Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Ma'rifat-e-Qur'an
Ma'rifat-e-Qur'an

معرفتِ قرآن

Urdu · 6 min

قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں جن میں فطرت کے مظاہر کا حوالہ دیا گیا ہے، مثلاً پہاڑ کا حوالہ، بارش کا حوالہ، وغیرہ۔ ان حوالوں کو علمی زبان میں "مظاہرِ فطرت" یعنی phenomena of nature کہا جاتا ہے، مگر یہ حوالے اشارے کی زبان میں ہیں؛ ان کی تفصیلی واقفیت کے لیے ضروری ہے کہ ان کو انسان کی دریافت کردہ معلومات کی روشنی میں سمجھا جائے۔ اس حیثیت سے، انسانی تحقیق کے ذریعے ان فطری مظاہر پر جو دریافتیں ہوئی ہیں، وہ دریافتیں قرآن کی تفسیر کے لیے عملی ضرورت کے اعتبار سے اسی طرح اہم ہیں جس طرح تفسیرِ قرآن کے دوسرے متفقہ مصادر، مثلاً شانِ نزول کی روایتیں، وغیرہ۔ اس سلسلے میں یہاں قرآن کی دو آیتیں قابلِ مطالعہ ہیں۔

وہ آیتیں یہ ہیں: وَأَنْ أَتْلُوَ الْقُرْآنَ فَمَنِ اهْتَدَى فَإِنَّمَا يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَقُلْ إِنَّمَا أَنَا مِنَ الْمُنْذِرِينَ وَقُلِ الْحَمْدُ لِلَّهِ سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا وَمَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ سورہ نمبر 27، آیت 92 تا 93۔ یعنی: "اور یہ کہ میں قرآن کو سناؤں، پھر جو شخص راہ پر آئے گا تو وہ اپنے لیے راہ پر آئے گا، اور جو گمراہ ہوا تو کہہ دو کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں۔ اور کہو کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے۔ وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم ان کو پہچان لو گے، اور تمہارا رب اس سے بے خبر نہیں جو تم کرتے ہو۔

" قرآن کے اس بیان پر غور کرنے سے سمجھ میں آتا ہے کہ یہاں قرآن کی معرفت کا ایک اصول بیان کیا گیا ہے۔ قرآن میں بہت سی آیتیں ہیں جن میں فطرت کے مظاہر کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ ذکر اشاراتی زبان میں ہے۔ ان مظاہرِ فطرت میں جو معرفت کی بات موجود ہے، اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان اشارات کی تفصیل معلوم کی جائے۔

یہ تفصیل خود قرآن میں مذکور نہیں، وہ فطرت کے خارجی علم کا سائنسی مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتی ہے۔ گویا کہ فطرت کا علم، ان آیتوں کو سمجھنے کے لیے، ان کی سائنسی تفسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا میں ضمیر "ہا" کا مرجع "آیات" ہے۔ یہاں "آیات" سے مراد وہ تائیدی معلومات، یعنی supporting data ہیں، جو مستقبل میں سائنسی مطالعے کے ذریعے دریافت ہوں گی۔

اور قرآن کی آیت میں جو چیز اشارے کی زبان میں کہی گئی ہے، اس کو انسان تفصیل کی زبان میں جان لے گا۔ قرآن کی اس آیت میں "سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ" سے مراد قرآنی بیان کا وہ supporting data ہے جو بعد کو دریافت ہوگا۔ اور "فَتَعْرِفُونَهَا" کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی بیان کردہ نشانیوں سے معرفت کے درجے میں واقف ہو جانا۔ مثلاً اس سلسلہ بیان میں اوپر کی آیت میں پہاڑ کے بارے میں یہ کہا گیا ہے: "اور تم پہاڑوں کو دیکھ کر گمان کرتے ہو کہ وہ جمے ہوئے ہیں، مگر وہ چل رہے ہیں جیسے بادل چلتے ہیں۔

" یہ اللہ کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو محکم کیا ہے۔ بے شک وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔ سورہ نمبر 27، آیت 88۔ یہ آیت قرآن میں 7ویں صدی عیسوی میں نازل ہوئی۔

اس آیت میں پہاڑوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بظاہر وہ پہاڑ زمین پر ساکن نظر آتے ہیں، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ زمین کے ساتھ چل رہے ہیں، جس طرح تم بادلوں کو چلتے ہوئے دیکھتے ہو۔ یہ ایک فطرت، یعنی nature کا واقعہ ہے، لیکن 7ویں صدی میں انسان اس کو نہیں جانتا تھا۔ بعد کو فلکیاتی مطالعے سے معلوم ہوا کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو زمین کی اپنے محور، یعنی axis، پر گردش کرنے سے پیش آتا ہے۔ گویا موجودہ زمانے کی یہ فلکیاتی دریافت، قرآن کی آیت کو معرفت کے درجے میں قابلِ فہم بنا دیتی ہے۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.