سب سے بڑا امتحان جان اسٹارٹ مل، 19ویں صدی عیسوی کا ایک برطانوی فلسفی ہے۔ وہ 1806 میں پیدا ہوا اور 1873 میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کی کتاب "آٹو بائیوگرافی" 1873 میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں مصنف نے لکھا ہے کہ "پہلے میں روایتی طور پر خدا کو مانتا تھا، لیکن میرے باپ جیمز مل نے اس سلسلے میں مجھ سے ایک بات کہی۔
اس کے بعد میں نے خدا کے بارے میں سوچنا چھوڑ دیا۔ " میرے باپ نے کہا کہ اگر خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے تو خدا کو کس نے پیدا کیا؟ If God created man, who created God? خدا کی معرفت کے بارے میں بلاشبہ یہ سب سے بڑا امتحان ہے۔
انسان کا ذہن ایک محدود ذہن ہے۔ اس کے باوجود انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ لامحدود خدا کی معرفت حاصل کرے۔ معرفت کا معاملہ اصلًا یہی ہے کہ ایک محدود ہستی ایک لامحدود ہستی کو دریافت کرے اور کامل یقین کے ساتھ اس کو مان لے۔ یہی معرفت ہے۔
اس مرحلے کو پار کیے بغیر کسی کو معرفت کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ خدا کی دریافت، Discovery of God، کا معاملہ دوسری چیزوں کی دریافت سے مختلف ہے۔ مثلاً قوت کشش، gravity، بھی ایک دریافت کا موضوع ہے۔ لیکن یہ دریافت صرف ایک علمی دریافت ہے۔
اس کی بنیاد پر کسی کو ابدی انعام ملنے والا نہیں۔ لیکن خدا کی دریافت کے ساتھ ایک عظیم انعام جڑا ہوا ہے۔ خدا کی دریافت کرنے والے کے لیے یہ مقدر ہے کہ اس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے۔ اس لیے خدا کی دریافت کی ایک قیمت رکھ دی گئی۔
اس قیمت کو ادا کیے بغیر کسی کو خدا کی دریافت کا کریڈٹ نہیں مل سکتا۔ وہ قیمت یہ ہے کہ آدمی محدود ذہن کے ساتھ لامحدود کا احاطہ کرے۔ وہ عالمِ مشاہدہ، seen world میں غیر مشہود خدا، unseen God، کو دریافت کر لے۔ اسی دریافت کا نام معرفت ہے۔
اور جنت کی قیمت یہی معرفت ہے۔ کتاب "معرفت الہی"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 34۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.