انسانی تاریخ کا شاید سب سے بڑا المیہ، یعنی ٹریجڈی، یہ ہے کہ انسان معرفتِ اعلیٰ کے حصول سے محروم رہا۔ خدا کی معرفت کا ذریعہ خدا کی تخلیقات میں غور و فکر کرنا ہے۔ جدید سائنسی دور سے پہلے انسان تخلیقاتِ الٰہی کے بارے میں بہت کم جانتا تھا، چنانچہ قدیم زمانے میں معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنے کے لیے فریم ورک ہی موجود نہ تھا۔ موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کے بعد انسان کو اعلیٰ فریم ورک حاصل ہوا، جس کی پیشگی خبر قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: سَنُرِيهِمْ آَيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ.
سورہ نمبر 41، آیت 53۔ لیکن موجودہ زمانے میں جب یہ آفاقی یا سائنسی فریم ورک ظہور میں آیا تو عین اسی وقت تمام دنیا کے مسلمان سیاسی ردِعمل کے نتیجے میں منفی سوچ کا شکار ہو گئے۔ اس طرح وہ مثبت سوچ سے محروم رہے۔ قدیم زمانے کے انسان کے لیے سائنسی فریم ورک نہ ہونے کی بنا پر معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنا مشکل تھا۔
موجودہ زمانے میں سائنسی فریم ورک کے ظہور کے باوجود انسان معرفتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچا، اور اس کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانے کا انسان مثبت سوچ سے محروم ہو گیا۔ یہ بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی محرومی تھی۔ اللہ کی معرفتِ اعلیٰ، اللہ کی معرفتِ اعلیٰ، کسی انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ معرفتِ اعلیٰ تک پہنچ سکے، لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو منفی سوچ سے مکمل طور پر بچائے۔
وہ ہر حال میں مثبت سوچ میں جینے والا بنے۔ جو لوگ اس شرط کو پورا کریں، وہ یقیناً معرفتِ اعلیٰ تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ تاریخ کا المیہ ہے کہ بیشتر انسان کسی نہ کسی بات کو لے کر منفی سوچ کا شکار ہو گئے۔ وہ مثبت سوچ، یعنی پازیٹو تھنکنگ، پر قائم نہ رہ سکے۔
اس بنا پر وہ معرفت کا ویایہ، یعنی کنٹینر، نہیں بنے۔ معرفتِ اعلیٰ سے محرومی کی یہی سب سے بڑی وجہ ہے۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.