معرفت کا تجربہ ایک مرتبہ کا واقعہ ہے: میں سورج کی روشنی میں ایک کتاب پڑھ رہا تھا، پھر اچانک ایک لمحے کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں۔ میں خدا کے دیکھنے کا تجربہ کر رہا ہوں۔ اس کے بعد اچانک مجھ کو خیال آیا کہ خدا بھی تو اسی طرح دیکھتا ہوگا۔ اس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں۔
اسی طرح میں نے ایک بار کسی کے بولنے کو سنا۔ اس وقت مجھے خیال آیا کہ خدا بھی تو اسی طرح بولتا اور سنتا ہوگا۔ اس طرح ایک بار میں نے کسی بات کو سوچا۔ اس وقت مجھے محسوس ہوا کہ خدا بھی تو اسی طرح سوچتا ہوگا، وغیرہ۔
ایک دن صبح کو فجر کی نماز کے بعد میں اپنے کمرے میں کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس وقت یہ تمام تجربات مجھے یاد آنے لگے۔ اچانک شدتِ احساس کے ساتھ میں چیخ اٹھا۔ تھوڑی دیر کے لیے میں ایک اور دنیا میں پہنچ گیا۔
اس تجربے کو قریب تر الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: مجھے ایسا لگا جیسے میں اپنے وجود کی صورت میں بلا تشبیہ خدا کی موجودگی، پریزنس، کو محسوس کر رہا ہوں۔ میں خدا کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں۔ میں خدا کے سننے کو سن رہا ہوں۔ میں خدا کے سوچنے کا تجربہ کر رہا ہوں۔
اس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے میرا وجود بلا تشبیہ خدا کے وجود میں ڈھل گیا۔ اس وقت خدا میرے لیے اتنا ہی یقینی وجود بن گیا جتنا کہ مجھے خود اپنا وجود یقینی معلوم ہوتا ہے۔ ابن عربی کے اس شعر کو اگر وحدتِ وجود کے معنی میں نہ لیا جائے، جو کہ ایک باطل نظریہ ہے، تو غالباً وہ اسی قسم کے ربانی تجربے کا ایک بیان ہوگا: العبد عبدٌ ولو ترقّى، والربُّ ربٌ ولو تنزّل. اس طرح کے تجربات مختلف احوال کے درمیان مجھے بار بار پیش آتے ہیں۔
یہ تجربات میرے لیے خدا کی معرفت کو اس سطح پر دریافت کرنے کے ہم معنی ہوتے ہیں جس کو قرآن میں بصیرت، سورہ نمبر 75 آیت 14 کہا گیا ہے۔ انسان کو خدا نے قدرت، اومنی پوٹینس، کے سوا اپنی تمام صفات بشری سطح پر دے دیں، تاکہ انسان خدائی صفات کو بشری تجربات کی سطح پر سمجھ سکے۔ وہ خدا کے دیکھنے کو دیکھے، وہ خدا کے سننے کو سنے، اور پھر کامل یقین کے درجے میں وہ خدا کا عارف بن جائے۔ کتاب "معرفتِ الہی" مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 47۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.