Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Masaael-e-deen,Marifat-e-deen.

Urdu · 3 min

مسائلِ دین، معرفتِ دین۔ علمِ دین کے دو پہلو ہیں: ایک ہے مسائلِ دین کا علم، اور دوسرا ہے معرفتِ دین کا علم۔ مسائل کا تعلق دین کے فارم سے ہے، اور معرفت کا تعلق دین کی سپرٹ سے۔ دین دار بننے کے لیے دونوں ضروری ہیں۔

مسائل کا علم آدمی کو معرفت کا علم عطا نہیں کرتا، لیکن معرفت کا علم حاصل ہو جائے تو آدمی مسائل کے علم تک بھی ضرور پہنچ جائے گا۔ دین کا سفر معرفت سے شروع ہوتا ہے اور مسائل تک پہنچتا ہے۔ اس کے برعکس، مسائل کا علم خود بخود کسی کو معرفت تک نہیں پہنچاتا۔ معرفت کیا ہے؟

معرفت دراصل یہ ہے کہ آدمی کو حقیقتِ حیات کی دریافت ہو جائے۔ آدمی کو اس کی داخلی تلاش کا جواب مل جائے۔ آدمی اپنی زندگی کی صحیح آئیڈیالوجی کو پا لے۔ معرفت کو ایک لفظ میں "داخلی انقلاب" کہا جا سکتا ہے۔

کسی انسان کے اندر جب یہ داخلی انقلاب آتا ہے تو وہ اس کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے۔ اس کا سوچنا، اس کا بولنا، لوگوں کے ساتھ اس کا سلوک، زندگی کے بارے میں اس کے حوصلے اور آرزوئیں۔ معاملات میں اس کا نقطۂ نظر، یعنی آؤٹ لک، کسی چیز کو لینے اور کسی چیز کو نہ لینے کے بارے میں اس کا معیار۔ غرض ہر چیز اللہ کے رنگ میں رنگ جاتی ہے۔

معرفت کے حصول کے بعد آدمی کی جو شخصیت بنتی ہے، اس کے مختلف مظاہر ہیں۔ انہی مظاہر میں سے ایک مظہر وہ ہے جس کو عبادت کہا جاتا ہے۔ مسائل کا تعلق انہی مظاہر سے ہے۔ مظاہر اصلًا داخلی تحریک کے تحت پیدا ہوتے ہیں۔

مسائل کا رول یہ ہے کہ وہ ان مظاہر کے صحیح حدود کو بتائیں۔ مصلح کا کام یہ ہے کہ وہ معرفت یعنی داخلی سپرٹ کے پیدا کرنے پر سب سے زیادہ زور دے۔ یہی اصلاح کا فطری طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر مسائل پر زور دیا جانے لگے تو وہ انتقالِ تاکید، یعنی شفٹ آف انفیسس کے ہم معنی ہوگا۔

اس طرح کی تبدیلی سے کبھی مطلوبہ نتیجہ نہیں نکل سکتا۔ ایسا کرنے سے دین، مسائل پر مبنی دین بن جائے گا، حالانکہ دین کو معرفت پر مبنی دین ہونا چاہیے۔ کتاب "معرفتِ الہی"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 61۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.