Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Marifat-e-Ilaahi
Marifat-e-Ilaahi

Jannat-e-qareeb,Jannat-e-bayeed.

Urdu · 3 min

جنتِ قریب، جنتِ بعید۔ قرآن کی سورہ القمر میں اہلِ جنت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ فِي مَقَعَدٍ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ سورہ نمبر 54، آیت 55۔ یعنی بے شک اللہ سے ڈرنے والے لوگ باغوں میں اور نہروں میں ہوں گے، بیٹھے ہوئے سچائی کی سیٹ پر، قدرت والے بادشاہ کے پاس۔ قرآن کی اس آیت اور دوسری آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کے دو درجے ہیں: ایک جنتِ قریب اور دوسری جنتِ بعید۔

جنتِ قریب خدا کے پڑوس میں ہوگی؛ یہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جو اعلیٰ معرفت والے لوگ ہوں گے۔ جنتِ بعید سے مراد خدا کے پڑوس سے دور کی جنت ہے۔ اس جنت میں عام اہلِ ایمان کو جگہ ملے گی۔ عام اہلِ ایمان بھی جنت میں جگہ پائیں گے، لیکن ان کو جنتِ بعید میں جگہ ملے گی، نہ کہ جنتِ قریب میں۔

اعلیٰ معرفت والے لوگ وہ ہیں جن کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ سورہ نمبر 2، آیت 165۔ یعنی جو ایمان والے ہیں، وہ سب سے زیادہ محبت اللہ سے رکھنے والے ہیں۔ یہ وہ اصحابِ معرفت ہیں جنہوں نے اللہ کو ایسی برتر ہستی کے طور پر دریافت کیا جو کامل طور پر ان کے دل و دماغ پر چھا گیا۔ ان کی ساری محبتیں ایک اللہ کے لیے وقف ہو گئیں۔

اللہ وحدہ لا شریک ہی ان کا سب سے بڑا کنسرن، سپریم کنسرن بن گیا۔ ان کی سوچ تمام تر اللہ والی سوچ، گاڈ اورینٹڈ تھنکنگ بن گئی۔ جن لوگوں کو اللہ سے محبت کے درجے کا تعلق ہو جائے، وہ اللہ کے حضور، یعنی پریزنس میں جینے لگتے ہیں۔ ان کو دنیا ہی میں اللہ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے۔

ایسے لوگوں کو دنیا میں یہ قربت، کلوزنس، نفسیات کی سطح پر ملتی ہے۔ آخرت میں ان کو قربت کا یہ تجربہ عملی سطح پر ہونے لگے گا۔ وہ دنیا ہی کی زندگی میں خدا کی قربت کا تجربہ کر رہے تھے، آخرت میں انہیں قربتِ الہی کے مزید اعلیٰ درجات حاصل ہو جائیں گے۔ کتاب معرفت الہی، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 23۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.