Maulana Wahiduddin Khan
9 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

ایمان بالغیب

Urdu · 9 min

قرآن کی سورہ البقرہ میں ارشاد ہوا ہے: "الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ" سورہ نمبر 2، آیت 3۔ یعنی ہدایت یاب لوگ وہ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ غیب پر ایمان کا معاملہ سادہ طور پر صرف عقیدے کا معاملہ نہیں ہے؛ وہ براہِ راست طور پر ہدایت کے معاملے سے جڑا ہوا ہے۔ جس آدمی کے اندر ایمان بالغیب کی صفت ہو، اسی کو ہدایت ملے گی۔

جو آدمی ایمان بالغیب کی صفت سے محروم ہو، اس کو کبھی ہدایت ملنے والی نہیں۔ جب تمام حقیقتیں غیب میں ہوں، تو اعلیٰ حقیقت کی دریافت کا معاملہ اس سلسلے میں استثنا، یعنی exception، نہیں ہو سکتا۔ غیب کا لفظ عربی زبان میں صرف غیر مشہود، یعنی unseen کے معنی میں نہیں ہے؛ غیب کا لفظ ایسی چیز کے لیے بولا جاتا ہے جو اگرچہ غیر مشہود ہو، مگر وہ غیر موجود نہ ہو۔ یعنی جب ایک چیز موجود ہوتے ہوئے دکھائی نہ دے، تو اس کے لیے غیب کا لفظ بولا جائے گا۔

اللہ کا معاملہ یہی ہے: اللہ اگرچہ بظاہر غیب میں ہے، مگر بااعتبار حقیقت، وہ تمام موجود چیزوں سے زیادہ موجود ہے۔ اس آیت میں ایمان بالغیب سے اصلًا "ایمان باللہ" مراد ہے، مگر تبان اس میں وہ تمام متعلقاتِ ایمان شامل ہیں جن پر ایک مومن کے لیے ایمان لانا ضروری ہے، مثلاً وحی، ملائکہ، جنت اور جہنم وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ ہم چیزوں کو دو طریقوں سے جانتے ہیں: ایک مشاہدہ، یعنی observation، اور دوسرا استنباط، یعنی inference۔ سائنسی اعتبار سے یہ دونوں طریقے یکساں طور پر معتبر ہیں۔

اعتباریت، یعنی validity، کے لحاظ سے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ موجودہ زمانے میں سائنس کو علمی مطالعے کا ایک معتبر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ سائنس کے دو حصے ہیں: ایک ہے نظری سائنس، یعنی theoretical science، اور دوسرا ہے فنی سائنس، یعنی technical science۔ سائنسی مطالعے کے مطابق فنی سائنس کا دائرہ بہت محدود ہے۔

فنی سائنس کے ذریعے چیزوں کے صرف ظواہر، یعنی appearance، کو دیکھا جا سکتا ہے، لیکن تمام چیزیں جو بظاہر دکھائی دیتی ہیں، وہ اپنے آخری تجزیے میں غیر مری، یعنی unseen ہو جاتی ہیں۔ مثلاً آپ پھول کو دیکھ سکتے ہیں، لیکن پھول کی خوشبو کو آپ نہیں دیکھ سکتے۔ پھول کی خوشبو کو کسی بھی خوردبین، یعنی microscope، یا دوربین، یعنی telescope، کے ذریعے دیکھنا ممکن نہیں۔ حالانکہ جس طرح پھول کا وجود ہے، اسی طرح پھول کی خوشبو کا بھی وجود ہے۔

سائنسی مطالعے کے مطابق تمام چیزیں آخرکار ایٹم کا مجموعہ ہیں، اور ایٹم اپنے آخری تجزیے میں الیکٹران کا مجموعہ ہے۔ ایک سائنسدان نے اس حقیقت کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پوری کائنات ناقابلِ مشاہدہ الیکٹران کا مجنونانہ رقص، یعنی mad dance of electrons ہے۔ ایک اور سائنسدان نے کائنات کی اسی غیر مری حیثیت کی بنا پر کائنات کو امکان کی لہروں، یعنی waves of probability، سے تعبیر کیا ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا درست ہوگا کہ صرف بظاہر غیر مشہود خالق، یعنی creator، ہی غیب میں نہیں ہے، بلکہ بظاہر مشہود تخلیق، یعنی creature، بھی حالتِ غیب میں ہے۔

برٹش سائنسدان سراتھر ایڈنگٹن، وفات 1944، نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: "Science and the Unseen World" بائی اے ایس ایڈنگٹن، مکملًا 1922-1929، pages 91۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہم جن چیزوں کو دیکھتے ہیں، ہم ان کے صرف ظاہر کو دیکھتے ہیں۔ چیزوں کی اصل حقیقت ہمارے لیے پھر بھی غیر مشہود رہتی ہے۔

یہی معاملہ خدا کا ہے۔ خدا اپنی ذات کے اعتبار سے بظاہر غیر مشہود ہے، لیکن اپنی تخلیق کے اعتبار سے خدا ہمارے لیے مشہود بن جاتا ہے۔ تخلیق کا موجود ہونا اپنے آپ میں خالق کے موجود ہونے کا ثبوت ہے۔ کائنات اتنی زیادہ بامعنی، یعنی meaningful، ہے کہ خالق کو مانے بغیر اس کی توجیہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔

اللہ رب العالمین کا حالتِ غیب میں ہونا ایک اعتبار سے امتحان، یعنی test کی مصلحت کی بنا پر ہے۔ اللہ اگر عیانًا دکھائی دے تو امتحان کی مصلحت ختم ہو جائے گی۔ اللہ غیب میں ہے، اسی لیے اس پر ایمان ہمارے لیے ایک امتحانی پرچہ، یعنی test paper ہے۔ اللہ اگر شہود میں ہوتا تو اس پر ایمان لانا انسان کے لیے اس کے امتحان کا پرچہ نہ بنتا۔

اللہ کا اور اس سے متعلق ایمانیات کا غیب میں ہونا انسان کے لیے ایک عظیم نعمت کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی کی وجہ سے انسان کے ذہن میں غور و فکر کا عمل، یعنی process of thinking، جاری ہوتا ہے۔ اسی کی بنا پر ایسا ہے کہ ہمارے لیے تدبر کا ایک کبھی نہ ختم ہونے والا میدان موجود ہے۔ اسی بنا پر ایسا ممکن ہوتا ہے کہ ہم اللہ کو دریافت، یعنی discovery، کے درجے میں پائیں۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہے کہ خدا کی معرفت ہمارے لیے ایک خود دریافت کردہ حقیقت، یعنی self-discovered reality ہو۔

اور بلاشبہ یہ ایک واقعہ ہے کہ خود دریافت کردہ حقیقت سے زیادہ بڑی کوئی اور چیز اس دنیا میں نہیں۔ اللہ کا اور اس سے متعلق ایمانیات کا انسان کے لیے غیب میں ہونا، انسان کے لیے ذہنی ارتقاء، یعنی intellectual development، کا ایک لامتناہی ذریعہ، یعنی endless source، کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہدایت کے لیے ایمان بالغیب کی شرط کوئی تحکمی، یعنی arbitrary، شرط نہیں ہے، بلکہ وہ انسان جیسی مخلوق کے لیے ایک نہایت معقول شرط ہے۔ کسی بھی بڑی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہمیشہ بیدار شعور، یعنی awakened mind، درکار ہوتا ہے۔

جس انسان کا شعور بیدار ہو، وہی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ کسی بڑی حقیقت کو سمجھ سکے۔ خدا بلاشبہ سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس لیے خدا پر ایمان، یا خدا کی معرفت، حقیقی طور پر صرف اس انسان کو حاصل ہوگی جو مطالعہ اور غور و فکر کے ذریعے اپنے شعور کو بیدار کر چکا ہو۔ جس انسان کا شعور بیدار نہ ہو، وہ گویا ذہنی اندھے پن، یعنی intellectual blindness، میں مبتلا ہے۔

اور بلاشبہ ذہنی اندھے پن کے ساتھ خداوندِ عالم کی معرفت کسی انسان کو نہیں مل سکتی۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.