۔ وہ اس کے اندر تخلیقی فکر، یعنی کریئیٹو تھنکنگ لانے کا سبب بنے گی۔ وہ اس کو موقع دے گی کہ وہ اپنی بات کو زیادہ واضح اور زیادہ مدلل انداز میں پیش کر سکے۔
حقیقت یہ ہے کہ تنقید ہر حال میں مفید ہے، خواہ وہ صحیح تنقید ہو یا غلط تنقید۔ 1965 کا واقعہ ہے، اس وقت میں لکھنؤ میں تھا۔ میری ملاقات ایک غیر مسلم اسکالر سے ہوئی، وہ مذاہب یا مذہبی شخصیتوں کو نہیں مانتے تھے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے پیغمبرِ اسلام پر تنقید کی۔
آپ کے خلاف بولتے ہوئے انہوں نے کہا: "محمد کو اگر تاریخ سے نکال دیا جائے تو تاریخ میں کیا کمی رہ جائے گی؟ " ان کے یہ الفاظ یقیناً اشتعال انگیز تھے۔ اگر میں اس پر غصہ ہو جاتا تو میں صرف یہ کرتا کہ ان کو لعن طعن کرتا اور "لا حول ولا قوة" پڑھتے ہوئے وہاں سے واپس چلا جاتا۔ مگر اللہ کے فضل سے میں نے اپنے ذہنی اعتدال کو باقی رکھا۔
اس کا فائدہ یہ ہوا کہ میرے ذہن میں فکری عمل مثبت انداز میں جاری رہا، یہاں تک کہ ایک لمحے کے بعد میری زبان سے— یہاں تک کہ ایک لمحے کے بعد میری زبان پر ان کی بات کا یہ جواب آ گیا: "وہی کمی جو محمد سے پہلے تاریخ میں تھی"۔ مذکورہ تنقید نے مجھے پیغمبرِ اسلام کی سیرت کے ایک ایسے پہلو پر سوچنے پر مجبور کر دیا جو اس سے پہلے میرے ذہن میں واضح نہ تھا۔ اس طرح مذکورہ اسکالر کی تنقید میرے لیے سیرت کے ایک نئے اور بے حد اہم گوشے کی دریافت کا سبب بن گئی۔ جب میں نے سوچا کہ موجودہ دنیا کی تمام سائنسی اور تہذیبی ترقیاں پیغمبرِ اسلام کی بعثت کے بعد ظہور میں آئی ہیں، آپ سے پہلے ان چیزوں کا کوئی وجود ہی نہ تھا، تو یہ سوچ میرے لیے ایک نئی دریافت تک پہنچنے کا ذریعہ بن گئی۔
میں نے یہ دریافت کیا کہ دونوں واقعات میں ہر— میں نے یہ دریافت کیا کہ دونوں واقعات میں ایک گہرا رشتہ ہے۔ اس دریافت کے بعد میں نے اس موضوع پر باقاعدہ مطالعہ شروع کر دیا۔ اس مطالعے کا نتیجہ راقم الحروف کی وہ کتاب تھی جو اسلام دورِ جدید کا خالق، یعنی اسلام دا کریئیٹر آف دا ماڈرن ایج کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آدمی اگر تنقید کو سن کر برہم نہ ہو، وہ اپنے ذہنی اعتدال کو برقرار رکھے، تو تنقید اس کے لیے کتنی زیادہ مفید ثابت ہو سکتی ہے۔
کتاب "مسائل اجتہاد" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 44۔