Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Marifat ka istehqaaq.

Urdu · 3 min

معرفت کا استحقاق ایک حدیث قدسی ان الفاظ میں آئی ہے: «الكبرياء رداءٌ والعظمة إزارٌ، فمن نازعني واحدًا منهما فقذفته في النار». سنن ابی داؤد، رقم الحدیث 4090۔ یعنی اللہ نے فرمایا کہ کبریائی میری چادر ہے اور عظمت میرا ایزار ہے؛ ان دونوں میں سے کسی کے معاملے میں جو شخص مجھ سے نزاع کرے گا، میں اس کو آگ میں پھینک دوں گا۔ اس حدیث قدسی سے تواضع یعنی modesty کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ خدا کے ساتھ انسان کی نسبت صرف حقیقی تواضع کی سطح پر قائم ہوتی ہے۔ انسان کے اندر اگر ایک ذرے کے برابر بھی اپنی بڑائی کا احساس پایا جائے تو خدا سے اس کی نسبت ہی قائم نہیں ہوگی۔ اور جس آدمی کی نسبت خدا سے قائم نہ ہو، اس کا حال یہ ہوگا کہ وہ معرفت کا لفظ بولے گا لیکن وہ معرفت سے کلی طور پر بے خبر رہے گا۔ حقیقی تواضع کی پہچان یہ ہے کہ آدمی کا حال یہ ہو جائے کہ تعریف اس کو خوش نہ کرے اور تنقید سے اس کو ناگواری نہ ہو۔

جس آدمی کے اندر حقیقی تواضع نہ ہو، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں۔ اس قسم کا احساس اس کے لیے خدا سے تعلق قائم کرنے میں حتمی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سوکھی ہوئی زمین میں پانی ڈالا جائے تو وہ اس کو پوری طرح جذب کر لے گی؛ اس کے برعکس گیلی زمین پانی کا ایک قطرہ بھی جذب نہیں کرے گی۔ متوازن انسان، modest man، اس قابل ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والے معرفت کے فیضان یعنی inspiration کو پوری طرح قبول کرے۔

اس کے برعکس جس آدمی کے اندر کامل تواضع نہ ہو، اس کا حال یہ ہو جائے گا کہ وہ معرفت کے فیضان inspiration کو قبول کرنے کے لیے اس کا آخذ، recipient نہ رہے گا؛ وہ معرفت کی بارش کے ماحول میں بھی معرفت سے محروم رہے گا۔ کتاب معرفت الہی، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 28۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.